 | | | وسعت اللہ خان |
دنیا میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔وہ جو حلیم کھاتے ہیں اور وہ جو حلیم سے محروم ہیں۔ مشرق اور مغرب کے درمیان اگر کوئی بنیادی فرق ہے تو وہ حلیم کا ہے۔ جس طرح گوشت، گندم، جو،چنے اور مسور کی دال ، گھی، لال مرچ، ہلدی، نمک، لہسن، ادرک، سنہری پیاز، کی رات بھر گھٹائی کے بغیر حلیم نہیں بن سکتا اسی طرح مشرق میں کنبے کا تصور بھی حلیم کا عکس ہے۔ابا،اماں، بہن ، بھائی دادا، دادی، نانا، نانی، ماموں، خالہ، چچا، پھوپھی،داماد اور بہو کے اجتماع کا نام خاندان ہے۔اور تو اور موسیقی بھی حلیم کی طرح نہ ہو تو مزہ نہیں دیتی۔طبلہ، سارنگی، ستار، ڈھولکی،تال، جگل بندی، خانصاحب، سازندے اور ہائے ہائے کرکے زانو پیٹنے والے بوڑھے قدردان۔ان سب کی یکجائی اور گھٹائی کا نام ہے مشرقی موسیقی۔ مغربی تہذیب چونکہ حلیم سے ناآشنا ہے اس لئے ہر شے الگ الگ ہے۔وھاں آپ کو ہر شعبے میں تصورِ یکجائی تو مل سکتا ہے تصورِ گھٹائی نہیں۔مثلاً یارک شائر پڈنگ کسی ڈش کا نام نہیں ہے بلکہ ایک پلیٹ میں روسٹ بیف، میدے کی پیٹیز اور اوپر سے کری ڈال کر آپ کے سامنے جو چیز پیش ہوتی ہے اسے کہتے ہیں یارک شائر پڈنگ۔ابلے ہوئے آلو پر دھنئے کی ڈنٹھل لگا کر وائٹ ساس کے ساتھ جو چیز وجود میں آتی ہے اسے پٹاٹو شیفیون کا نام دے کر کھلا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح حلیم سے ناآشنا تہذیب کی موسیقی بھی الگ سے پہچانی جاتی ہے۔راگوں کی گھٹائی نہیں ہوسکتی انہیں صرف نوٹیشن کی صورت میں الگ الگ گایا جاسکتا ہے۔ڈرم پر رولنگ تو ہوسکتی ہے اس پر سوا اور ڈیڑھ کا ٹھیکہ لگانے کے فوراً بعد تین تالہ نہیں لگ سکتا۔پرفارمنس کے دوران آدھے سر کی تعریف میں ہائے ہائے ، واہ خانصاحب مار ڈالا کہنا بدتمیزی ہے۔داد دینے کا بھی وقت مقرر ہے اور وہ بھی صرف تالیوں کی اسمبلنگ کی صورت میں۔ حلیم سے ناآشنا معاشرے میں خاندان کا یونٹ صرف میاں، بیوی اور بچے پر مشتمل ہے اسکے مصالحے میں دادا، دادی، نانا، نانی خالہ، پھوپھی کے اجزا شامل نہیں ہوسکتے۔ اسوقت میں حلیم کی پلیٹ پر لیموں نچوڑتے اور چاٹ مصالحہ چھڑکتے ہوئے سوچ رھا ہوں کہ تہذیبوں کے ٹکراؤ کا فلسفہ صرف ایک چیز سے غائب ہوسکتا ہے۔ایک سو پچیس روپے والا چوبی گھوٹنا۔
| | آپ نے کیا کہا |  |
جاوید، جاپان: وسعت صاحب نے کمال بات کی ہے اور آپ مغرب والوں کو یہ سمجھائیں کہ حلیم کھانے والوں سے خوفزدہ نہ ہوں۔ اندرلال، کشمور: واہ بھائی کیا کہنا وسعت بھائی آپ لفظوں کے جادوگر ہیں۔ شاہ شفیق پرویز سید، اٹک: وسعت باتوں باتوں میں بات کچھ کہہ جاتے ہیں بس ذرا سمجھنے کے ضرورت ہے۔ رانا، کینیڈا: تہذیبوں کے ٹکراؤ کو دور کرنے کے لیے واقعی گھوٹنا بہت ضروری ہے اور شاید ایک گھونٹا نواز بھی۔ آپ کا بلاگ پڑھ کر منہ میں پانی آ گیا۔ تلاوت بخاری، اسلام آباد: وسعت میاں آپ نے بلاگ تو خوب لکھا ہے مگر یہ بتائیں کہ حلیم کھانے والوں میں وہ حلیمی کیوں نہیں پائی جاتی جو مغرب میں خاص کر انگریزوں میں پائی جاتی ہے۔ ارشد علی، لاہور: یہ ایک سطحی سا کالم ہے۔ آصف خان، کوہاٹ: اس آدمی کے ساتھ پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ جب یہ برصغیر کے بارے میں بات کرتا ہے تو ہمیں کم تر سمجھتا ہے اور جب مغرب کے بارے میں بات کرتا ہے تو بہت تعریف کرتا ہے۔ لگتا ہے انہیں احساس کمتری ہے۔ محمد عثمان خان، سعودی عرب: واقعی یہ سچ ہے کہ مشرقی تہذیب مغرب سے بالکل مختلف ہے۔ نہ وہ حلیم بنا سکتے ہیں اور نہ ہم کبھی یارک شائر پڈنگ بنا سکتے ہیں۔ اپنے مشرقی بھائیوں کو ایک مثال دینا چاہوں گا شاہد ان کی سمجھ میں آ جائے درخت چاہے کتنا بھی اونچا ہو جائے اس کی جڑھ رہتی زمین میں ہی ہے۔ ہمایوں شنواری، کابل: یہ صرف حلیم ہی نہیں بلکہ لباس کا بھی فرق ہے ہمارے اور مغرب کے درمیان۔ وسعت اللہ خان صاحب آپ کی لکھائی مجھے بہت پسند ہے۔ فلک شیر چیمہ، پاکستان: مغرب میں فرق حلیم کا ہو یا نہ ہو خاندانی نظام اور مغرب کے رویوں پر ایک اچھی نظر ہے۔ مغرب میں اجتماعیت کی روح ہی ختم ہوتی جا رہی ہے جو معاشروں کو باندھ کر رکھتی ہے۔ یہ بھی کسی دہشت گرد کی سازش ہو گی۔ سجال احمد، امریکہ: وسعت صاحب آپ نے ایک چھوٹے سے مضمون میں مشرق اور مغرب کا فرق کو ظاہر کر دیا ہے۔ آپ کے اندازِ بیان بہت زبر دست ہے۔ یہ حقیقت ہےکہ مشرق بھی مغرب کی پیروی کر رہا ہے۔ لیکن اب مغرب میں بھی تھوڑا بہت شعور اوجاگر ہو رہا ہے کہ حلیم بہت سی بیماریوں کا حل ہے۔ ایک کنبہ اور خاندان اگر اکٹھا ہو یامتحد ہوتو بہت سارے مسئلے اور پریشانیاں پاس نہیں آتی ہیں یہ میرا تجربہ ہے۔ افتخار احمد کشمیری، لندن: پاکستان میں تھا تو ایک ہی چیز کھانے میں پسند تھی وہ تھی لکشمی چوک کی حلیم۔ یہاں آیا ہوں تو حلیم تو نہیں ملی لیکن طبیعت میں حلیمی آ گئی ہے۔ عامر آرائیں، امریکہ: بہت خوب لکھا ہے۔ یہ ہماری تہذیب کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ محفوظ رحمان، اسلام آباد: مجھے ڈر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی یہ حلیم پھیکی پڑتی جا رہی ہے۔ آپ کی تصویر سے لگ رہا ہے کہ جیسے آپ کا واقعی حلیم کا کاروبار ہے۔ محمد اسلم رانا، کینیڈا: سائیں آپ نے کمال کر دیا۔ بہت دیر ہو گئی حلیم نہیں کھائی آپ نے کاغزی حلیم کھلا دی ہے۔ دلیپ رتنانی، کینیڈا: وسعت سائیں آپ کی تصویر راجھستانی دولہے جیسی لگتی ہے۔ یہ پگڑی تھرمارکر اور مارواڑ میں لوگ اس وقت پہنتے ہیں جب وہ شادی کے لیے جاتے ہیں۔ حقیقتاً آپ عمر کوٹ کے اصلی رانا راجپوت لگ رہے ہیں۔ راشد عباس، جام پور: بہت خوب کہا، لیکن شاید ایک بات کا ذکر کرنا بھول گئے کہ حلیم بنانے کی لیے نہ صرف حلیم بنانے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ساری رات بیٹھ کر حلیم پکانے والے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی ہمارے معاشرے میں ہر گھر میں ایک بڑا ہوتا ہے جس کی تقریباً سب ہی عزت کرتے ہیں۔ شمشیر خان، یو کے: واہ میاں وسعت واہ، تصویر سے تو یہ لگتا ہے کہ ساری رات حلیم کا گھونٹا لگاتے رہے اور وہ بھی فقط سو پچاس روپے لے کر۔ بجا فرمایا کہ ہمارے اور ان کے درمیان فرق صرف حلیم کا ہے یعنی حلیم، لیاقت، یگانگی اور ملن ساری۔ ہمارے زندگی حلیم کے بغیر ادھوری ہے اور انہیں معلوم ہی نہیں کہ سات چیزیں اکٹھے ہو کر کیا بناتی ہیں۔ وہ اب حلیم بنانا بھی چاہیں تو مشکل ہے کیونکہ ان کی دال تو کب کے کوے چغ گئے۔ مدن لال کھتری، کراچی: یہ بہت خوبصورتی سے لکھا گیا ہے۔ میں مغربی خاندان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں اس کے بارے میں نہیں جانتا۔ لیکن مغرب کا یہ رویہ یہاں مشرق میں بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ یہاں پر بھی اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں تبدیلی ہمیشہ بہتر نہیں ہوتی؟ کیا یہ راجھستانی پگڑی ہے؟ کیا آپ کے کوئی آباؤ اجداد راجھستان سے ہیں؟ سندھی، دادو: ارے میں تم کو کراچی یونیورسٹی سے جانتا ہوں۔ اب بڑے ہو جاؤ۔ شاہدہ اکرام، ابو ظہبی: حلیم اور گھوٹنے سے بھی زیادہ چونکا دینے والی چیز وسعت بھائی آپ کی تصویر ہے۔ عرفان اللہ، اسلام آباد: اگر ہم نظریہ تناسخ کے قائل ہوتے تو ہم کہتے کہ سدھو بھائی کی روح وسعت میں آ گئی ہے۔ |