BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چالیس سال ہو چکے، کچھ نہیں بدلا‘
ہم جو تاریک راہوں میں۔۔۔۔


چودہ مارچ، رات گیارہ بجے، ’کچھ نہیں بدلا‘

قحط ختم نہیں ہوا حالانکہ آج چودہ تاریخ ہے۔

جی اس کا قحط سے کوئی تعلق نہیں یا شاید ہے بھی ہے۔ اس دن میں اس دنیا میں آیا تھا۔ آج مجھے یہاں آئے چالیس سال ہو چکے ہیں۔ کچھ نہیں بدلا۔ قحط وہیں کا وہیں ہے۔

ویسے میرے ساتھ چند اور لوگ بھی آئے تھے۔ کچھ تھوڑا پہلے اور کچھ بعد میں۔ جو مجھے یاد ہیں ان میں آئن سٹائن، عامر خان اور مائیکل کین شامل ہیں۔

اس دن ہی انڈیا میں بولتی فلم بھی آئی تھی۔ عجیب اتفاق ہے میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں اور فلم نے بولنا شروع کر دیا۔

آج ہی کے دن آج سے اٹھائیس سال پہلے اسرائیل کی فوجوں نے لبنان پر چڑھائی اور قبضہ کر کے نہ صرف دس ہزار لبنانیوں اور فلسطینیوں کو بے گھر کیا بلکہ دو ہزار کے قریب لوگوں کے لیے دنیا میں جگہ نہ رہی اور ان کو یہ جہان چھوڑنا پڑا۔ واہ میرا آنا۔

فلسطینیوں کی بد بختی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آج یعنی چودہ مارچ دو ہزار چھ کو اسرائیل نے فلسطینیوں پر چڑھائی کرنے کی سالگرہ کے طور پر جریکو پر چڑھائی کر کے ایک جیل پر قبضہ کر لیا ہے۔

چالیس سال ہو گئے پر کچھ نہیں بدلا۔


چودہ مارچ، شام ساڑھے پانچ بجے، ’یہ مجھے کس نے اٹھا دیا‘

میں کہاں تھا۔ یہ مجھے کس نے اٹھا دیا۔

ہاں، ہاں! میں میرے متعلق باتیں کر رہا تھا۔ سونے کے متعلق۔ سونے کے کتنے فائدے ہیں وہ تو کوئی سویا ہوا شخص ہی بتا سکتا ہے لیکن کئی لوگ نیند سے لڑتے ہیں اور سونے کو اتنا اچھا نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ یہ شاعر جو لکھتا ہے کہ ’جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے‘۔ (دونوں صورتوں میں)۔

آج کل میں سو رہا ہوں یا جاگ رہا ہوں میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن کل گبز، پونٹنگ اور سمتھ نے بولروں کی جو پٹائی کی اس سے تو میری ’آنکھیں ہی کھل گئیں‘۔

دیکھا میں نے کہا تھا نہ کہ میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کچھ بھی نہیں ہے/ یہ دل ہے کہ لگتا بھی ہے پر لگتا نہیں ہے۔ شاید بات نہیں بنی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ میرے پاس اب باتوں کا قحط ہے۔ ایک خلاء ہے۔ خلاء ہے اور قحط ہے۔ بھوک، قحط، خلاء۔

دیکھیں ایسا قحط پڑا کہ باتیں ہونے لگیں۔ اب آئندہ بات قحط پر ہو گی۔ لیکن ہو گی وہ بھی میری ہی۔


چودہ مارچ، سہ پہر چار بجے، ’آنکھیں بند ہو رہی ہیں‘

آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔۔۔
آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔۔۔


شفیقِ الرحمٰن نے لکھا تھا کہ ’آؤ ہم دونوں مل کر میرے متعلق باتیں کریں‘۔ کچھ اسی طرح کا مسئلہ اب میرے ساتھ بھی ہے۔ باتیں بہت ہیں، پر ہیں سب اپنے ہی بارے میں۔

میں خوش ہوں، میں غمگین ہوں، ڈرا ہوا ہوں، بہادری کا پیکر ہوں، عالم ہوں، جاہل، بڑا ہوں، چھوٹا ہوں، میں یہ ہوں، میں وہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ بس سب یہی ہے اور اس کا حل مجھے سر پر چادر تان کر سونے ہی میں نظر آ رہا ہے۔ بہت زیادہ سونے میں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اتنا سوؤں، اتنا سوؤں کہ سو سو کہ تھک جاؤں اور تھک کے پھر سو جاؤں۔ جیسے منہ پر زبان پھیرتی بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ یوں ہی میں بھی لحاف میں منہ لپیٹے دنیا سے، اس کی حقیقتوں سے دور جانا چاہتا ہوں۔ اگر لمبے عرصے کے لیئے نہیں تو تھوڑی دیر کے لیے ہیں سہی۔ آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

غفران حسین، نامعلوم:
آج کل ہم سب سو رہے ہیں اور بڑے بےخبر سو رہے ہیں۔ لیکن جب آنکھ کھلے گی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں پچھتانا پڑے، کیونکہ گیا وقت واپس نہیں آتا اور ہاں یاد رکھیں آنکھ جب کھلتی ہے جب بندہ دنیا سے جا رہا ہوتا ہے۔

قاضی، پاکستان:
لگتا ہے یہ عارف صاحب کی خواب کی بڑبڑاہٹیں ہیں جو لکھ دی گئی ہیں۔۔۔

سردار ہارون، پاکستان:
بہت بہت اچھے!

جان، پاکستان:
’لوگ سو رہے ہیں۔ جب مر جاتے ہیں تو اٹھ جاتے ہیں۔‘ نیند بھی موت کی ایک قسم ہے تو گویا سو کر آپ حقیقت کے پاس جانا چاہتے ہیں، تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح۔ خواب تو اقبال نے بھی دیکھے تھے، یہ الگ بات ہے کہ سننے والوں نے ان کی غلط تعبیر بتا دی۔ پر اس میں خواب اور اس کے دیکھنے والے کا کوئی قصور نہیں۔

نظام، دبئی:
شمیم بھائی سوتے ہوئے سوچنا چھوڑ دیں اور جب جاگ رہے ہوں تو سوچنے کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کی کوشش بھی کریں۔ کافی مشکلیں حل ہو جائیں گی۔

مہر افشان، سعودی عرب:
یہ نیند اور بے حسی کی کیفیت ہم سب پر چھائی ہوئی ہے۔ ہم جاگ بھی رہے ہوں تو لگتا ہے کہ ہم سوئے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے روز قیامت ہی جاگیں گے۔۔۔لیکن ’قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔۔۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
کالا پانی جیل، جزائر انڈمانحسن مجتٰبی کا بلاگ
برصغیر کی آزادی اور کالا پانی کے100 سال
ضیا احمد کا بلاگضیا احمد کا بلاگ
’کیا پیرس میں کینگرو ہوتے ہیں؟‘
وسعت بلاگوسعت بلاگ
’ایک سو پچیس کا گھوٹنا۔۔۔۔۔‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد