BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 November, 2005, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرچنٹ دنیا کو خوبصورت بناگئے
اسماعیل مرچنٹ دوہزاردو میں لندن میں بافٹا ایوارڈز کے دوران
اسماعیل مرچنٹ دوہزاردو میں لندن میں بافٹا ایوارڈز کے دوران
لندن میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب کے دوران معروف فلم ہدایت کار اسماعیل مرچنٹ کو فلمی دنیا کی شخصیتوں نے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس تقریب میں فیلیسیٹی کینڈل، ایما تھامپسن اور اسماعیل کے پارٹنر جیمز آئیوری جیسی معروف شخصیات شامل تھیں۔

اسماعیل مرچنٹ اڑسٹھ سال کی عمر میں گزشتہ مئی میں وفات پاگئےتھے۔ اس موقع پر معروف گلوکارہ ٹینا ٹرنر، سٹیفن فرائی اور مصنف سلمان رشدی نے بھی مرچنٹ کو یاد کیا۔

برطانوی اداکارہ ہیلینا بونہم کارٹر نے، جو اپنے شوہر ٹِم برٹن کے ساتھ تقریب میں موجود تھیں، بھارتی نژاد ہدایت کار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مرچنٹ ’دنیا کو مزید خوبصورت بنا گئے‘۔

اس موقع پر ٹِم برٹن نے اسماعیل مرچنٹ کی مماثلت رجحان ساز امریکی ہدایت کار ایڈ ووڈ سے کی جن کے بارے میں انہوں نے انیس سو چورانوے میں ایک فلم بھی بنائی تھی۔ برٹن نے بی بی سی کو بتایا: ’اسماعیل بلاشبہ باصلاحیت تھے لیکن ان کے اندر بھی اپنے اردگرد رشتے پیدا کرنے کی لیاقت تھی اور وہی توانائی ان کی تخلیقات میں بھی دیکھی جاسکتی تھی۔‘

برٹن نے مزید کہا: ’میں ان کی فلموں سے زیادہ ان کی شخصیت، ان کی اشتعال انگیزی، حوصلہ پرستی اور ترغیب دینے کی صلاحیت سے متاثر ہوا۔‘ یہ تقریب کرزن مےفیئر سنیما میں منعقد کی گئی تھی جہاں فروری دوہزار تین میں اسماعیل مرچنٹ کی فلموں کی نمائش ہوئی تھی۔

اسماعیل مرچنٹ کی لیاقت۔۔۔۔
 میں ان کی فلموں سے زیادہ ان کی شخصیت، ان کی اشتعال انگیزی، حوصلہ پرستی اور ترغیب دینے کی صلاحیت سے متاثر ہوا۔
ٹِم برٹن

سنیما کے مالک روپرٹ وِنگیٹ نے کہا کہ کرزن مےفیئر ’اسماعیل کا سیکنڈ ہوم‘ تھا۔ فلم ہاورڈز اینڈ میں اپنی اداکاری کے لیے آسکر حاصل کرنے والی ایکٹریس ایما تھامپسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسماعیل مرچنٹ ’ایک بہت بڑے انڈین ریچھ تھے جس کی برانڈی میں پکے ہوئے منقیٰ جیسی نشیلیں آنکھیں تھیں۔‘

دوسری شخصیتیوں کی طرح ایما تھامپسن نے فن طباخی میں مرچنٹ کی مہارت کو یاد کیا: ’وہ غیرمعمولی کری بناتے تھے۔‘ مرچنٹ کی فلم ’دی بیلڈ آف دی سیڈ کیفے‘ میں ہدایت کار کے طور پر ابھرنے والے اداکار سائمن کیلو نے کہا کہ شاید ’ ٹو کری فیور کا محاورہ اسماعیل کے لیے ہی بنا ہو۔‘

انیس پینسٹھ کی مرچنٹ کی فلم ’ شیکسپیئر والا‘ میں اداکارہ کی طور پر منظرعام پر آنے والی اداکارہ فیلیسیٹی کینڈل نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’جب وہ کمرے میں داخل ہوتے، روشنی آجاتی تھی۔‘

کینڈل نے اپنے خراج عقیدت میں کہا: ’مائی ڈارلِنگ، اچھے دوست، خدا کی سلامتی ہو تم پر، تمہاری لیاقت اور تہماری توانائی کے لیے۔‘

مرچنٹ کی آخری فلم دی وائٹ کاؤنٹیس کے منظرنگار مصنف کزو اشیگرو نے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنا ایک ایسی فلم میں جو ان کی آخری فلم ثابت ہوئی، باعث عزت ہے۔ ’اچھا نہیں لگتا کہ اسے دیکھنے کے لیے وہ یہاں نہیں ہوں گے۔‘

66اسماعیل چل بسے
مرچنٹ ایک مختلف فلمساز تھے
اسی بارے میں
یادگار تختی کا وقت
28 May, 2005 | قلم اور کالم
تاریخ ، ادب اور بالی وڈ
25 July, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد