شریف الدین کا بھی حکومت کو انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انہوں نے صدارتی ریفرنس میں پیش ہونے سے معذرت کر لی ہے۔ واضح رہے کہ شریف الدین پیرزادہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے سینئر مشیر بھی ہیں۔ سید شریف الدین پیرزادہ پاکستان کے سب سے تجربہ کار وکیل کے طور پر جانے جاتے ہیں اور وہ اس سے پہلے تین مقدموں میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے بتایا ہے کہ ایڈوکیٹ نعیم بخاری نے اپنے کھلے خط میں لکھا کہ جب وہ (شریف الدین پیرزادہ) جسٹس افتخارکی عدالت میں پیش ہوتے توان کا رویہ جارحانہ نہیں بلکہ فرمانبردارانہ ہو جاتا ہے جبکہ میرے سمیت باقی وکیل ان کے جارحانہ رویے کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس سے پہلے فخرالدین جی ابراہیم بھی اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ موقع پر وکلاء کی جہدوجہد کے حامی ہیں اوروہ ہرگز حکومتی وکیل کے طور اس مقدمے میں پیش نہیں ہوں گے۔ سابق وزیر قانون خالد انور بھی اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کرچکے ہیں۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے ماضی کی ہر فوجی حکومت کو پیش آنے والی آئینی اور قانونی پیچیدگیوں میں اہم مشاورتی کردار ادا کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’استعفیٰ دیا پھر واپس لے لیا‘ 15 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس افتخار۔ عام آدمی کا جج15 March, 2007 | پاکستان ’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘15 March, 2007 | پاکستان ’اعتزاز کو ملنے دیا جائے‘15 March, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس یا اے کلاس قیدی‘ 15 March, 2007 | پاکستان ’احترام ہے اسی لیے کونسل کو بھیجا‘15 March, 2007 | پاکستان ’ریفرنس کا فیصلہ حلف ناموں پرہوگا‘15 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||