BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 March, 2006, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضیاء بلاگ: کارٹون اور ناکام مصنّف

کارٹون اور ناکام مصنّف
کارٹون اور ناکام مصنّف

ضیا احمد ہمارے نئے بلاگر ہیں اور اپنا بلاگ کیفے حقیقت کے نام سے چلاتے ہیں۔ ان کی پرورش کراچی میں ہوئی، امریکہ میں تعلیم حاصل کی اور اب جنیوا میں رہتے ہیں۔ آپ ہر جمعرات کو ان کا نیا بلاگ پڑھ سکیں گے۔

جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔

میرا تعارف یہ ہے کہ میں سائنس فِکشن کا ناکام مصنّف ہوں۔ میری کامیابیوں میں ایک نامکمّل ناول اور آٹھ چھوٹی موٹی کہانیاں شامل ہیں۔ سب کو زمانے بھر کے مدیر مسترد کر چکے ہیں۔ جب ناول مسترد ہو، تو مصنّف کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کئی مہینوں کی محنت پر دنیا نے نہایت بےدردی سے تھوک دیا لیکن جب چند ہزار الفاظ کی کہانی مسترد ہوتی ہے، تو مصنّف یہ سوچ کر گزارا کرلیتا ہے کہ چلو، صرف ایک آدھ دن ہی ضائع ہوا۔

ناکام مصنّف ہونے کے ساتھ ساتھ میں نہایت کاہل بھی ہوں اور مصنّفی کاہلی کا عروج ہے۔’فِلیش فِکشن‘۔ یہ ایسی کہانی کا نام ہے جو زیادہ سے زیادہ ڈھائی سو الفاظ کی ہو۔ منٹ میں دو الفاظ بھی لکھیں تو دو گھنٹوں میں گرم گرم کہانی تیّار!

میری ایک فِلیش کہانی ایک نامعلوم نبی کے بارے میں تھی۔ نبی کے پاس ایک فرشتے صاحب آتے ہیں اور بوکھلائے ہوئے انداز میں انہیں خدا کا پیغام دے کر غائب ہوجاتے ہیں۔ کہانی میں کہیں بھی نبی کی جِنس ظاہر نہیں ہوتی اور آخری سطر میں پتا چلتا ہے کہ نبی ایک خاتون ہیں!

کل ہی میرے پاس ایک آسٹریلین رسالے کا پیغام آیا۔ مدیر نے معذرت کی کہ وہ اس کہانی کو قبول نہیں کرسکتے۔ آجکل جو کارٹونوں کے خلاف احتجاج چل رہا ہے ایسے حالات میں ان کے لیے خاتون نبی کے بارے میں کہانی چھاپنا مناسب نہیں۔ امّید ہے کہ میں سمجھ جاؤں گا۔

بھئی واہ! مصنّف تو کاہل ہوئے جارہے ہیں مگر مدیر کچھ زیادہ ہی چست۔ سیدھی طرح یہ کیوں نہیں کہتے کہ جناب، آپ کی کہانی آپ کی شکل کی طرح نہایت ہی بھونڈی ہے۔ برائے مہربانی ہمارا قیمتی وقت برباد نہ کریں۔

اب مدیر کو کیسے سمجھاؤں کہ فرضی خواتین نبیوں کا کارٹونوں سے کوئی تعلق نہیں۔

آپ کا ردًِعمل

نعمان احمد، راولپنڈی:
آپ کے لیے نوابزادہ نصراللہ مرحوم کا ایک مصرع پیش ہے کہ’ کیا عجب لوگ ہیں ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں‘۔ ہم اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں تو ہیں مگر کسی کے جذبات سے کھیلنے کی آزادی آپ کو کس نے دی ہے؟

عامر بلوچ، پاکستان:
پہلے وہ فلیمنگ روز کم تھا اس دنیا کا سکون تہہ و بالا کرنے کے لیے کہ اب آپ نے طبع آزمائی کا ارادہ کر لیا ہے۔ جو مضمون آپ نے اپنی فلیش فکشن کے لیئے منتخب کیا ہے وہ کوئی نیا نہیں۔

شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات:
ضیا صاحب عجیب وغریب بلاگ لکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نہ مدیر مسترد کرے اور ہم بھی خوش ہوں۔ خود کو پتا بھی چل گیا ہے کہ ناکام مصنف ہیں پھر بھی کوشش جاری ہے۔ تیمور صاحب کا مشورہ بالکل ٹھیک ہے کہ لگے رہو کبھی تو آپ کا وقت بھی آئے گا۔

عالم:
کیا آپ رسالت کے علاوہ کسی موضوع کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے۔ پیارے ادیب، رسالت تین بڑے مذاہب کی تعلیمات کا اہم ترین جزو ہے۔ براہِ مہربانی اس کا مذاق مت اڑاؤ۔

چوہدری عظمت، پاکستان:
آپ کی کہانی نہ چھاپ کر اسٹریلوی رسالے نے عقلمندی کا ثبوت دیا ہے۔

فتح عالم، فرانس:
جناب ضیا صاحب، اچھے لکھنے والوں کو اگر یہاں موقع مل بھی جائے تو ہمارے معزز قارئین جب تک کفر کا فتویٰ نہ لگا دیں۔۔۔۔مسعود عالم، حسن مجتبیٰ نجانے کس کس نے یہ دیکھا۔۔۔۔۔

خلیل الرحمان چھاچھڑ، سکھر:
ہر ناکام مصنف پے رد پے ناکامیوں کے بعد اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے۔ لگتا ہے کہ آپ کا ارادہ سدھرنے کا نہیں۔ فکشن لکھنے کے لیے کیا کرداروں کی کمی ہے کہ ہم اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں سے چھیڑ خانی کریں۔ یہ مطالعہ محدود اور سوچ کے دائرے میں قید ہونے کی نشانی ہے۔ گھوم پھر کر ہماری تان مذہب پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے؟

عمران زاہد، لاہور:
میرے خیال میں نبیوں یا فرشتوں پر اس انداز میں کہانیاں لکھنے کا کویی جواز نہیں۔ آپ یا دوسرے موضوعات پر کہانیاں لکھیں یا بلاگ لکھنے کا کاروبار جاری رکھیں۔

محمد یوسف اقبال، دوبئی:
مجھے تو اپ کی ناکامی نطر نہیں آتی جس کا واضح ثبوت بی بی سی پر آپ کا بلاگ ہے۔ کوشش جاری رکھئے نہیں تو کہانی کی ایک ایک جلد مفت بانٹ دیجئے۔

غالب احمد، چیکوسلواکیہ:
میاں ضیا احمد، پاکستان والوں کے لیے بلاگ سپاٹ کے بعد اب کیا بی بی سی کی سائٹ بھی بند کرواؤ گے؟

امجد شیخ، ٹورنٹو:
جنابِ ضیا، یہاں ٹورنٹو، کینیڈا میں بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا جب ایک عورت کی امامت میں نماز پڑھائی گئی تاہم کسی نہ کسی طرح بہت سے لوگوں نے یہ نماز پڑھ لی۔ اب اگر ایک خاتون نبی کی وجہ سے کوئی آپ کی کہانی نہیں چھاپتا تو دل مت ہارئیے اور کوشش کرتے رہئے۔ صرف ایک بنگلہ دیش بنانے کی ضرورت ہوتی ہے پھر تسلیم تو لوگ کر ہی لیتے ہیں۔

ریاض احمد آفریدی، فیصل آباد:
بی بی سی والے اس پر تلے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے کہیں دوبارہ گستاخی ہو، پھر انہیں بڑا سنا اور دیکھا جاتا ہے۔ ضیا صاحب اپنی کہانی کو فرضی بھی قرار دیتے ہیں اور لوگوں کے جذبات سے بھی کھیلتے ہیں۔ خدا کے لیے ان چیزوں کو بند کریں کہ نبی کے متعلق جھوٹی کہانی لکھی جائے۔ ان سے اچھا تو آسٹریلوی مدیر تھا۔

تیمور، اسلام آباد:
جناب ضیا صاحب، جس اخبار نے کارٹون چھاپے، اس کی ڈور تو امریکہ میں بیٹھا ڈینیئل پرل ہلا رہا تھا، آپ کی ڈور کون ہلا رہا ہے؟

معد عالم:
میں خاتون نبی کے بارے میں آپ کی کہانی پڑھنا چاہوں گا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ چوک ڈاٹ کام میں لکھتے ہیں، سو اگر بی بی سی اردو پر آپ کی کہانی نہیں شائع ہوسکتی تو چوک پر کیوں نہیں؟

نظام، یو اے ای:
ضیا صاحب مدیر ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔ شاید آپ یوروپین کمیونٹی میں رہتے رہتے ان جیسے ہوگئے ہیں۔ آپ کی کہانی اسلامی عقائد سے متصادم ہے۔

تیمور، اسلام آباد:
لگے رہو، بھائی، لگے رہو۔ ایک دن تم بھی شاہِ لٹریچر قرار پاؤ گے۔ دن ہو یا رات، اپنا انداز مت بدلو۔

حیدر حسین، کراچی:
بی بی سی سے التماس ہے کہ بے مقصد بلاگ شائع کرنا بند کریں۔

صبور رحمان، پاکستان:
بہت اچھے۔

احمد بلال، کراچی:
کیا آپ کی اعلیٰ ذہانت آپ کے کسی اور کام نہیں آسکتی تھی؟ کیا نبی عیسائی، یہودی اور مسلمان سب کے لیے قابلِ احترام نہیں ہیں؟ یہ بلاگ بھی مکمل نہیں لگتا، نہ سر ہے نہ پیر، آپ ایک نئے اور جوان حسن مجتبیٰ لگ رہے ہیں۔

حسیب، لیاری:
واہ واہ، خوش رہئے، چھڑتے رہئے عقل کے اندھوں کو۔

ہارون عباسی، راوالپنڈی:
ازراہِ کرم مشتاق احمد یوسفی کو پڑھئے اور اپنی اصلاح کیجئے۔

اظہر الحق نسیم، شارجہ:
بہت اچھے ضیا، آپ کے ’فکشن‘ کا ’ری ایکشن‘ بہت اچھا ہے، اس سے کافی لوگوں کو کوریکشن کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ عالمِ اسلام کو جلد ہی سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے مزید مصنفوں کی خدمات حاصل ہوجائیں گی۔

کاشف عمران، لاہور:
میرے بھائی، آپ ادیب لوگوں کا دماغ کیوں خراب ہوتا ہے؟ بے تکی باتیں کرنا کوئی آپ سے سیکھے؟ چار پیسوں کے لیے کچھ بھی کرجاتے ہیں؟ آپ ایسے موضوعات پر کیوں لکھتے ہیں جس کی آپ کو سینس نہیں۔

عطا شاہ، پاکستان:
ضیا احمد، یہ صرف وقت کا ضیاع کرنے کی حرکتیں ہیں۔

نوید افتخار، کیلیفورنیا:
لگتا ہے کہ صرف متنازع موضوعات پر لکھنا آپ کی لمیٹیشن ہے۔ میرا خیال ہے کہ اپ کو بطورِ ادیب کوئی تخلیقی کام کرنا چاہئے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ سستی شہرت کی تلاش میں ہیں۔

محمد علی خان، پاکستان:
چند ٹکوں کے لیے اپنے دینِ متین سے مذاق مت کریں۔ فرشتہ بوکھلا نہیں سکتا، امید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔

جاوید شیخ، سرگودھا:
اپنے آپ کو ایک متنازعہ ادیب کے طور پر پیش کرکے توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے کا یہ انتہائی گھٹیا طریقہ ہے۔ کیا یہ بی بی سی پر شائع ہونا چاہیے تھا؟ آخر کیا وجہ تھی کہ بی بی سی نے اس کا انتخاب کیا؟

ثناء اللہ خٹک، پاکستان:
ضیا صاحب کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا؟

اپنا اقتباس ہمیں بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’کیا پیرس میں کینگرو ہوتے ہیں؟‘
حسن کا نیا بلاگحسن کا نیا بلاگ
’دشمن مرے خوشی نہ کریئے، کل سجناں وی۔۔‘
حسن کا نیا بلاگنیا بلاگ وسعت کا
نام کچھ اور ہوتا تو شاید قسمت بھی مختلف ہوتی
حسن مجتبٰییہ اسلام نامے
اوشا، ریما اور رینا سے ندا، افشا اور انعم تک
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد