BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 February, 2007, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید

برطانوی فوج کا امن معاہدہ ناکام ثابت ہوا
طالبان نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے شہر موسیٰ قلعہ پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے تاہم افغان حکومت ان اطلاعات کی تردید کرتی ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی ملیشا نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ایک اہم شہر موسیٰ قلعہ پر قبضہ نہیں تاہم وہ ضلعی ہیڈکوارٹر کے قریب پہنچے ضرور ہیں۔

کابل میں وزرات داخلہ کے ترجمان زمرے بشری نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ قلعہ میں کچھ عرصہ قبل قبائلی عمائدین سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق قبائل نے خود علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات طالبان نے موسیٰ قلعہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا جس سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان نے تسلیم کیا کہ طالبان موسیٰ قلعہ کے ضلعی حدود میں داخل ضرور ہوئے ہیں تاہم علاقہ ابھی تک ان کے کنٹرول میں نہیں آیا ہے۔

زلمے بشری کا کہنا تھا کہ آج شام ان کی موسیٰ قلعہ کے قبائلی عمائدین سے بات ہوئی ہیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو کل رات سے اسلامی ملیشا کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔

ادھر قندہار میں بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار میروائس افغان نے تصدیق کی کہ جمعرات کو دس بجے طالبان نے موسیٰ قلعہ پر حملہ کیا اور ضلعی ہیڈکورٹرز سمیت تمام اہم سرکاری عمارات پر قابض ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ضلعی ہیڈکوارٹرز، پولیس ہیڈکوارٹرز اور دیگر اہم عمارات پر اسلامی ملیشاء کا کنٹرول ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحادی افواج کی جانب سے علاقے پر آج رات حملے کے خدشے کے پیش نظر شہر سے لوگوں کو نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

اس سے قبل ہلمند میں طالبان کے اہم کمانڈر ملا گل آغا نے بی بی سی کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ گزشتہ رات موسیٰ قلعہ پر حملے کے وقت دس افغان سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

صوبہ ہلمند میں مقامی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے بعد وہاں سے برطانوی افواج چلی گئی تھیں۔ امریکی کمانڈروں اور سفارتکاروں نے اس معاہدے کی مخالفت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ مقامی رہنماؤں کے ساتھ نہیں بلکہ طالبان کے ساتھ کیا گیا تھا جو کہ طالبان کو شکست دینے کی درست حکمت عملی نہیں ہے۔

کچھ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز طالبان کے کنٹرول کے بعد وہ شہر چھوڑ کر جارہے ہیں کیوں کہ وہاں بمباری ہوسکتی ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار السٹیئر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ موسیٰ قلعہ پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے سے اتحادی افواج کی حکمت عملی کو دھچکا پہنچا ہے۔

طالبان کا اس شہر پر کنٹرول اتحادی افواج کا کنٹرول امریکی کمانڈروں کے پاس منتقل ہونے سے چار روز قبل پیش آیا ہے۔

ہلمند کے گورنر اور مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان جمعرات جمعہ کی شب شہر میں گھس آئے اور کئی مقامی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔

اسی بارے میں
150 مزاحمت کار ہلاک: نیٹو
11 January, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد