سماعت ملتوی، مظاہرے ،گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم جوڈیشل کونسل نے جمعہ کو ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد جسٹس افتخار چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت اکیس مارچ تک ملتوی کر دی ہے اور ان پر لگائے جانے والی پابندیوں کو فوری طور پر اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ اس ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد اور لاہور میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں پولیس نے مظاہرین پرآنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ اسی دوران احتجاج اور مظاہروں کی براہِ راست کوریج کرنے والے جیو ٹیلی وژن چینل کے اسلام آباد دفتر پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔ اسلام آباد میں مجلس عمل کے رہنماؤں قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ لاہور میں سابق صدر رفیق تارڑ کو، جو ایک مظاہرے کی سربراہی کرنے والے تھے، پولیس نے آدھے گھنٹے تک ایک دکان میں محصور کررکھا تھا اور بعد میں انہیں ان کی گاڑی میں کہیں لے گئے۔ کچھ گھنٹوں بعد رفیق تارڑ اپنے گھر واپس آگئے۔ وفاقی دارالحکومت میں شاہراہ دستور پر واقع سپریم کورٹ کی عمارت میں ہونے والی اس سماعت سے قبل انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور وفاقی دارالحکومت کو عملاً سیل کر دیا گیا تھا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں زیادہ تر پارلیمنٹ لاجز کے باہر ہوئی ہیں جماعت کے امیر قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے وقت پورا علاقہ میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ پولیس آنسو گیس کا استعمال کر رہی تھی اور مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے تھے۔
اسی دوران جب جسٹس افتخار سپریم کورٹ پہنچے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس کی حمایت میں زبردست نعرے لگائے۔ اس سے پہلے ان کے وکلاء ا اعتزاز احسن، طارق محمود، حامد خان، منیر اے ملک اور علی محمد کرد انہیں لینے کے لیے ان کی رہائش گاہ گئے تھے۔ لاہور میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ سابق صدر رفیق تارڑ کی قیادت میں نکالے جانے والے ایک جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ وہاں عورتوں سمیت بہت سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صدر جنرل مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کام کرنے سے روک دیا تھا۔ تیرہ مارچ کو ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا تھا کہ ان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی نقل و حمل پر پابندی ہے۔
ملک کے دیگر شہروں اور خاص طور پر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیمیں چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں۔ وکلاء تنظیمیں تمام ملک میں ضلعی عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں نامہ نگاروں ہارون رشید اور اعجاز مہر نے بتایا کہ جمعہ کو پارلیمان کی عمارت کے باہر مظاہرین کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور وہ زیادہ پرجوش ہیں۔ بلوچستان ہاؤس جہاں جسٹس افتخار کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی۔ اسلام آباد میں وکلاء کے ساتھ سیاسی کارکنوں نے بھی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔ لاہور نامہ نگار عدنان عادل کے مطابق، شہر کےمصروف ترین علاقے نیلا گنبد پر کرفیو کا سماں ہے۔ وکلاء کو ایوان عادل کے احاطے تک محدود کر دیا گیا اور انہیں وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اجتجاجی وکلاء ایوان عدل کے احاطے میں حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے ہیں۔ حزب اختلاف نے نماز جمعہ کے بعد مسجد شہداء سے احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء کو اپنے گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا اور صبح سات بجے سے ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے۔ جمعرات کو رات گئے پولیس نے لاہور میں مسلم لیگ نواز، مجلس عمل کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ وکلاء کی بھی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ان کے کم از کم ساڑھے تین سو کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیا جاچکاہے جن میں لاہور کےسابق میئر خواجہ حسان بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے اپنے بیس کارکنوں کی گرفتاری کا دعوی کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں وکلاء تنظیموں کے عہدیدار اور دیگر وکلاء بھی شامل ہیں۔ سندھ ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے اطلاع دی ہے کہ پورے صوبے میں عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا گیا۔ کراچی میں ہائی کورٹ، سٹی کورٹ، ملیر کی عدالت سمیت تمام عدالتوں کا وکلاء نے صبح ساڑھے بارہ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک بائیکاٹ کیا۔
نماز جمعہ کے بعد متحدہ مجلس عمل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کا پروگرام ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے باہر پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور گورنر ہاؤس کو جانے والے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے کوئٹہ سے بتایا ہے کہ وکلا کا احتجاج جاری ہے جبکہ آج نماز کے بعد متحدہ مجلس عمل مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف احتجاجی مظاہرہ کر یں گے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ آج بھی وکلا ایک گھنٹے کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ بار روم میں وکلا کی جزوی بھوک ہڑتال کی سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔
سرحد |
اسی بارے میں شریف الدین کا بھی حکومت کو انکار15 March, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل پایا‘16 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش16 March, 2007 | پاکستان انٹرنیٹ، ٹیلی فون سروسز میں تعطل16 March, 2007 | پاکستان انٹرنیٹ، ٹیلی فون سروسز منقطع16 March, 2007 | پاکستان نجی ٹی وی چینل پر پولیس کا ’حملہ‘16 March, 2007 | پاکستان ’عوام کا جن‘16 March, 2007 | پاکستان اسلام آباد کے راستے بند16 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||