’چالیس سال ہو چکے، کچھ نہیں بدلا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قحط ختم نہیں ہوا حالانکہ آج چودہ تاریخ ہے۔ جی اس کا قحط سے کوئی تعلق نہیں یا شاید ہے بھی ہے۔ اس دن میں اس دنیا میں آیا تھا۔ آج مجھے یہاں آئے چالیس سال ہو چکے ہیں۔ کچھ نہیں بدلا۔ قحط وہیں کا وہیں ہے۔ ویسے میرے ساتھ چند اور لوگ بھی آئے تھے۔ کچھ تھوڑا پہلے اور کچھ بعد میں۔ جو مجھے یاد ہیں ان میں آئن سٹائن، عامر خان اور مائیکل کین شامل ہیں۔ اس دن ہی انڈیا میں بولتی فلم بھی آئی تھی۔ عجیب اتفاق ہے میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں اور فلم نے بولنا شروع کر دیا۔ آج ہی کے دن آج سے اٹھائیس سال پہلے اسرائیل کی فوجوں نے لبنان پر چڑھائی اور قبضہ کر کے نہ صرف دس ہزار لبنانیوں اور فلسطینیوں کو بے گھر کیا بلکہ دو ہزار کے قریب لوگوں کے لیے دنیا میں جگہ نہ رہی اور ان کو یہ جہان چھوڑنا پڑا۔ واہ میرا آنا۔ فلسطینیوں کی بد بختی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آج یعنی چودہ مارچ دو ہزار چھ کو اسرائیل نے فلسطینیوں پر چڑھائی کرنے کی سالگرہ کے طور پر جریکو پر چڑھائی کر کے ایک جیل پر قبضہ کر لیا ہے۔ چالیس سال ہو گئے پر کچھ نہیں بدلا۔
میں کہاں تھا۔ یہ مجھے کس نے اٹھا دیا۔ ہاں، ہاں! میں میرے متعلق باتیں کر رہا تھا۔ سونے کے متعلق۔ سونے کے کتنے فائدے ہیں وہ تو کوئی سویا ہوا شخص ہی بتا سکتا ہے لیکن کئی لوگ نیند سے لڑتے ہیں اور سونے کو اتنا اچھا نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ یہ شاعر جو لکھتا ہے کہ ’جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے‘۔ (دونوں صورتوں میں)۔ آج کل میں سو رہا ہوں یا جاگ رہا ہوں میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن کل گبز، پونٹنگ اور سمتھ نے بولروں کی جو پٹائی کی اس سے تو میری ’آنکھیں ہی کھل گئیں‘۔ دیکھا میں نے کہا تھا نہ کہ میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کچھ بھی نہیں ہے/ یہ دل ہے کہ لگتا بھی ہے پر لگتا نہیں ہے۔ شاید بات نہیں بنی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ میرے پاس اب باتوں کا قحط ہے۔ ایک خلاء ہے۔ خلاء ہے اور قحط ہے۔ بھوک، قحط، خلاء۔ دیکھیں ایسا قحط پڑا کہ باتیں ہونے لگیں۔ اب آئندہ بات قحط پر ہو گی۔ لیکن ہو گی وہ بھی میری ہی۔
شفیقِ الرحمٰن نے لکھا تھا کہ ’آؤ ہم دونوں مل کر میرے متعلق باتیں کریں‘۔ کچھ اسی طرح کا مسئلہ اب میرے ساتھ بھی ہے۔ باتیں بہت ہیں، پر ہیں سب اپنے ہی بارے میں۔ میں خوش ہوں، میں غمگین ہوں، ڈرا ہوا ہوں، بہادری کا پیکر ہوں، عالم ہوں، جاہل، بڑا ہوں، چھوٹا ہوں، میں یہ ہوں، میں وہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ بس سب یہی ہے اور اس کا حل مجھے سر پر چادر تان کر سونے ہی میں نظر آ رہا ہے۔ بہت زیادہ سونے میں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اتنا سوؤں، اتنا سوؤں کہ سو سو کہ تھک جاؤں اور تھک کے پھر سو جاؤں۔ جیسے منہ پر زبان پھیرتی بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ یوں ہی میں بھی لحاف میں منہ لپیٹے دنیا سے، اس کی حقیقتوں سے دور جانا چاہتا ہوں۔ اگر لمبے عرصے کے لیئے نہیں تو تھوڑی دیر کے لیے ہیں سہی۔ آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔
غفران حسین، نامعلوم: آج کل ہم سب سو رہے ہیں اور بڑے بےخبر سو رہے ہیں۔ لیکن جب آنکھ کھلے گی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں پچھتانا پڑے، کیونکہ گیا وقت واپس نہیں آتا اور ہاں یاد رکھیں آنکھ جب کھلتی ہے جب بندہ دنیا سے جا رہا ہوتا ہے۔ قاضی، پاکستان: سردار ہارون، پاکستان: جان، پاکستان: نظام، دبئی: مہر افشان، سعودی عرب: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||