BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس کا بینظیرکی حامیوں پر تشدد

مظاہرے سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری ریگل چوک کے اطراف میں تعینات کی گئی تھی
کراچی میں سندھ کے وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم کے خلاف احتجاج کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی متعدد خواتین کارکنوں کو پولیس نے تشدد کے بعد حراست میں لے لیا ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ ’بینظیر کبھی وطن واپس نہیں آئیں گی اور ان کی آخری آرام گاہ بھی باہر ہی بنے گی‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شعبہ خواتین نے اس بیان کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔مظاہرے سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری ریگل چوک کے اطراف میں تعینات کی گئی تھی، جس میں خواتین پولیس بھی شامل تھی۔

دس سے زائد خواتین کارکنوں کو پولیس نے تشدد کے بعد حراست میں لے لیا ہے

ریگل چوک پر جیسے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکن جمع ہونے لگیں تو پولیس نے انہیں منتشر ہونے کے لیے کہا۔ مظاہرین کے انکار پر پولیس نے انہیں پکڑ کر موبائل گاڑیوں میں ڈال دیا۔

اس دوران ایک گھنٹے تک شہر کے مصروف علاقے ریگل چوک پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی۔ پولیس کی اس پکڑ دھکڑ کے دوران علاقے سے گزرنے والی عام خواتین کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا جنہیں خواتین پولیس نے گھیر لیا۔

مظاہرہ کرنے والی خواتین اس موقع پر ’ماریں گے مر جائیں گے بینظیر کو لائیں گے‘ ، ’سینٹرل جیل جائیں گے بینظیر کو لائیں گے‘ ’ کالا کوا کائیں کائیں‘ کے نعرے لگائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ایم این اے فوزیہ وہاب نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ خواتین اپنی رہنما کی بےعزتی کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں تو ایسی کون سی قیامت آرہی تھی جو انہیں گرفتار کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شعبہ خواتین نے وزیر اعلیٰ سندھ کے بیان کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا

انہوں نے کہا ’چند خواتین تھیں ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے وہ احتجاج کر رہی تھیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ ارباب رحیم چند نہتی عورتوں سے خوفزدہ ہوگئے ہیں‘۔

صدر ٹاؤن کے پولیس افسر نے بتایا کہ خواتین کو حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ ٹریفک میں رخنہ پیدا کر رہی تھیں اس لیے انہیں ریگل چوک سے ہٹا کر دوسری جگہ پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی معمولاتِ زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد