BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 November, 2006, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاورکی تاریخی عمارتوں کےمٹتےنقوش

پشاور کی ایک عمارت
پشاور کی قدیم تاریخی عمارتیں آہستہ آہستہ مٹ رہی ہیں
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کا شمار تاریخی ورثے کے اعتبار سے ملک کے اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس قدیم شہر میں دو ہزار ایسی تاریخی عمارتیں ہیں جن کے تحفظ کی سخت ضرورت ہے۔ لیکن صوبائی سطح پر قوانین اور وسائل کی کمی کے سبب پشاور کے اس ورثے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ثقافتی ورثے کی ماہر اور ہیریٹیج فاونڈیشن کی یاسمین لاری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی بات چیت میں بتایا کہ جب ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کے پاس پیسہ آتا ہے تو لوگ چاہتے ہیں کہ پرانی چیزوں کو ختم کرکے نئی چیزیں بنائیں۔

' یہ رجحان پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پرانی عمارتوں کو گرایا جا رہا ہے تاکہ نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں۔ یہ دوسرے شہروں میں بھی ہو رہا ہے لیکن پشاور میں اس میں تیزی آ رہی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت اس مسئلے پر توجہ دی جانی چاہیے اور اسکے بقاء کے لیے احتیاطی تدابیر بھی ضروری ہیں۔' قانونی طور پر لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ عمارتیں جنہیں ہم ثقافتی ورثہ کہتے ہیں انہیں نہ گرایا جائے ' ۔

پرانی عمارتوں کو گرایا جا رہا ہے تاکہ نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں۔ یہ دوسرے شہروں میں بھی ہو رہا ہے لیکن پشاور میں اس میں تیزی آ رہی ہے۔
یاسمین لاری

ان کا ماننا ہے کہ ایک ایسا قانون بنایا جا سکتا ہے جو antiquity law سے مختلف ہو لیکن اس کے تحت عمارتوں کے اندر تبدیلی کی اجازت ہو تاکہ باہر سے عمارت برقرار رہے۔ ان کے مطابق اس سے ان عمارتوں کے بچ جانے کا امکان زیادہ ہے۔

یاسمین لاری
یاسمین لاری پشاور کی قدیم عمارتوں کے تحفظ کے لیےکام کر رہی ہیں

پشاور کی عمارتوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ صرف پرانی فصیل کے اندر کے مکانات ایسے ہیں کہ ان میں جھروکے بھی ہیں، بستے بھی، صحن بھی اور وہ سب ساتھ ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ 'ایسی عمارتیں اگر بہت کم بھی ہوں تو دو ہزار ضرور ہوں گی' ۔

صوبہ سرحد میں ثقافتی ورثے کے تحفظ میں حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت گزشتہ دنوں اس وقت ملا جب اس نے مشہور کوچہ سیٹھیان میں ایک قدیمی عمارت خرید کر اس کی مرمت اور تزیئن و آرائش کا کام شروع کیا۔

یاسمین لاری کا کہنا تھا کہ یہ ایک احسن قدم تھا۔ ’کہیں سے تو شروع ہونا تھا۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو بھی ان عمارتوں کی اہمیت کا احساس ہے۔’

البتہ شہر کی تمام قدیمی عمارتوں کا ریکارڈ اور کیٹلاگ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ عمارتوں کے تعین کے بعد ہی ان کے بچاو کا کام شروع ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد