BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 March, 2007, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش

 بھگوان داس کہاں ہیں
لکھنومیں انٹیلی جنس حکام نے جسٹس بھگوان داس کی لکھنؤ میں غیر موجودگی کی تصدیق کی ہے
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھگوان داس کا منظرعام سے غائب رہنا ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے ۔

امریکہ میں مقیم ان کے بیٹوں نے اپنی والدہ کو کراچی میں فون کر کے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

مسز بھگوان داس نے کراچی سے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ’میرے دونوں بیٹوں نے میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد فون کرکے فوری طور پر وطن واپس آنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے لیکن میں نے اپنے بیٹوں کو پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔‘

مسز بھگوان داس نے بتایا کہ جسٹس صاصب کی ایک بیٹی ہے، دو بھتیجیاں بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں۔’وہ لڑکیاں ہیں نا اس لیے تشویش سے پوچھتی رہتی ہیں لیکن میں ان کو سنبھال رہی ہوں۔‘

جسٹس رانا بھگوان داس کے بارے میں حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ دورہ بھارت پر گئے ہوئے ہیں۔ان کی اہلیہ کایہ بھی کہنا ہے وہ لکھنؤ میں اپنے مرشد کے پاس گئے ہوئے ہیں کیونکہ ’انڈیا میں ہمارا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔‘

لیکن لکھنؤ سے صحافی کلثوم مصطفیٰ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لکھنؤ میں انٹیلیجنس حکام اورشہر میں غیرملکیوں کی رجسٹریشن کے ادارے، ایس ایس پی آفس اور ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ نے بھی جسٹس بھگوان داس کی لکھنؤ میں غیرموجودگی کی تصدیق کی ہے۔

لکھنؤ کےحکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے سپریم کورٹ کے جسٹس جیسی شخصیت شہر میں ہوتی تو ان کو مکمل پروٹوکول دیا جاتا۔

جسٹس رانا بھگوان داس کے آبائی قصبے نصیر آباد لاڑکانہ سے بات کرتے ہوئے جسٹس بھگوان داس کے بھتیجے مہیش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں چچا کی کوئی خبر نہیں۔’میرے والد کوشاید پتہ ہولیکن وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں ہیں۔‘

’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
جسٹس رانا بھگوان داس’لکھنؤ PCO‘
’جسٹس بھگوان داس PCO سے فون کرتے ہیں‘
اسی بارے میں
اسلام آباد کے راستے بند
16 March, 2007 | پاکستان
’عوام کا جن‘
16 March, 2007 | پاکستان
سماعت ملتوی، مظاہرے جاری
16 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد