BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موریا و اشوک دور کے خلاف واک آؤٹ

اشوکا
نصابی کتابوں میں ’انڈس سولائیزیشن‘ کے بارے میں ایک باب ہے جس میں موریا سلطنت کے بانی چندر گپت موریا اور اس دور کے بادشاہ اشوکا، کا ذکر ہے
چندر گپت موریا اور اشوکا کے بارے میں پاکستان کے نصابی کتابوں میں سبق شامل کیے جانے کے خلاف مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ کے اراکین نے بدھ کو قومی اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس پر فرید احمد پراچہ، مولانا اسداللہ بھٹو اور دیگر نے کہا کہ ہندو تہذیب کے بارے میں کلاس نویں اور دسویں کی نصاب کی کتابوں میں سبق شامل کیے گئے ہیں اور مسلمانوں کو ہندو مت کے بارے میں پڑھایا جا رہا ہے۔

ان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے تعلیم انیسہ زیب طاہر خیلی نے مذہبی جماعتوں کے اراکین کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ نصابی کتابوں میں ’انڈس سولائیزیشن‘ کے بارے میں ایک باب ہے جس میں موریا سلطنت کے بانی چندر گپت موریا اور اس دور کے بادشاہ اشوکا، کا ذکر ہے۔

تعلیم کی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ اس خطے کی تاریخ کا حصہ ہے اور اسے تاریخ سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

اِس پر مذہبی جماعتوں کے اراکین نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ہندو تہذیب کے بارے میں نصابی کتابوں میں سبق کیسے شامل ہوا اور اس کا فیصلہ کس نے کیا؟ اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہیے۔

تحقیق کی جائے
 مذہبی جماعتوں کے اراکین نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ہندو تہذیب کے بارے میں نصابی کتابوں میں سبق کیسے شامل ہوا اور اس کا فیصلہ کس نے کیا؟ اس بارے میں تحقیقات ہونی چاہیے

متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے بعد میں ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ اس دوران حکومتی اراکین ایم پی بھنڈارا اور علی اکبر وینس نے کہا کہ اسلام سے پہلے سب کے باب دادا سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اور تاریخ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سپیکر نے معاملہ وزارت تعلیم کی قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی موریا شہنشاہیت تین سو چار قبل مسیح سے دو سو بتیس قبل مسیح تک قائم رہی۔ اس راج کے عظیم بادشاہ قرار دیے جانے والے اشوک نے اپنی سلطنت کی حدود مغرب میں افغانستان اور ایران تک جب کہ مشرق میں آسام اور بنگال تک وسیع کر دی تھیں۔

وفدتاریخ لکھی جائے
بھارتی وفد نے ماضی کی نئی تصویر پر زور دیا ہے
پشاور کی عمارت کے نقوشپشاور کی عمارتیں
تاریخی عمارتوں کوخطرہ ہے
ایشوریہ ابھیشیکبے جان امراؤجان؟
امراؤجان لوگوں میں شاید ہی اپنا اثر چھوڑے
ذوالفقار علی بھٹو’سیاسی قتل‘
لیاقت سے لے کر بگٹی تک،حسن مجتبیٰ کا کالم
پھر خون ہی خون
قانا میں قتل عام کی دوہری تاریخ
بدلے سے بھری تاریخ
مشرق وسطی میں تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے
تاریخ دانوں کا فیصلہ
’صدر بش امریکی تاریخ کے بد ترین صدر ہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد