BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج، گرفتاریاں: صدارتی ریفرنس کی سماعت آج

چیف جسٹس کی معطلی کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

سپریم جوڈیشل کونسل معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدراتی ریفرنس کی سماعت آج سہ پہر تین بجے کر رہی ہے۔

دریں اثنا حکام نے جمعہ کو ریفرنس کی سماعت کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سرکاری ہسپتالوں، پولیس اور فائر بریگیڈ کو تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ سپریم کورٹ کو جانے والے راستوں پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

دوسری طرف چیف جسٹس کے خلاف حکومتی اقدامات پر متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر آج یوم احتجاج منایا جا رہا ہے۔ اس احتجاج میں وکلاء تنظیموں کے علاوہ مختلف سیاسی سماجی اور شہری تنظیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

صدر جنرل مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کام کرنے سے روک دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے

تیرہ مارچ کو ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا تھا کہ ان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی نقل و حمل پر پابندی ہے۔ جسٹس افتخار نے بتایا تھا کہ ان کے باہر کی دنیا سے تمام رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے پانچ میں سے تین ارکان پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا تھا جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس چوہدری افتخار حسین پر اعتراض کیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت بند کمرے میں ہو گی۔ تیرہ مارچ کی سماعت کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے ٹی وی چینلوں اور اخباروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے اجتناب کریں۔

یومِ احتجاج

لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق، چیف جسٹس کے خلاف حکومتی اقدامات پر متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر آج یوم احتجاج منایا جارہا ہے۔

جمعہ کے روز ہونے والے اس احتجاج میں وکلاء تنظیموں کے علاوہ مختلف سیاسی سماجی اور شہری تنظیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

اپوزیشن کا مرکزی اجتماع اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر ہوگا جس میں مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے مرکزی قائدین اور کارکن شرکت کریں گے۔

وکلاء اور سماجی تنظمیں جسٹس افتخار کی معطلی پر سراپا احتجاج ہیں

متحدہ اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ قاضی حسین احمد یا مولانا فضل الرحمان کی امامت میں نماز جمعہ سپریم کورٹ کے سامنے ادا کی جائے گی جس کے بعد تمام شرکاء، سیاسی قائدین اور کارکن چیف جسٹس افتخار چودھری کی آمد تک وہیں رہیں گے اور ان کا استقبال کیا جائے گا۔

وکلاء تنظیموں کے عہدیدار اور چیف جسٹس کے حامی وکلاء بھی سپریم کورٹ پہنچیں گے اور چیف جسٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے اندر یا باہر رہیں گے۔

آل پارٹیرز کانفرنس کے اعلان کے مطابق چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اور اضلاع کی سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے مجلس عمل کے ترجمان کے مطابق نماز جمعہ کے بعد احتجاجی اجتماعات ہونگے اور جلوس نکالے جائیں گے۔

گرفتاریاں
 حزب اختلاف کی جماعتوں نے لاہور میں تین سو کے قریب سیاسی کارکنوں کی گرفتار ی کا دعوی کیا ہے تاہم پولیس اس کی تصدیق نہیں کرتی

لاہور میں نیلا گنبد سے لاہور ہائی کورٹ تک جلوس نکالا جائے گا مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ نماز جمعہ مسجد شہداء میں ادا کی جائے گی جس کے بعد احتجاجی مارچ کی کوشش کی جائے گی۔

وکلاء نے تنظیموں نے جمعہ کو ہڑتال کرنے اور احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور مرکزی صوبائی، ضلع اور تحصیل کی سطح پر عدالتو ں کے بائیکاٹ کیے جائیں گے اور احتجاج مظاہرے ہونگے۔

ادھر پولیس نے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے لاہور میں مسلم لیگ نواز مجلس عمل کے رہنماؤں کارکنوں کے علاوہ وکلاء کی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ان کے کم از کم ساڑھے تین سو کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیا جاچکاہے جن میں لاہور کےسابق میئر خواجہ حسان بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے اپنے بیس کارکنوں کی گرفتاری کا دعوی کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں وکلاء تنظیموں کے عہدیدار اور دیگر وکلاء بھی شامل ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کے صدر امجد شاہ کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم پولیس نے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی۔

پولیس افسران گرفتاریوں کے سلسلے میں صحافیوں سے گفتگو سے گریز کررہے ہیں ایڈیشنل آئی جی لاہور ملک اقبال کا کہنا ہے کہ پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے۔

اسلام آباد سے بھی گرفتاریوں کی اطلاع ملی ہے اور پولیس نے sor کی طرف جانے والے راستوں پر ناکے لگا رکھے ہیں تاہم وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کو سیل نہیں کیا گیا ہے اور حکومت خود صحافیوں کو سپریم کورٹ تک لے جائے گی۔

جسٹس افتخار چودھری’ ناروا سلوک‘
جسٹس افتخار سے پولیس کے ناروا سلوک کا نوٹس
عدلیہ کی آزادی
’بینظیر بھٹو جدوجہد میں کردار ادا کریں‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
چھٹے دن بھی احتجاج چھٹے دن بھی احتجاج
چیف جسٹس معطلی کے خلاف مظاہرے جاری
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار معاملہ
حکومتی کامیابی سرکاری افسران کے حلف ناموں پر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد