میرا انڈیا: ’اردو صحافت زندہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جالندھر میں قائم ہندسماچار اخبار کے مدیران کو پچھلے چند سالوں سے عجیب پریشانی لاحق ہے۔ اپنے اخبار کی ڈیسک کے لیے نوجوان اردو دان افراد کو مقامی طور پر دستیاب نہ پاکر انہیں اتر پردیش، بہار، دلی اور جموں و کشمیر جیسی ریاستوں سے درآمد کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح سے مطالعے کے حوالے سے ان دنوں جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں جاری ایک تحقیق کے مطابق اردو بولنے والی ریاستوں کی کئی لائبریریوں میں اردو کی کسی کتاب کا اجراء کئی کئی دنوں بعد بھی نہیں ہوتا ہے۔ اس کے بولنے والوں کی تعداد بتدریج گھٹ رہی ہے حالانکہ سرکاری اعدادوشمار (اگر صحیح ہیں) اسکے برعکس اشارے دیتے ہیں۔ واقعتاً دیکھا جائے تو لسانی اعتبار سے دو ہی زبانیں ہندستانی آبادی کی اکثریت کو باہم مربوط رکھے ہوئے ہیں، یعنی انگریزی اور اردو۔ مسلمانوں کی زبان کہلانے والی اردو کو فارغ البال طبقے نے تو چھوڑ ہی دیا ہے اور لے دے کے یہ سکڑ سمٹ کر مسلمانوں کے پسماندہ طبقوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے حالانکہ غیر مسلموں میں اس کے مداحوں کی تعداد کم نہیں۔
کیا ہندستان کی اردو صحافتی صنعت واقعی روبہ زوال ہے؟ اشاعتی عداد و شمار کی بات کریں تو وہ معاملے کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ غیر سرکاری ادارے آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کے مطابق اردو روزناموں کی تعداد اور تعدادِ اشاعت دونوں لگاتار گھٹ رہی ہے۔ اس ادارے کے بقول 1977 میں اردو اخبارات کی تعداد اشاعت 1.28 لاکھ تھی او 1994 میں گھٹ کر 1.13 لاکھ رہ گئی جو اور بھی گھٹتی جا رہی ہے۔ تاہم سرکاری ادارے ریجیسٹرڈ پریس آف انڈیا کے اعدادو شمار ایک اور ہی ناقابلِ یقین کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس کے مطابق اردو اخبارات کی تعداد پچھلے بیں سالوں سے نہ صرف بڑھ چکی ہے بلکہ باقی زبانوں کے مقابلے میں اردو صحافت کے ارتقاء کے تناسب میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جہان 1974 میں یہ تعداد 4 لاکھ تھی وہیں 1996 میں بڑھ کر 15لاکھ ہو چکی ہے یعنی 275 فیصد اضافہ۔ مذکورہ ادارے کے مطابق 1000 اردہ بولنے والوں میں 30 افراد اردو اخبار پڑھتے تھے اور جبکہ باگالی یا تامل زبانیں بولنے والوں میں یہ شرح 20 فی ہزار تھی۔ اردو پریس کو قریب سے جاننے والے نقادوں کا ماننا ہے کہ اردو صحافت قارئین کو جذباتی حدود کی طرف دھکیل رہی ہے، ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے جذبات برانگیخت کرنے والا معلوم ہو۔ ان حالات میں جب اردو پہلے ہی نچلے طبقے کی زبان بن کر رہ گئی ہےظاہری سے بات ہے کہ یہ اشتہاری دنیا کے لیے کسی دلچسپی کا باعث ہی نہیں ہے۔ جب انگریزی جریدے انڈیا ٹوڈے نے اردو میں اپنی اشاعت کا فیصلہ کیا تو ان کے اردو مدیران نے یہ کہہ کر کہ بھارت میں اردو کے قارئین قومی دھارے سے الگ سوچ رکھتے ہیں، مزکورہ جـریدی کے مالکان کے حوصلے پست کر دئیے۔ نتیجہ یہ ہوا کے اردو زبان میں شائع ہونے والا ایک قومی جریدے کا خواب دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اس ساری صورتِحال میں سرکار کا کیا رول ہے؟ صاحبِ اقتدار لوگ اردو صحافیوں کی خاطر تواضع خوب کرتے ہیں۔ وجہ مسلم ووٹ بینک۔
ملک کے 11 فیصد ووٹرز کو کھونے کا مول کوئی بھی سیاسی جماعت (بشمول بی جے پی) نہیں لے سکتی۔ نسخہ سیدھا ہے، 15 کروڑ مسلمانوں کی فلاح وبہود کی لیے کچھ کرنے کی بجائے چند ایک درجن صحافیوں کو خوش کیا جائے۔ اردو اخباروں میں چھپے مواد کو چونکہ اکثریتی طبقہ کے لوگ نہیں پڑھتے ہیں اس لیے کسی کے لیے بھی اردو اخبارات کے ذریعے اپنے مقاصد کا حصول کافی آسان ہے۔ اس صورتحال کے باوجود چند کامیاب مثالیں بھی موجود ہیں۔ حیدرآباد دکن کا روزنامہ ’سیاست‘ اور دہلی سے شائع ہونے والا ہفتہ روزہ جریدہ ’نئی دنیا‘ اردو صحافت کی کامیاب کہانیاں ہیں۔ مذکورہ دونوں پرچے بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھالتے گئے اور آخر کامیابی ان کا مقدر بن گئی۔ اردو مسلمان اقلیتیوں کی زبان ہے اور وہ بھی غریب اور پسماندہ مسلمانوں جن کی قوتِ خرید مستحکم نہیں اور جو نہ ہی بازار پر اپنا کوئی اثر رکھتے ہیں لیکن اس سب خامیوں کے ساتھ اردو صحافت زندہ ہے ، رواں ہے، خالص اپنے قارئین کے بل بوتے پر۔ جو شاید اس زبان کے زندہ ہونے کی زندہ مثال اور اس کے لافانی کردار کی عکاس بھی ہے۔ نوٹ: ان دنوں انڈیا میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی کیمپین ’اردو آن لائن‘ جاری ہے۔ احسان الحق چشتی کا یہ مضمون ہمیں انڈیا سے موصول ہوا ہے جو پونا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے سٹوڈنٹ ہیں اور یہ ان کے پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ اگر آپ بھی انڈیا کے حوالے سے کسی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں، آپ بیتی، تصاویر یا رائے بھیجنا چاہیں تو بائیں ہاتھ دیئے گئے ای میل فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||