BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 March, 2007, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجی ٹی وی چینل پر پولیس کا ’حملہ‘
پولیس جیو کے دفتر میں داخل ہو رہی ہے
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر بلیو ایریا میں واقع نجی ٹیلی وی چینل جیو کے دفتر پر پولیس نے ’حملہ‘ کر دیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت کے دوران جب اسلام آباد میں ہنگامہ جاری تھے پولیس کی ایک بڑی تعداد جیو کے دفتر میں داخل ہو گئی اور عمارت کے اندر آنسو گیس کے شیل فائر کیئے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے ٹی وی چینل کو ایک ٹیلیفون میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو فوری سزا دینے کی یقین دہانی کرائی ہے اور نقصانات کے ازالے کا وعدہ کیا ہے۔

جیو کے مطابق پولیس نے دفتر کے اندر آنسو گیس کے شیل فائر کیئے اور ان کے دفتر کے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کی۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے نیوز روم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور شیشے توڑ دیئے ہیں۔

روزنامہ دی نیوز کے صحافی شکیل انجم نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس کے حملے کے وقت دفتر میں موجود تھےجس کی اوپر کی منزل پر جیو کا دفتر واقع ہے۔

پولیس کارروائی کے وقت اعلی اہلکار عمارت کے باہر موجود تھے

انہوں نے کہا کہ دفتر میں دروازے اور کھڑکیاں شیشے کی ہیں جو لاٹھی اور ڈنڈا بردار پولیس نے توڑ دیئے۔

انہوں نے کہا کہ جیو اور نیوز کے سٹاف کو مار پیٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی اس کارروائی کے وقت پولیس کے اعلی اہلکار عمارت کے باہر موجود تھے۔

وزیر اطلاعات محمد علی درانی کچھ دیر بعد ہی جیو کے دفتر پہنچ گئے اور انہوں نے اس واقع کی سخت مذمت کی۔

ادھر جیو نیوز کے مطابق کسی نامعلوم شخص نے ٹیلی فون پر کراچی میں جیو کے مرکزی دفتر میں بم کی موجودگی کی اطلاع دی جس کے بعد پورے عملے کو عمارت سے باہر نکال دیا۔

لیکن کچھ گھنٹوں کے بعد بم ڈسپوزل عملے نے عمارت کو کیلئر قرار دیا۔

چھٹے دن بھی احتجاج چھٹے دن بھی احتجاج
چیف جسٹس معطلی کے خلاف مظاہرے جاری
 جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار معاملہ
حکومتی کامیابی سرکاری افسران کے حلف ناموں پر
شریف الدین کا انکار
شریف الدین نے سرکارکی وکالت سےانکارکردیا ہے۔
’عوام کا جن‘
’جن بوتل سے نکل آیا تو اندر کون کرے گا‘
چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی پیشی
جسٹس افتخار کی پیشی پر ہنگامے، گرفتاریاں
اسی بارے میں
اسلام آباد کے راستے بند
16 March, 2007 | پاکستان
’عوام کا جن‘
16 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد