بِہار کی’اغوا انڈسٹری‘ پر فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم کو کسی بھی سماج کا آئینہ کہا جاتا ہے اور انہي فلموں کے ذریعے فلمساز اور ہدایتکار معاشرے میں پنپنے والے مسائل کو بڑے پردے پر اتارنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اسی کوشش میں فلم ساز پرکاش جھا نے بہار کی’اغوا انڈسٹری‘ پر مبنی ایک فلم بنائی ہے جس میں بہار میں اغوا ہونے والوں اور اغوا کرنے والوں کے درمیان پیدا ہونے والے ایک عجیب اور بدصورت رشتے کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہار کا شمار ہندوستان کی ایسی ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں غربت ، لاقانونیت اور جرائم کا بول بالا ہے۔ جہاں ریاست میں کوئی بڑی صنعت لگانے کے بارے میں سوچنے کی ذرا بھی گنجائش نہیں وہاں اس ریاست میں ایک انڈسٹری کئی برسوں سے اپنی جڑيں مضبوط کیے ہوئے ہے اور وہ ہے ’اغوا انڈسٹری‘ یعنی کبھی بھی، کسی کو بھی اور کہیں سے بھی تاوان کے لیے یا پھر ذاتی دشمنی کی وجہ سےاغوا کر لینا اور رقم حاصل نہ ہونے پر اس کو مار دینا ۔
ہدایتکار پرکاش جھا اپنی فلم ’اپہرن‘ یعنی اغوا کے بارے میں کہتے ہیں کہ’یہ فلم اغوا انڈسٹری کے پس منظر میں ایک والد اور اس کے بیٹے کی کہانی ہے۔ جہاں ایک طرف والد کے اصول ہیں اور دوسری جانب اس کا بیٹا ہے اور کیسے والد کے اصولوں کی وجہ سے اس کے بیٹے کی زندگی ایک نیا موڑ لے لیتی ہے اور وہ جرائم کی دنیا ميں اپنے قدم جمع لیتا ہے‘۔ اس فلم میں اجے دیوگن ، بپاشا باسو اور نانا پاٹیکر نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ فلم میں پہلی بار بپاشا ایک سیددھی سادی لڑکی کے روپ میں نظر آئیں گی۔
اپنا امیج تبدیل کرنے پر آمادہ بپاشا کا کہنا تھا کہ اس رول کو ادا کرنے میں انہیں ذرا بھی دقت پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا’ جب فلم کے ہدایتکار کواپنے سبجیکٹ کے بارے میں پوری معلومات ہوتی ہیں تو اداکار کو کسی بھی طرح کی دقت پیش نہیں آتی‘۔ بپاشا باسو نے یہ بھی کہا کہ ان کا نیا امیج ان کے شائقین کو ضرور پسند آئے گا۔ اجے دیوگن پرکاش جھا کی پچھلی فلم’ گنگاجل‘ میں بھی ہیرو تھے اور اب اس فلم میں وہ ایک ایسا کردار ادا کر رہے ہیں جو بے روزگاری اور سیاسی وجوہات کے سبب اغوا انڈسرٹری کا رخ کر لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’اس فلم میں کام کرنے کے بعد بہار کے بارے میں میری رائے میں کافی تبدیلی آ چکی ہے ۔ بہار کے بارے میں جتنا ہم جانتے اور سنتے ہیں وہاں کے حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں‘۔ بہار میں اب تک اغوا کی سب سے زیادہ وارداتیں چمپارن ضلع کے بیتیا علاقے میں ہوئی ہیں اور پرکاش کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ مسٹر جھا چمپارن کے اس علاقے سے پارلیمانی انتخابات بھی لڑ چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں جاوید شیخ کی بھارتی فلم تیار 15 November, 2005 | فن فنکار مرچنٹ دنیا کو خوبصورت بناگئے19 November, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||