BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 March, 2007, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس افتخار پر پابندیاں ختم کریں

جسٹس افتخار چودھری اپنے وکلاء کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے

سپریم جوڈیشل کونسل نے ’معطل‘ جسٹس افتخار محمد چودھری پر لگائی جانے والی پابندیوں کو فوری طور پر اٹھانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس افتخار کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت بند کمرے میں ہوئی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد ریفرنس کی سماعت اکیس مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

سماعت کے التواء کے بعد جسٹس افتخار کے وکلاء نے ذارئع ابلا غ کے نمائندوں کو بتایا کہ کونسل نے حکم جاری کیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے اہل خانہ کی نقل و حرکت پر تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور وہ جس شخص سے ملنا چاہیں مل سکتے ہیں۔

جسٹس افتخار کے وکلاء نے بتایا کہ کسی سکیورٹی ایجنسی کا کوئی رکن اب جسٹس افتخارمحمد چودھری کی مرضی کے بغیر ان کی رہائش گاہ کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا اور لوگوں سے ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ جسٹس افتخار محمد چودھری خود کریں گے۔

پچھلی سماعت کے موقع پر جسٹس افتخار نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا تھا کہ ان کو اوران کے خاندان کو غیر قانونی حراست میں رکھا جا رہا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کونسل کو بتایا کہ حکم کے باوجود حکومت نے ان کو جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملنے کا مناسب وقت نہیں دیا ہے جس سے وہ اپنے مقدمے کی تیاری نہیں کر سکے ہیں اور ان کو مقدمے کی تیاری کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔

سماعت کے دوران مظاہرے جاری رہے

وکلاء کے پینل میں سے ایک وکیل حامد خان نے بتایا کہ ابھی تک انہیں ریفرنس کی مکمل تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے اور ریفرنس کی کارروائی کے دوران ابھی تک جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر بحث ہو رہی ہے۔

سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل راجہ قریشی اورسابق وزیر قانون خالد رانجھا حکومتی وکیل کے طور پر پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل سپریم جوڈیشل کونسل کے نوٹس پر پیش ہوئے۔

چیف جسٹس کی نمائندگی کرنے والے پپنل میں اب ایک اور وکیل قاضی محمد انور کو شامل کیا گیا ہے۔ جسٹس افتخار کی نمائندگی کرنے والے وکلاء پینل کی تعداد اب چھ ہو گئی ہے۔پاکستان بار کونسل نے اپنے رکن قاضی محمد انور کو جسٹس افتخار کے پینل میں شریک کیے جانے کے بعد مقدمے میں فریق بننے کی درخواست واپس لے لی ہے۔

شریف الدین کا انکار
شریف الدین نے سرکارکی وکالت سےانکارکردیا ہے۔
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد