لاہور، اسلام آباد: مظاہرے، جھڑپیں اورگرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم جوڈیشل کونسل معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدراتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد اور لاہور میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں اور اسلام آباد میں مجلس عمل کے رہنماؤں قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں شاہراہ دستور پر واقع سپریم کورٹ کی عمارت میں ہونے والی اس سماعت سے قبل انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور وفاقی دارالحکومت کو عملاً سیل کر دیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے جماعت کے امیر قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے وقت پورا علاقہ میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ لاہور میں سابق صدر رفیق تارڑ کو پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور انہیں گرفتار تو نہیں کیا جا رہا لیکن کہیں جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اس دوران چند سو وکلاء پر مشتمل ایک جلوس سپریم کورٹ کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک جلوس بھی سپریم کورٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لاہور میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ سابق صدر رفیق تارڑ کی قیادت میں نکالے جانے والے ایک جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ وہاں عورتوں سمیت بہت سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
صدر جنرل مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کام کرنے سے روک دیا تھا۔ تیرہ مارچ کو ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا تھا کہ ان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی نقل و حمل پر پابندی ہے۔ ملک کے دیگر شہروں اور خاص طور پر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیمیں چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں۔ وکلاء تنظیمیں تمام ملک میں ضلعی عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کر رہی ہیں۔ لاہور نامہ نگار عدنان عادل کے مطابق، شہر کےمصروف ترین علاقے نیلا گنبد پر کرفیو کا سماں ہے۔ وکلاء کو ایوان عادل کے احاطے تک محدود کر دیا گیا اور انہیں وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اجتجاجی وکلاء ایوان عدل کے احاطے میں حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے ہیں۔حزب اختلاف نے نماز جمعہ کے بعد مسجد شہداء سے احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء کو اپنے گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا اور صبح سات بجے سے ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے۔ جمعرات کو رات گئے پولیس نے لاہور میں مسلم لیگ نواز، مجلس عمل کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ وکلاء کی بھی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ان کے کم از کم ساڑھے تین سو کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیا جاچکاہے جن میں لاہور کےسابق میئر خواجہ حسان بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان نے اپنے بیس کارکنوں کی گرفتاری کا دعوی کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں وکلاء تنظیموں کے عہدیدار اور دیگر وکلاء بھی شامل ہیں۔ سندھ ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے اطلاع دی ہے کہ پورے صوبے میں عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا گیا۔ کراچی میں ہائی کورٹ، سٹی کورٹ، ملیر کی عدالت سمیت تمام عدالتوں کا وکلاء نے صبح ساڑھے بارہ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک بائیکاٹ کیا۔ بار ایسوسی ایشن کے زیر انتظام ہائی کورٹ کے باہر دو، سٹی کورٹ کے باہر چار اور ملیر کی عدالت میں چار وکلاء نے علامتی بھوک ہڑتال کی۔ حیدر آباد، لاڑکانہ، سکھر اور بدین میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالے، جس میں مقررین نے حکومت اور سندھ کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ نماز جمعہ کے بعد متحدہ مجلس عمل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کا پروگرام ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے باہر پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور گورنر ہاؤس کو جانے والے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے ہیں۔ بلوچستان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے کوئٹہ سے بتایا ہے کہ وکلا کا احتجاج جاری ہے جبکہ آج نماز کے بعد متحدہ مجلس عمل مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف احتجاجی مظاہرہ کر یں گے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ آج بھی وکلا ایک گھنٹے کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ بار روم میں وکلا کی جزوی بھوک ہڑتال کی سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل پاکستان مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معطلی کے خلاف میزان چوک پر مظاہرہ کریں گے۔ سرحد |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||