دو ہزارخودکش بمبار تیار ہیں: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے موسم بہار میں اتحادی افواج پر حملوں کے لیے تقریباًً دس ہزار جنگجو تعینات کیے ہیں جبکہ دوہزار خودکش بمبار حملوں کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ دریں اثناء پاکستان میں صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے کہا ہے کہ طالبان کی مزاحمت ’جنگ آزادی‘ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور افغانستان میں انہیں عوام کی پہلے سے زیادہ حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ دس ہزار طالبان جنگجو جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول دو ہزار خود کش بمبار بھی تیار ہیں جبکہ تین ہزار مزید خودکش حملہ آور تربیت کے مرحلے میں ہیں۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال طالبان کے اسلحے اور دیگر جنگی سازو سامان میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سال ہم نے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ توپیں اور میزائل بھی حاصل کئے ہیں جو افغانستان ہی میں خریدے گئے ہیں‘۔ ترجمان نے بتایا کہ اس سال کی جنگی حکمت عملی افغانستان کے مختلف علاقوں کی صورتحال کو مدنظر رکھ کرتشکیل دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کابل میں دھماکے اور خود کش حملے کیے جائیں گے جبکہ جنوبی اور مشرقی افغانستان میں گوریلا جنگ پر زیادہ انحصار کیا جائے گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افغانستان میں آج کل بھی اتحادی افواج کے درمیان جھڑپیں بعض اوقات دو روز تک مسلسل جاری رہتی ہیں جس سے طالبان کے مورال میں اضافے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات پینتالیس ہزار غیر ملکی افواج کو گزشتہ سال طالبان کی طرف سے خاصی مزاحمت کا سامنا کر نا پڑا تھا جبکہ نیٹو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال موسم بہار میں طالبان کی مزاحمت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کوہ ہندوکش پر پڑی برف کے پگھلنے کے ساتھ ہی طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے نیٹو سے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجی جائے۔ افغانستان میں نیٹو کے سبکدوش سربراہ جنرل ڈیوڈ رچرڈ نے کہا تھا کہ طالبان کی مزاحمت سے نمٹنے کے لیے نیٹو کو چار یا پانچ ہزار مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پشاور میں غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات میں صوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری مزاحمت کاری میں سرحد پار حملہ آوروں کا بہت معمولی ہاتھ ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سرحد کے گورنر کی جانب سے طالبان کی حمایت میں اضافے کے بیان سے پاک افغان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین افغانستان میں بڑھتی مزاحمت کاری کے ذمہ دار عناصر کے حوالے سے پہلے ہی ’لفظوں کی جنگ‘ جاری ہے۔ علی جان اورکزئی نے کہا ہے کہ طالبان مزاحمت کاروں کو شکست دینے کے لیے کئی سال کا عرصہ درکار ہے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کابل حکومت اور اس کے بیرونی حامیوں کو ایک نہ ایک دن طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔ | اسی بارے میں طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ04 February, 2007 | آس پاس موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان06 February, 2007 | آس پاس طالبان کارروائی، افغان اہلکار گرفتار12 February, 2007 | آس پاس طالبان نے 24 افغان اہلکار رہا کر دیے13 February, 2007 | آس پاس طالبان رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ14 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||