طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات اتحادی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اتوار کی صبح ایک حملے میں موسیٰ قلعہ میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کردیا ہے جبکہ طالبان نے اس دعوی کی تردید کرتے ہوئے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ اتحادی فوج نے اپنے ایک بیان میں ہلاک ہونے والے طالب کمانڈر کا نام ظاہر نہیں کیا ہے البتہ افغان حکام نے ہلاک ہونے والے شخص کا نام ملا عبدالغفور بتایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا یہ اہم کمانڈر حال ہی میں موسیٰ قلعہ میں پیش آنے والے واقعات اور شہر کے اندر دہشت گردی کے متعدد حملوں کا ذمہ دار تھا۔ بیان کے مطابق اتوار کی صبح آٹھ بجے اتحادی فوج نے موسیٰ قلعہ سے باہر طالب کمانڈر کی گاڑی پر فضائی حملہ کیا جس کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس سے یہ اندازہ ہوا کہ گاڑی میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد لے جایا جا رہا تھا۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے سٹیلائٹ فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اتحادی فوج کے اس دعوے کی تردید کی اور کہا ہے کہ حملے میں طالبان کا کوئی اہم کمانڈر ہلاک نہیں ہوا ہے۔ ملا غفور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین دن قبل موسیٰ قلعہ پر طالبان کے قبضہ کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کا ایک بھائی چھبیس جنوری کو اتحادی فوج کے ایک حملے میں اپنے آٹھ ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا تھا۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر طالبان کو اتحادی افواج کی جانب سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے تو طالبان موسیٰ قلعہ کو دوبارہ قبائلی عمائدین کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔ واضح رہے طالبان نے دو دن قبل افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے اہم شہر موسیٰ قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا جوطالبان اور برطانوی فوج کے معاہدے کے بعد سے گزشتہ چار ماہ سے قبائلی عمائدین کے کنٹرول میں تھا۔ اتحادی فوج نے سنیچر | اسی بارے میں چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی26 July, 2005 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس افغانستان: درجنوں طالبان ہلاک 04 December, 2006 | آس پاس طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی23 December, 2006 | آس پاس نیٹو حملہ میں ’تیس طالبان ہلاک‘31 January, 2007 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||