طالبان کارروائی، افغان اہلکار گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے جنوبی افغانستان میں ایک حملہ کے دوران افغان پولیس کے تیس اہلکاروں کو زندہ پکڑنے کا دعوی کیا ہے تاہم افغان حکام نے اس بات کی تردید کی ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اتوار کو طالبان نے صوبہ ہلمند کے شہر واشیر پر حملہ کیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان پولیس سے بھاری اسلحہ اور پانچ گاڑیاں قبضہ قاری یوسف نے حملہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعوی کیا’واشیر کا علاقہ گزشتہ دو ماہ سے طالبان کے زیر قبضہ تھا لیکن سنیچر کو افغان پولیس نے جب حملہ کیا تو طالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت شہرکو خالی کر دیا تھا تاہم طالبان نے اتوار کو دوبارہ حملہ کیا جس میں افغان پولیس کے اہلکار بھاری اسلحے اورگاڑیوں سمیت پکڑے گئے‘۔ صوبہ ہلمند کے پولیس سربراہ نبی جان ملاخیل نے طالبان کے اس دعویٰ کی تردید کی ہے۔ نبی جان ملاخیل کے مطابق واشیر میں قبائلی مشران اور مقامی انتظامیہ کے درمیان کچھ اختلافات تھے جو اب رفع ہو گئے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ جنوبی افغانستان کے کئی صوبے ان کے کنٹرول میں ہیں جبکہ افغان حکام اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ طالبان نے تقریباًً بارہ دن قبل جنوبی صوبہ ہلمند کے اہم شہر موسی قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا جو اب تک بدستور قائم ہے۔ افغان حکام نے طالبان کے قبضہ کی تصدیق کی تھی۔ | اسی بارے میں آٹھ افغان پولیس اہلکار ہلاک12 October, 2003 | آس پاس افغان پولیس اور فوج میں تصادم01 November, 2003 | آس پاس چھ افغان پولیس اہلکاروں کے سر قلم 10 July, 2005 | آس پاس ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||