جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھگوان داس کا منظرعام سے غائب رہنا ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے ۔ امریکہ میں مقیم ان کے بیٹوں نے اپنی والدہ کو کراچی میں فون کر کے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ مسز بھگوان داس نے کراچی سے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ’میرے دونوں بیٹوں نے میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد فون کرکے فوری طور پر وطن واپس آنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے لیکن میں نے اپنے بیٹوں کو پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔‘ مسز بھگوان داس نے بتایا کہ جسٹس صاصب کی ایک بیٹی ہے، دو بھتیجیاں بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں۔’وہ لڑکیاں ہیں نا اس لیے تشویش سے پوچھتی رہتی ہیں لیکن میں ان کو سنبھال رہی ہوں۔‘ جسٹس رانا بھگوان داس کے بارے میں حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ دورہ بھارت پر گئے ہوئے ہیں۔ان کی اہلیہ کایہ بھی کہنا ہے وہ لکھنؤ میں اپنے مرشد کے پاس گئے ہوئے ہیں کیونکہ ’انڈیا میں ہمارا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔‘ لیکن لکھنؤ سے صحافی کلثوم مصطفیٰ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لکھنؤ میں انٹیلیجنس حکام اورشہر میں غیرملکیوں کی رجسٹریشن کے ادارے، ایس ایس پی آفس اور ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ نے بھی جسٹس بھگوان داس کی لکھنؤ میں غیرموجودگی کی تصدیق کی ہے۔ لکھنؤ کےحکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے سپریم کورٹ کے جسٹس جیسی شخصیت شہر میں ہوتی تو ان کو مکمل پروٹوکول دیا جاتا۔ جسٹس رانا بھگوان داس کے آبائی قصبے نصیر آباد لاڑکانہ سے بات کرتے ہوئے جسٹس بھگوان داس کے بھتیجے مہیش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں چچا کی کوئی خبر نہیں۔’میرے والد کوشاید پتہ ہولیکن وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں ہیں۔‘ |
اسی بارے میں احتجاج، گرفتاریاں: صدارتی ریفرنس کی سماعت آج16 March, 2007 | پاکستان اسلام آباد کے راستے بند16 March, 2007 | پاکستان ’عوام کا جن‘16 March, 2007 | پاکستان نجی ٹی وی چینل پر پولیس کا ’حملہ‘16 March, 2007 | پاکستان انٹرنیٹ، ٹیلی فون سروسز منقطع16 March, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، مظاہرے جاری16 March, 2007 | پاکستان لاہور، اسلام آباد: مظاہرے، جھڑپیں اورگرفتاریاں16 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||