BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیاامراؤجان تاریخ دہرا پائے گی؟

ایشوریہ
امراؤجان میں ایشوریہ کی اداکاری پران کی خوبصورتی حاوی لگتی ہے
مرزاہادی رسوا کے ناول امراؤ جان میں آج بھی ایسی کشش ہے کہ لوگ اسے پردے پر دیکھنے کھینچے چلے آتے ہیں۔ فلمساز جے پی دتہ نے بھی اسی لیے اپنے نئے انداز میں اسے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

دتہ جب فلم بنا رہے تھے اسی وقت سے وہ کہہ رہے تھے کہ وہ کسی کلاسک فلم کا ری میک نہیں بنا رہے ہیں بلکہ وہ ہادی رسوا کی امیرن اور طوائف کی زندگی کے غم کو پردے پر اتارنا چاہتے ہیں لیکن نہ تو وہ امیرن کا دکھ پردے پراتار پائے اور نہ ہی لکھنؤ کی تہذیب اورطوائف کے جذبات کو۔

فلم کے آغاز میں ہی فلم بین ہدایت کار کی نا سمجھی پر افسوس ظاہر کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق نواب ابھیشیک کے والد امراؤ جان کے کوٹھے پر جاتے ہیں اور اسے اپنی خواب گاہ کی زینت بنانا چاہتے ہیں لیکن نواب کا دل بھی امراؤ پر آجاتا ہے اور اسی لیے ان کے والد اپنے بیٹے کوامراؤ سے ملنے سے روکنے کے لیے غصہ کرتے ہیں اور صرف چند منٹوں میں اپنے بیٹے کوگھر سے نکال دیتے ہیں۔منظر آتا ہے اور بغیر اپنی چھاپ چھوڑے ختم بھی ہو جاتا ہے۔

فلم میں امیرن خوف و انسومنیا کا شکار رہتی ہے لیکن اس کے باوجود اسےایک کامیاب طوائف دکھایا گیاہے۔ کہانی میں یہ سب سے بڑانقص ہے۔

ایشوریہ رائے کی خوبصورتی اور اس کی نیلی آنکھیں ضروردل کو لبھاتی ہیں۔ لیکن رقص میں وہ ناکام رہی ہیں۔ غم زدہ مناظر میں ان کی آنکھوں میں آنسو ضرور ہیں لیکن جذبات کا اظہار کرنے میں وہ بری طرح ناکام ہیں۔

پرانی امراؤجان سے مختلف ہے نئی امراؤ جان

فلم میں امراؤ کا خانم ( شبانہ اعظمی ) بسم اللہ ( دیویہ دتہ ) اور بوا( ہیمانی شیو پوری ) کے ساتھ تعلقات کےمناظر کو خوب صورتی کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔

فلم کے چند مناظر بہت خوبصورتی کے ساتھ فلمائے گئے ہیں۔ کئی مناظر میں ایشوریہ کا حسن لاجواب نظر آتا ہے۔ ابھیشیک کی اداکاری بھی کئی مناظر میں بہت اچھی ہے۔ وہ پراعتماد نظر آئے۔لیکن اگر فلم میں کسی کی اداکاری کی واقعی تعریف کرنی ہے تو وہ ہیں شبانہ اعظمی جنہوں نےایک بار پھر اپنی اداکاری کی چھاپ چھوڑی ہے۔

فلم میں کئی خامیاں ہیں۔ لکھنو کی تہذیب کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس دور کے نواب کبھی سر پر پیٹھا نہیں باندھتے تھے لیکن فلم میں ابھیشیک کو صافے میں دکھایا گیا۔ فلم کا ایک منظر میں ایشوریہ رائے کو سوئمنگ پول میں نہاتے دکھایا گیا ہے۔ نئی نسل کے لیے فلم کو نیا انداز دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اگر جے پی دتہ یہ کہتے ہیں کہ ان کی فلم مرزاہا دی رسوا کے ناول پر مبنی ہے تو یہ منظر غلط ہے۔ اس دور کی طوائفیں بھی مہذب طور طریقہ اپناتی تھیں۔ بلکہ یوں کہیں تو بیجا نہ ہوگا کہ طوائفوں نے لکھنؤ کی تہذیب کو سجا سنوار کر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایشوریہ رائے نے فلم کے ایک منظرمیں ترچھی ٹوپی پہن رکھی ہے اس پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ کسی ناول پر فلم بنانا یا تاریخی واقعات پر فلم بنانے کے لیے ایک فلمساز کواس پر ریسرچ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جے پی دتہ کے سامنے انیس سو اکیاسی میں مظفر علی کی بنائی فلم امراؤ جان بطور مثال موجود تھی لیکن اسے ری میک کا نام نہ دے کراس سےعلیحدہ فلم بنانے کے چکر میں دتہ جیسے منجھے ہوئے فلمساز سے بھی کئی غلطیاں ہو گئیں۔

اگر آپ مظفر علی کی فلم کا موازنہ کریں تو دتہ کی بنائی فلم بالکل بے جان ہے۔ ریکھا کا لاجواب حسن ہی نہیں ان کی اداکاری ان کا رقص ان کا انداز سب کچھ بے مثال تھا۔ ریکھا نے اس فلم میں اپنی والدہ کی پرانی ساڑیوں سے وہ لباس بنائے تھے جو انہوں نے فلم میں پہنے تھے لیکن دتہ کی فلم میں لاکھوں کی قیمت سے بنائے لباس بے رنگ لگے
فلم میں زیورات کا انتخاب بھی غلط ہے۔ اس زمانے میں سیدھی مانگ پر ٹیکا لگایا جاتا تھا جبکہ فلم میں ایشوریہ کی مانگ ترچھی ہے جو لکھنوی تہذیب کے خلاف سمجھی جاتی تھی۔

 اگر آپ مظفر علی کی فلم کا موازنہ کریں تو دتہ کی بنائی فلم بالکل بے جان ہے۔ ریکھا کا لاجواب حسن ہی نہیں ان کی اداکاری ان کا رقص ان کا انداز سب کچھ بے مثال تھا۔ ریکھا نے اس فلم میں اپنی والدہ کی پرانی ساڑیوں سے وہ لباس بنائے تھے جو انہوں نے فلم میں پہنے تھے لیکن دتہ کی فلم میں لاکھوں کی قیمت سے بنائے لباس بے رنگ لگے

جنوبی ہند کی ہونے کے باوجود ریکھا نے لکھنو کی تہذیب اور ایک طوائف کے کردار کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا کہ ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ اس سے اچھے انداز میں تو شاید لکھنو کی پروردہ بھی اسے پیش نہیں کر سکتی تھیں۔

فلم کا میوزک اس کی بڑی خامی ہے۔ انو ملک کا میوزک کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔ خیام کی موسیقی اور آشا بھوسلے کی آواز نے ایسی جاوداں نغمے دئے جو کبھی دلوں سے محو نہیں وہ سکتے۔آشا بھوسلے پر حالانکہ اس فلم سے قبل چنچل اور کیبرے رقص کے نغمے گانے کا لیبل لگا تھا لیکن پہلی مرتبہ دنیا نے انہیں ایک غزل گلوکار کے طور پر پہچانا۔

جس کسی نے فلمساز مظفر علی اور ریکھا کی امراؤ جان نہیں دیکھی ہے وہ اس فلم کو کچھ حد تک پسند کر سکتے ہیں لیکن پرانی امراؤ جان دیکھ چکے اپنے تین گھنٹہ ضائع ہونے پر افسوس ضرور کریں گے۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کلاسیک فلموں کا ری میک بنانا ہی نہیں چاہئیے۔

اسی بارے میں
نئی نارنیہ فلم سبقت لے گئی
03 January, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد