BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 March, 2007, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹرائل مشرف کا ہونا چاہیے‘

نواز شریف نے کہا کہ وہ دوسرے سیاست دانوں سے بھی رابط میں ہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کےرہنما میاں نواز شریف نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس چودھری محمد افتخار کی معطلی کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ’غیر آئینی اور غیر قانونی‘ فیصلہ نے ملک کو سنگین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

لندن میں پرایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئِے میاں نواز شریف نے صدر جنرل مشرف کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں صورت حال کے تناظر میں اس نئے بحران نے پاکستان کی بقاء اور سلامتی کو بھی خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔

ملک بھر میں جاری وکلاء کے احتجاج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وکلاء اس وقت ملک اور قوم کی بقاء کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

موجودہ صورت حال کا تقابل انہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان سے کیا اور کہا کہ آج جو صورت حال ملک کو درپیش ہے وہ انیس سو اکتہر سے قبل حالات سے مختلف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پہلے آئین ٹوٹا اور پھر ملک ٹوٹا گیا اور آج بھی ملک کے اہم اور بنیادی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

میاں نواز شریف نے جسٹس افتخار کو معطل کرنے کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ جس طرح ’آرمی ہاوس‘ چیف جسٹس کو طلب کیا گیا وہ انتہائی نامناسب تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس آرمی ہاوس میں پاکستان فوج کی عسکری اور دفاعی استطاعت کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جانی چاہیے وہاں پاکستان کے آئینی اداروں کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح مشرف نے فوجی وردی میں ملبوس ہو کر جسٹس افتخار سے ملاقات کی اس سے لگتا تھا جیس کوئی تھانیدار کسی عام شہری سے جواب طلبی کر رہا ہو۔

نواز شریف نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعظم انہیں پوار اختیار تھا کہ وہ ایک آرمی چیف کو برطرف کریں اور جب انہوں نے یہ آئینی اختیار استعمال کیا تو فوج نے بغاوت کر دی اور ان کا آئینی اختیار مانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو چیف جسٹس کو برطرف کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے لیکن پھر بھی انہوں نے چیف جسٹس کو معطل کرکے انہیں نظر بند کر دیا۔

چیف جسٹس کے خلاف لگائےجانےوالے الزامات پر انہوں نے کہا کہ ٹرائل تو صدر مشرف کا ہونا چاہیے۔

مسلم لیگ کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئِے انہوں نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ کے کارکنوں کو ہدایات جاری کر دیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابط میں بھی اور جو بھی مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے گی وہ اس کے ساتھ ہوں گے۔

اسی بارے میں
جسٹس جاوید اقبال کون؟
11 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد