 | | | جمعہ کو سماعت کے التواء کی درخواست دیں گے:اعتزاز |
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال اپنے مؤکل سے ملنے نہیں دیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کی عنبر خیری سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہم اپنی صفائی میں کچھ نہ کہہ سکیں لیکن عدالت میں ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا وہ جمعہ کو سماعت کے موقع پر سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دیں گے ہیں کہ ریفرنس کی سماعت کو ملتوی کیا جائے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ نہ ہی انہیں سماعت کے حوالے سے جسٹس افتخار سے اب تک کسی قسم کی ہدایات ملی ہیں اور نہ ہی وہ ان سے کسی قسم کا مشورہ کر پائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ریفرنس کی سماعت کیسے ہو سکتی ہے اور یہ صورتحال’مس ٹرائل‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں جسٹس افتخار تک رسائی کا فراہم کرنے کا حکم تو دیا تھا تاہم اس حکم پر نہ تو کونسل نے عملدرآمد کروایا اور نہ ہی حکومت ان کی جسٹس افتخار سے ملاقات کے حوالے سے سنجیدہ نظر آتی ہے۔  |  نہ ہی سماعت کے حوالے سے جسٹس افتخار سے اب تک کسی قسم کی ہدایات ملی ہیں اور نہ ہی ہم ان سے کسی قسم کا مشورہ کر پائے ہیں۔اس صورتحال میں ریفرنس کی سماعت کیسے ہو سکتی ہے اور  اعتزاز احسن |
بیرسٹر اعتزاز احسن کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے حکم کے بعد اٹارنی جنرل کو چاہیے تھا کہ وہ انہیں جسٹس افتخار تک رسائی کے لیے اقدامات کرتے تاہم اٹارنی جنرل کی جانب سے نہ تو ان سے کوئی رابطہ کیا گیا اور نہ ہی انہیں جسٹس افتخار سے ملنے دیا گیا ہے۔ ادھر ملک کے نامور وکلاء کی جانب سے ریفرنس میں بطور حکومتی وکیل پیش ہونے سے انکار کے حوالے سے وفاقی سیکرٹری قانون منصور احمد کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی سماعت میں حکومت کی نمائندگی اٹارنی جنرل آف پاکستان مخدوم علی خان کریں گے جبکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے ایڈوکیٹ جنرل ان کی معاونت کے لیے موجود ہوں گے۔ منصور احمد نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ شریف الدین پیرزادہ، خالد انور اور فخر الدین جی ابراہیم جیسے نامور قانون دانوں نے حکومت کی نمائندگی سے انکار کیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری قانون کا کہنا تھا کہ’ہم نے ان سے نمائندگی کے لیے کہا ہی نہیں تو وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں‘۔ |