BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 March, 2007, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان میں ہمارا مضبوط نیٹورک ہے‘

القاعدہ کو میں نے ہی جنوبی افغانستان میں منظم کیا ہے: ملا داداللہ
پاکستان کے صدر جنرل مشرف کے اس بیان پر کہ ملا داداللہ تین بار پاکستان آچکے ہیں ملا داداللہ نے کہا کہ پاکستان میں ان کے ساتھیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں تو دس دن کے اند اسلام آباد پہنچ سکتا ہوں۔‘

طالبان کمانڈر نے افغانستان میں کسی نامعلوم مقام سے سٹیلائٹ فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنرل مشرف نےامریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھا تو طالبان پاکستان کے اندر خود کش حملے کریں گے۔ تاہم انہوں نے حال ہی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والےخودکش حملوں میں افغان یا پاکستانی طالبان کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا ’میں گزشتہ سال ستمبر میں پاکستانی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے چند روز قبل ہی شمالی وزیرستان گیا تھا جہاں میں نے مقامی طالبان کواس بات پر راضی کیا کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ معاہدہ کریں اور اپنی تمام توانائیاں افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف استعمال کریں۔‘

ملا داداللہ اس بات پر خاصے برہم تھے کہ حکومت پاکستان معاہدے کی پاسداری نہیں کررہی ہے اور اس نے دو مرتبہ وزیرستان میں حملے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے اتحادی افواج کے خلاف پوری تیاری کی ہے اور اب تک اٹھارہ سو خودکش حملہ آوروں نے، جن میں پاکستانی، افغان اور عرب شامل ہیں، اپنے نام درج کرائے ہیں جبکہ طالبان کی مالی حالت پچھلے سال کے مقابلے میں کافی بہتر ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدیدبھاری اسلحہ بھی خریدا ہواہے۔

گلبدین حکمت یار کے اعلان لاتعلقی کے باوجود ان کی مزاحمت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا: طالبان

اگرچہ ملا داداللہ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اسلحہ کہاں سے خریدا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان کو کچھ اسلحہ عراق سے بھی ملا ہے۔

انہوں نے ان رپورٹوں کی تردید کی کہ القاعدہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دوبارہ منظم ہوچکا ہے۔

بقول ان کے ’یہ قبائلی علاقوں کے خلاف سازش ہے ۔میں اس بات کا برملا اعتراف کرتا ہوں کہ القاعدہ کو میں نے ہی جنوبی افغانستان میں منظم کیا ہے۔‘

طالبان کمانڈر نے مزید کہا ہے کہ اگرحزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے اعلان لاتعلقی کے باوجود ان کی مزاحمت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ گلبدین حکمت یار نہ ماضی میں ان کے ساتھی تھے اور نہ ہی اب ہیں۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’گلبدین حکمت یار کبھی بھی کسی کے ساتھی نہیں ہوسکتے۔وہ اس کے ساتھی ہیں جو ان کو پیسے دیں اور اگر ان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائےتو معلوم ہوگا کہ انہوں نے جس کسی کا بھی ساتھ دیا ہے اس نے شکست کھائی ہے لہذا ان کا حامد کرزئی کے ساتھ ملنا ہمارے لیے خوشی کی بات ہوگی۔‘

واضح رہے گلبدین حکمت یار نےامریکی خبر رساں ادارے اے پی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ طالبان سے تعاون ختم کرکے حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد