’استعفیٰ دیا پھر واپس لے لیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس چودھری محمد افتخار کی برطرفی کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی غیر یقینی اور ابہام کی فضا نےجمعرات کو اس وقت ڈرامائی صورت اختیار کرلی جب سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل انورمنصور خان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے کے چند گھنٹوں بعد استعفیٰ واپس لے لیا۔ جمعرات کی شام کو جب کراچی سے انور منصور کے استعفے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں تو بی بی سی اردو سروس کے پروڈیوسر ثقلین امام نے ان سے فون پر رابط کیا۔ انور منصور نے اپنا استعفیٰ دینے کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی منظور نہیں ہوا ’آپ مجھ سے آدھے گھنٹے بعد رابط کریں۔‘ دریں اثنا بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار ریاض سہیل نے انور منصور خان کے استعفے کی کاپی بی بی سی کے لندن آفس فیکس کے ذریعے بھیج دی۔ انور منصور خان کے دستخط شدہ استعفے میں لکھا تھا کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو مسلسل حراست میں رکھنے پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ تاہم تقریباً ایک گھنٹے بعد جب انور منصور خان سے دوبارہ رابط کیا گیا تو انہوں نے استعفی دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستعفی نہیں ہوئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے استعفے کی کاپی بی بی سی کے پاس موجود ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ’دیا ہو گا‘ لیکن اب وہ اس سے انکار کر تے ہیں۔ اپنے استعفے میں انہوں نے گورنر سندھ کو مخاطب ہوکر کہا ہے کہ انہیں ان سے اور حکومت سندھ سے کوئی بھی شکایت نہیں ہے۔ اپنے استعفے میں انہوں نے چیف جسٹس کی معطلی کا کوئی ذکر یا اس پر احتجاج نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائی کے شدید مطالبات کے باوجود چیف جسٹس بدستور قید وبند میں ہیں، جس نے انہیں استعفے دینے پر مجبور کیا ہے۔ انور منصور خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران قانون کا حقیقی احترام کرنے کی کوشش کی اور سندھ حکومت کے تحفظ کے لئے ہر وہ کام کیا جو وہ کرسکتے تھے۔ انہوں نے گورنر کو مخاطب ہوکر مزید کہا ہے کہ اس استعفے کے باوجود جہاں حکومت چاہیئے گی وہ خدمت کے لئے حاضر ہوں گے ۔ انور منصور کے بھائی نے ان کے استعفے کی تصدیق کی اور اس کی کاپی بھی میڈیا کو فراہم کی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انور منصور خان نے بتایا کہ انہوں نے استیعفٰی دیا تھا جو بعد میں واپس لے لیا ہے جو ان کے مطابق وہ قبول نہیں ہوا تھا۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل انور منصور خان نے کہا تھا کہ افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، ان کی رہائش گاہ سے قومی جھنڈہ اتارنا اور ویب سائیٹ سے تعارف ہٹانا غلط ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل انور منصور خان گزشتہ چار سال سے سندھ میں ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے استعفیٰ نہیں دیا ہے وہ بدستور ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی دو اہم شخصیات میں اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک شخصیت انور منصور خان کو ہٹانا چاہتی ہے دوسری ان کی حمایت کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں چیف جسٹس افتخار۔ عام آدمی کا جج15 March, 2007 | پاکستان ’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘15 March, 2007 | پاکستان اعتزاز کو ملنے دیں: جوڈیشل کونسل15 March, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس یا اے کلاس قیدی‘ 15 March, 2007 | پاکستان ’احترام ہے اسی لیے کونسل کو بھیجا‘15 March, 2007 | پاکستان احتجاج، گرفتاریاں، سول جج مستعفی15 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||