BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 March, 2007, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف الدین کا بھی حکومت کو انکار

خالد انور اور فخر الدین جی ابراھیم پہلے ہی حکومت کوانکار کر چکے ہیں
مشہور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انہوں نے صدارتی ریفرنس میں پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔

واضح رہے کہ شریف الدین پیرزادہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے سینئر مشیر بھی ہیں۔ سید شریف الدین پیرزادہ پاکستان کے سب سے تجربہ کار وکیل کے طور پر جانے جاتے ہیں اور وہ اس سے پہلے تین مقدموں میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے بتایا ہے کہ ایڈوکیٹ نعیم بخاری نے اپنے کھلے خط میں لکھا کہ جب وہ (شریف الدین پیرزادہ) جسٹس افتخارکی عدالت میں پیش ہوتے توان کا رویہ جارحانہ نہیں بلکہ فرمانبردارانہ ہو جاتا ہے جبکہ میرے سمیت باقی وکیل ان کے جارحانہ رویے کا نشانہ بنتے ہیں۔

اس سے پہلے فخرالدین جی ابراہیم بھی اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ موقع پر وکلاء کی جہدوجہد کے حامی ہیں اوروہ ہرگز حکومتی وکیل کے طور اس مقدمے میں پیش نہیں ہوں گے۔

سابق وزیر قانون خالد انور بھی اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کرچکے ہیں۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے ماضی کی ہر فوجی حکومت کو پیش آنے والی آئینی اور قانونی پیچیدگیوں میں اہم مشاورتی کردار ادا کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد