 | | | سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے قاضی حسین احمد کو حراست میں لیتے ہوئے |
پولیس نے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور مرکزی رہنما حافظ حسین احمد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کو پارلیمنٹ لاجز کے سامنے سے گرفتار کر کے پولیس کی گاڑیوں میں ڈال کر لے جایا گیا۔ ان کی گرفتاری کے وقت پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کا علاقہ میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ لاہور میں سابق صدر رفیق تارڑ کو، جو ایک مظاہرے کی سربراہی کرنے والے تھے، پولیس نے آدھے گھنٹے تک ایک دکان میں محصور کررکھا تھا اور بعد میں انہیں ان کی گاڑی میں کہیں لے گئے جس کی ڈرائیونگ پولیس کا ایک اہلکار کررہا تھا اور ساتھ میں پولیس کی گاڑیاں چل رہی تھیں۔ تاہم چند گھنٹوں بعد رفیق تارڑ کو رہا کر دیا گیا۔ اس سے پہلے جب متحدہ مجلس عمل اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پولیس سے جھڑپ ہوئی ہے جس کے دوران سیاسی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا ہے جبکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔  | | | رفیق تارڑ کو پولیس نے آدھے گھنٹے تک ایک دکان میں محصور رکھا |
چیئرمین راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں لیگی اور متحدہ کے کارکنوں کے ایک جلوس نے جب سپریم کورٹ کی طرف جانے کی کوشش کی تو پولیس نے اسے روکا جس پر انہوں نے پولیس کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دیا۔ پولیس نے جب مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ |