وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
ھاں میں گنجا ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔گنج وہ خزانہ ہے جو ہر کسی کے ہاتھ نہیں آ سکتا۔ جو نادان گنجے اسے کوئی عیب سمجھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھر وگ ، گرافٹنگ یا طرح طرح کی بال اگاؤ ادویات استعمال کرکے خود فریبی کا شکار بنتے ہیں، وہ کیا جانیں کہ اس ایلیٹ کلب میں کیسے کیسے لوگ شامل ہیں۔ وہ بے خبر ہیں اس راز سے کہ تاریخ کے ہر سنگِ میل پر ایک گنجا موجود ہے۔ جارج واشنگٹن ، لینن، اتاترک، چرچل،گاندھی اور آئت اللہ خمینی جیسے مشاہیر۔ظاہر شاہ، جومو کنیاٹا، نہرو، پٹیل، لیاقت علی خان، آئزن ہاور، میخائیل گوربچوف، فرانسوامتراں، انور سادات، مینہم بیگن، شاہ حسین، ایتزاک رابین، یاسر عرفات، زوالفقار علی بھٹو، غلام اسحاق خان سے لے کر نوابزادہ نصراللہ خان تک، پرنس کریم آغا خان سے لے کر گل جی اورعبدالستار ایدھی تک، فیض احمد فیض سے لے کر امجد اسلام امجد تک، الفرڈ ہچکاک، کوجک (ٹیلی سلواس)،مہیش بھٹ، انوپم کھیر، اداکار محمد علی، رفیع خاورننھا، مصطفے ٹنڈ اور ببو برال تک، میرے ساتھی شفیع نقی جامعی اور مسعود عالم سے لے کر انوار الحسن تک بھلا ایسا کونسا گنجا ہے جو سیاست، سماجی خدمت، فنونِ لطیفہ ، ادب اور صحافت سمیت کسی بھی شعبے کے لئے باعثِ شرمندگی ہو۔ اگر آپ یہ کہیں کہ گنجا ہونا اتنا ہی اچھا ہے تو پھر نواز شریف اور شہباز شریف نے پوری دنیا پراظہر من الشمس گنج چھپانے کے لئے ہئیر ٹرانسپلانٹیشن کا سہارا کیوں لیا۔ میرے پاس اس ممکنہ سوال کا اسکے علاوہ کوئی جواب نہیں کہ داتا گنج بخش کی نگری کے ان دونوں باسیوں نے ایسا کونسا غلط فیصلہ ہے جسے درست وقت پر کرنے میں کبھی دیر کی ہو۔ مقدورہوتوخاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے | | آپ کیا کہتے ہیں |  |
اعبدالوحید خان، برطانیہ: ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ، جب بھی دیکھو اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ۔قدرتی چہریں قدرت کے نظام سے چلیں تو اچھا ہے۔ وگ وغیرہ تو بالکل الگ ہے لیکن بال اگوانے میں کچھ برا نہیں اگر الرجی نہ ہو تو۔ کامران مطلوب، نامعلوم: اگر بیل کے سینگ کاٹ دو تو وہ بچھڑا نہیں بن جاتا، اسی طرح ہیئر ٹراسپلانٹ سے کوئی جوان نہیں ہوتا۔ سید علی، کینیڈا: گنجا ہونا فخر کی بات ہے کیونکہ یہ بھی اللہ کا کام ہے، نیچرل ہے سو ڈونٹ وری نور محمد، کراچی: میں ایک 27 سال کا گنجا ہوں اور اس کلب میں تین سال سے ہوں۔ ٹرانسپلانٹ کے لیئے ایک لاکھ روبپے چاہیئں جو میرے پاس ہیں نہیں۔ اور اگر ہوتے تو ضرور اپنی جوانی کا ڈھنڈورا گلی گلی پیٹتا۔ آپ نے جن دوسرے گنجوں کی بات کی اگر ان کے دور میں ٹرانسپلانٹ کی سہولت ہوتی تو وہ بھی اپنی گھنی چمکدار زلفوں کا راز سب کو بتا دیتے۔ علی اطہر، لاہور: ہم تو ٹھہرے گنجے بال کیا سنواریں گے۔ بابر ارشد، فیصل آباد: آپ کی احساسِ محرومی کا اندازہ اس کلام سے اچھی طرح ہوا۔ لیاقت علی، اسلام آباد: ہم کو معلوم ہے گنجوں کی حقیقت لیکن، دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ہاشم بختیاری، کوئٹہ: بہت خوب، وسعت اللہ خان۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آپ نے بہت ہی اچھے مضمون پر نہایت ہی دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔ کم از کم اب مجھے یہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا کہ میں بھی اہستہ آہستہ ’گنج‘ کو پا رہا ہوں۔ گل وہاب، پشاور: وسعت بھائی آپ ہئیر ٹرانسپلانٹ انڈسٹری کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ ہئیر ٹرانسپلانٹ کمپنیوں نے کتنی محنت کے بعد لوگوں میں اپنا نام بنایا ہے۔ عاثر جان، پاکستان: بھائی مان لی آپ کی زبان دانی۔ دعا ہے خدا گنجوں کو بڑے ناخن اور نوکیلی زبان نہ دے۔ اجمل میندھرانی، کراچی: وسعت میاں شریف بھائیوں کے بس میں فی الحال یہ ہی تھا سو انہوں نے کیا۔ محمد جنجوا، لاہور: گنجا ہونا کوئی بری بات نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ گنجے انسان سے اس کی ایک بہت بڑی نعمت چھن جاتی ہے جو کہ بال سنوارنا ہے اور چونکہ میرے بھی بال تھوڑے کم ہیں تو میں جانتا ہوں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔ گردن کو جھٹکا مار کر بال صحیح کرنے میں ایک اپنا ہی مزہ ہے جو ایک گنجا نہیں کر سکتا۔ اس لیے میرے خیال میں ہئیر ٹرانسپلانٹ کوئی بری بات نہیں بلکہ ایک اچھا عمل ہے۔ افتخار نواب، سنگاپور: احساس کمتری، اور کچھ بھی نہیں۔ نواز، سوئی: ہم تو خود گنجے ہیں، ہم کہتے ہیں گنجے سب سے اچھے ہیں۔ |