ایف ایم ریڈیو: فی سبیل اللہ فساد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے دوست شفقت اللہ بھی نرے گوتم بدھ ہیں۔ اب آپ پو چھیں گے کہ یہ کون ذات شریف ہیں اور ان کا یہاں کیا ذکر؟ شفقت صاحب پرانے نمونے کے پاکستانی ہیں۔ پانچوں شرعی عیب آپ کی ذات میں جمع ہیں۔آپ فلسفہ، تاریخ، ادب اور بین الاقوامی امور پر عبور رکھتے ہیں۔ لاہور میں کسی کی شہرت پڑھا لکھا ہونے کی ہو جائے تو رشتہ دار منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ آپ نے دنیا داری کا ملکہ نہیں پایا۔ جنت مکانی والد صاحب نے روپے پیسے کی جو تھیلیاں صاحبزادے کو وراثت کی تھیں، خوش خوراک دوستوں کے تعاون سے آدھی تو اجاڑ چکے۔ سیاست میں شغف کا یہ عالم کہ طالبان سے خیالی مکالمہ کرتے ہوئے بیگم صاحبہ کی سالگرہ بھول جاتے ہیں۔ قانون کی پاسداری اور آئین کی بالادستی جیسے مغربی خیالات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں بڑا عیب یہ ہے کہ جمہوری اور روشن خیال پاکستان کا خواب بے طرح آپ کے دماغ میں سمایا ہے۔ چند سال سے ایک ایف ایم ریڈیو چینل چلا رہے ہیں جو عمدہ تفریحی پروگراموں اور سیاسی موضوعات پر سنجیدہ تبصروں کے باعث خاصا معیاری سمجھا جاتا ہے۔ سو ایک سے زیادہ مرتبہ پولیس اس ریڈیو پر ہلا بول چکی ہے۔ عملہ گرفتار ہوتا ہے۔ مشینری اٹھا لی جاتی ہے۔ مقدمے عدالتوں میں کھڈیرے جاتے ہیں اور شفقت صاحب ڈھنڈار دفتر میں صوفے پر پاؤں پھیلائے رچرڈ نکسن کی آپ بیتی پڑھتے ہیں۔
خیال آتا ہے کہ اگر شفقت صاحب پیشہ وارانہ طریقے سے ریڈیو قائم کرنے کی بجائے قبائلی علاقوں میں غیر قانونی ریڈیو چلاتے تو آج یاروں کو کسی بڑے آدمی سے صاحب سلامت کا فخر حاصل ہوتا۔ یہ تو گھامڑ ہی نکلے۔ خبر ہے کہ خیبر ایجنسی میں دو مذہبی گروہوں کے مابین تصادم میں 30 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ علاقے کے عوام جان بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔ قصہ دو ایف ایم سٹیشنوں سے شروع ہوا تھا۔ جو دو مقامی مذہبی پیشواؤں نے اپنا حلقہ اثر بڑھانے کے لیے غیر قانونی طور پر قائم کر رکھے تھے۔ یہاں سے دن رات ایک دوسرے کے عقائد پر کیچڑ اچھالا جاتا تھا۔ فروعی نوعیت کے فرقہ وارانہ موضوعات پر بے لگام مباحثے ہوتے تھے۔ کوئی سال بھر سے یہ چنگاری سلگ رہی تھی۔ اندازہ تھا کہ یہ بارود کسی بھی وقت آگ پکڑ لے گا۔ مگر سرکاری پرچہ نویس سمجھتے تھے کہ اس پر کھوکھلی مذہبیت کا کمبل ڈالا جا سکے گا۔ باڑہ بازار میں فریقین کے بھاری اسلحے سے تباہ ہونے والے مکان اور تنور کی طرح جھلسی ہوئی دیواریں بتا رہی ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ مخدومی انتظار حسین کو ادب کے قرینوں پہ تو قدرت ہے ہی، گاہے تاریخ اور سیاست پر بھی ایسی پتے کی بات کہتے ہیں کہ پتھر پر لکیر ہو جاتی ہے۔ آپ بیتی ’چراغوں کا دھواں‘ میں لکھتے ہیں، اونٹ خریدتے ہوئے کوہان کا خیال ہی نہیں آیا۔ دیکھیے نا جہاں اتنے بہت سے مسلمان ہوں گے، وہاں ایک ملّا بھی آن موجود ہو گا۔ پھر فی سبیل اللہ فساد تو ہو گا۔ صوبہ سرحد اور قبائیلی علاقوں میں سو کے لگ بھگ غیر قانونی ایف ایم سٹیشن مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں۔ صرف قبائیلی علاقوں میں ان ایف ایم سٹیشنوں کی تعداد اٹھائیس بتائی جاتی ہے۔ جو حکومت ملک کے شہری مراکز میں پیشہ وارانہ معیارات کے مطابق کام کرنے والے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے اچھے برے تمام قوانین کی لفظ بہ لفظ پاسداری کا تقاضا کرتی ہے اس نے سرحد و بلوچستان کے قبائلی نیز سندھ میں کچے کے لاقانون علاقوں میں درجنوں غیرقانونی ریڈیو سٹیشنوں سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ ادارے نہ تو کسی قانون کے تابع ہیں اور نہ کسی فنی معیار کے پابند۔ ایسے میں اگر مذہبی شناخت کا سہارا بھی میسر آ جائے تو انہیں افراتفری پھیلانے سے کون روک سکتا ہے۔
پاکستان میں کئی عشروں سے انتظامی اداروں کو مذہبی عناصر کے سامنے سرنگوں رہنے کی ایسی تربیت دی گئی ہے کہ یہ ادارے عملی طور پر قوت نافذ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ سیاسی عمل اور ریاستی قانون پر بالادستی کے خواہشمند مذہبی حلقوں کے لیے یہ صورت حال نہایت پسندیدہ ہے۔ خیبر ایجنسی میں ہونے والے قتل و غارت کا دفاع بہت مشکل ہے۔ لیکن اس کا حل یہ نکالا جائے گا کہ صف اول کی مذہبی قیادت عوامی سطح پر اس کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہے گی۔ کسی خاص صورت حال میں رائے پیش کرنے کی مجبوری پیش آئی تو انتظامیہ پر نااہلی کا الزام دھر دیا جائے گا جس سے بہر صورت ریاستی ڈھانچے کی حاکمیت اور ساکھ پر ضرب لگتی ہے یا پھر ایک بے معنی بیان دیا جائے گا کہ ان واقعات میں اسلام دشمن عناصر کا ہاتھ ہے۔ بہر حال ان فرقہ وارانہ اختلافات کی بے معنویت اور انہیں ہوا دینے والے خدائی فوجداروں کی مذمت نہیں کی جائے گی۔ گزشتہ دنوں کارٹون تنازعے کے دوران ایک اصطلاح ’مذہب کا احترام‘ بار بار استعمال کی گئی۔ او آئی سی نے اس نوعیت کا ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریڈیو اور لاؤڈ سپیکر پر دوسروں کے عقائد پر نفرت انگیز تبصرے کرنا مذہب کے احترام کے منافی نہیں ہے۔ باجوڑ کی بمباری پر قومی اخبارات میں ڈیڑھ سو کے قریب کالم لکھے گئے۔ مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ تھی لیکن خیبر ایجنسی میں تو اب تک تیس کتبے لگ چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کو واقعی شہریوں کی جان کا تحفظ عزیز ہے یا پتنگ بازی پر بچوں کی اموات کو سیاسی ایجنڈے کے طور پہ اچھالا جا رہا ہے۔ حکومت ایک مدت سے ریاست کی عملداری قائم کرنے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہیں۔ یہ مقصد ان حالات میں حاصل نہیں کیا جا سکتا جہاں امن و امان کے ذمہ دار ادارے مفقود ہیں یا مفلوج ہیں۔ تعلیم کی شرح نہایت کم ہے۔ جدید اسلحے کی بھرمار ہے۔ ثقافت تشدد سے عبارت ہے۔ اعلٰی ترین حکام ریاست کی جڑیں کھودنے والے سیاسی خیالات سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اس کا
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مفتی اور ایک پیر کے اسلحہ بند جتھے ایک دوسرے پر حملے کرتے ہیں۔ یہ لڑائی میران شاہ میں نہیں ہو رہی سو اس پر عالمی توجہ مرکوز نہیں ہو گی۔ نچلی سطح کی اس کشیدگی کا مقصد ہانڈی میں ابال جاری رکھنا ہے تا کہ بالآخر سیاسی عمل کو مذہب کا یرغمالی بنایا جا سکے۔ سو اس پر رقیق القلب ذرائع ابلاغ خاموش رہیں گے۔ عوام بے خبر رہیں گے اور حکومت لا تعلق رہے گی۔ لیکن ہمارا سوال پھر وہی ہے، ’بھائی شفقت اللہ اٹک کے اس پار ریڈیو سٹیشن قائم کیوں نہیں کرتے؟‘ |
اسی بارے میں بنگلہ بھاشا اندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی21 February, 2006 | قلم اور کالم خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم پاکستان: عورتوں کا دن 12 فروری کیوں؟12 February, 2006 | پاکستان ’بلوچ احساس مسترد نہیں کیا جا سکتا‘09 January, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||