بھارت: نو بلین ڈالر کی عالمی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک نےاس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو ترقیاتی کاموں کے لیےنو بلین ڈالر یعنی پانچ ملین پونڈ کی رقم بطور امداد فراہم کرے گا۔ تین سال کے دورانیہ پر محیط یہ امداد بھارت میں مختلف منصوبوں کی تکمیل میں مدد فراہم کرے گا جن میں سڑکوں کی مرمت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ عالمی بینک کےصدر پال ولفوٹس جو ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم سے دو سو پچاس ملین لوگوں کو غربت کی لکیر سےاوپر لانے میں مدد ملے گی۔ اگرچہ اس وقت بھارت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے مگر اس کے باوجود بھارت کے ایک شخص کی اوسط آمدن ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔ عالمی بینک کی فراہم کردہ اس رقم کو خصوصًا بھارت کے دیہاتوں میں خرچ کیا جائے گا جہاں صورت حال بہت مخدوش ہے۔ عالمی بینک کےصدر پال ولفوٹس کہناہے کہ دنیا کے چوتھائی غریب لوگ اب بھی بھارت میں رہتے ہیں اور ان کی اکثریت دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں صورت حال میں بہتری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہاں کا معاشی ڈھانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال کی بہتری کے لیےابھی بہت سے کام ایسے ہیں کے جن کا کیا جانا ضروری ہے۔ بھارت کی حکومت دیہاتوں کی حالت زار کو بہتربنانے کے لیے مختلف منصوبوں پرتقریبا چالیس بلین ڈالر کی رقم خرچ کر رہی ہے۔ ان منصوبوں میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کی فراہمی، ٹیلی فون اور گھروں کی تعمیر کے لیے امداد کی فراہمی بھی شامل ہیں۔ من موہن سنگھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان علاقوں پر حکومت اس سال چھ بلین ڈالر خرچ کرے گی۔ اس سلسلے میں حکومت نے بعض اقدامات بھی اٹھائے ہیں اور گزشتہ ہفتے گزشتہ سال عالمی بینک نے بھارت کو دواعشاریہ نو بلین ڈالر کی امداد دی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||