BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 03 February, 2006, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں جنوبی ہندوستان پر فدا

عالیہ نازکی، چار فروری ، شام چھ بجے



اب حیدرآباد کے بارے میں آپ کو کیا بتاؤں۔۔۔یہ شہر نہایت ہی خوب صورت ہے اور یہاں کے لوگ نہایت ہی شائستہ، مہذب اور جان کار۔ آج عثمانیہ یونیورسٹی جانے کا اتفاق ہوا۔ اس یو نیورسٹی میں ایک زمانے میں تمام مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔

آج بھی اس کی شان و شوکت برقرار ہے۔ اتنی خوب صورت اور شان دار عمارت شاید ہی کسی اور تعلیمی ادارے کے پاس ہو۔ وہاں کچھ سٹوڈینٹس سے بات چیت کرنے کا موقع بھی ملا۔ ان کے جوش اور سوچ نے مجھے بہت متاثر کیا۔

ویسے حیدرآباد کا جو ایک منفرد کردار ہے اس میں بہت بڑآ ہاتھ اس کی تاریخی عمارتوں کا بھی ہے جنہیں موجودہ دور میں بھی سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ چار مینار ہو یا مکہ مسجد، عثمانیہ یونیورسٹی ہو یا نظامیہ ہسپتال یا پھر ہائی کورٹ کی عمارت۔۔۔اس شہر میں ہر موڑ پر تاریخ کے پنے بکھرے ہوئے ہیں۔۔۔

تین فروری ، دوپہر دو بجے

کل جب حیدرآباد پہنچے تو تھکان کا عالم کچھ ایسا تھا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ ہوا دراصل یہ کہ دلی کا پروگرام ختم کرتے، لندن سٹوری فائل کرتے اور واپس ہوٹل جاکر پیکنگ کرتے کرتے رات کے ڈھائی بج گئے اور ہماری فلائٹ صبح چھ بجے کی تھی۔

خیر یہاں پہنچتے ہی انڈیا آن لائن کیمپین کا کام شروع ہوگیا۔ میں سب سے پہلے چار مینار گئی۔ حیدر آباد کا ماحول شمالی انڈیا کے ان شہروں سے کافی مختلف ہے جہاں میں نے خاصا وقت گزارا ہے۔ پہلے تو یہ کہ شہر بہت صاف ہے۔ دوسرا یہاں اردو بولی جاتی ہے مگر جیسا کہ آپ جانتے ہی ہوں گے، لہجہ بالکل مختلف ہے۔

ایک دکان کے باہر لگے بورڈ پر انگریزی میں لکھا دیکھا ’کیپ شاپ‘ اور اردو میں ’کیاپ شاپ‘۔ اسی طرح ڈاک حانے کو یہاں ’ٹھپہ گھر‘ کہتے ہیں اور ائر پورٹ کو ’طیران گاہ‘۔ جگہ مزے دار ہے اور لوگ بھی۔۔۔اور بریانی کی تو کیا بات ہے۔۔۔

مظہر زیدی، حیدرآباد، چار فروری، شام چار بجے



میں جنوبی ہندوستان پر فدا ہوچکا ہوں۔

یہاں ہر چیز شمالی ہندوستان کے مقابلے میں مختلف ہے۔ یہاں کی سادگی ہم برصغیر کے شمالی علاقوں کے لوگوں کو خواہ وہ انڈیا ہو یا پاکستان، بالکل شرمندہ کر دیتی ہے۔ یہاں پچھلے چند روز میں بہت سے لوگوں سے ملنے کے موقع ملا اور ہر ملاقات کے بعد یہی احساس ہوا کہ بات انٹرنیٹ کی ہو یا اردو میڈیا کی یا عالمی حالات حاضرہ کی ، اتنی بھر پور اور دلچسپ بات چیت بہت کم ہوپاتی ہے۔

جیسا خوبصورت شہر ویسے ہی لوگ۔


تین فروری، صبح دس بجے

جھیلوں کے شہر حیدرآباد پہنچ کر بہت سی جگہوں پر جا کر محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ ٹھہرگئی ہو۔ لیکن تاریخ ظاہر ہے کبھی ٹھہرتی نہیں اور اسی لئے نظام دور کی عظیم وشان عمارتوں والا یہ شہر آئی ٹی کا بھی گڑھ مانا جاتا ہے۔

یہ شہر تین جھیلوں یا ساگر کی امانت میں ہے۔ ویسے پہلے یہاں پر ایسی ایک ہزار جھیلیں ہوتی تھیں جو اب کم ہوکر تین سو کے لگ بھگ رہ گئی ہیں۔ پھر یہاں آئی ٹی سٹی بھی ہے اور فلم سٹی بھی۔ اور کیا چاہئیے۔

شہر میں پہلی مرتبہ آیاہوں تو شائد تیلگو بولنے والوں کے منہ سے اردو سن کر بہت مزہ آرہا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایسا اردو بولنے والا نہیں ملا جس کے منہ سے تیلگو سننے کا موقع ملے۔

انڈیا آن لائن زبان کا کیا مذہب؟
’ کجرا رے‘ اور دیسی چائینیز کھانے کے مزے
انڈیا گیٹدلّی کی ڈائری
عدلیہ و مقننہ اور دلی میونسپلٹی اور بندر
دلی ڈائری
بھارت تیسری بڑی معیشت بننے کے قریب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد