’عوام کا جن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان کی عملی طور پر معطلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے ایک نتیجہ تو بڑے وثوق کے ساتھ نکالا جا سکتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ جو بھی ہو صدر جنرل پرویز مشرف اخلاقی طور پر جنگ اس وقت ہی ہار گئے تھے جب جسٹس افتخار محمد چودھری نے عسکری دباؤ کے باوجود اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے سے انکار کر دیا۔ درِ اقتدار کے مجاور میر ظفر اللہ جمالی اور چوہدری شجاعت حسین جیسے سیاستدانوں سے وزارت عظمیٰ کے کامیابی کے ساتھ استعفے حاصل کرنے کے بعد ملک کے پسماندہ ترین صوبے سے تعلق رکھنے والے چیف جسٹس سے، جن سے جنرل مشرف نے خود حلف لیا تھا، مبینہ طور پر استعفیٰ طلب کرتے ہوئے انہیں یقیناً انکار کی توقع نہیں ہوگی۔ وکلاء کی طرف سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک بھی اندازوں سے کہیں زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے۔وکیل سے زیادہ فنکار کے طور پر پہچانے جانے والے نعیم بخاری کے چیف جسٹس پر لگائے گئے الزامات بشمول کورٹ نمبرون (چیف جسٹس کی عدالت) کو وکلاء کے لیے ’قصاب خانہ‘ قرار دینا بھی احتجاجی تحریک میں ایسے تحلیل ہوئے ہیں کہ ان کی حیثیت اب حکومتی ایماء پر کی گئی بہتان تراشی کے سِوا کچھ نہیں رہ گئی۔
جسٹس افتخار کے انکار نے پاکستانی سیاست کے کھڑے پانی میں ایک ایسا پتھر مارا ہے جس سے پیدا ہونے والی لہروں نے جہاں جنرل مشرف اور ان کے حکومتی ٹولے کو بے چین کیا ہے وہیں حزب مخالف کی جماعتوں میں نااتفاقی اور موقع پرستی کو بھی نمایاں کیا ہے۔ پاکستانی سیاست کا المیہ اب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت ہر جماعت عوامی طاقت کی بجائے ملک کے مستقل حکمرانوں سے سودے بازی کر کے اقتدار میں شراکت چاہتی ہے اور یہ کڑوی حقیقت اس وقت عیاں ہوئی جب جنرل ضیاء کے گیارہ سالہ دورِ آمریت کے بعد انیس سو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو نے جی ایچ کیو کی شرائط پر وزیر اعظم بننا قبول کر لیا۔اس رحجان نے عوام اور جمہوری قوتوں کو کمزور اور خاکی وردی والوں کو مضبوط کیا۔ بار بار کے ناکام تجربات اور ذلت آمیز نتائج کے باوجود طاقت کے سرچشمے کے طور پر وردی والوں یا پھر واشنگٹن کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے اب تک کے مجموعی کردار سے قطع نظر جسٹس افتخار کے انکار سے پیدا ہونے والی صورتحال کی کوکھ سے ملک میں ایک مقبول سیاسی تحریک جنم لے سکتی ہے اگر منظم سیاسی قوتیں موقع پرستی چھوڑ کر جمہوری اور سویلین (یا غیر فوجی) اداروں کی مضبوطی کے لیے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ایک دوست کے توسط سے بابائے جمہوریت کے نام سے پکارے جانے والے سیاستدان مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان سے ان کے آبائی علاقے خانگڑھ میں بعض اوقات طویل نشست رہتی تھی۔ جنرل مشرف کا ہی دور تھا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔
نوابزداہ سمیت حزب مخالف کے سیاستدان اپنے احتجاج کو صرف بیانات تک محدود رکھے ہوئے تھے۔ ان سے پوچھا کہ لوگ پریشان ہیں اور آپ لوگ صرف بیان دے کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ براہ ہوجاتے ہیں تو انہوں نے جواب دینے کی بجائے کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیا۔ تھوڑی دیر بعد سوال پھر دہرایا تو نوابزادہ نے حقے کا کش لیتے ہوئے کہا ’عوام کا جن بوتل سے نکل آیا تو دوبارہ اندر کون کرے گا‘۔ چنانچہ عوام کے جن کو بوتل میں بند رکھنے پر حکمران طبقے میں اتفاق ہے، اس میں چاہے وردی والے ہوں یا بغیر وردی والے جبکہ محلاتی سازشوں کا امکان ہر وقت موجود ہے۔ |
اسی بارے میں احتجاج، گرفتاریاں: صدارتی ریفرنس کی سماعت آج16 March, 2007 | پاکستان ’ریفرنس کا فیصلہ حلف ناموں پرہوگا‘15 March, 2007 | پاکستان عدالتی بحران پر نظر ہے: امریکہ15 March, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل پایا‘16 March, 2007 | پاکستان شریف الدین کا بھی حکومت کو انکار15 March, 2007 | پاکستان پولیس کا ناروا سلوک، سپریم کورٹ کا نوٹس14 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان معطل09 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||