افغانستان کی مزید فوجی امداد: نیٹو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کو مزید مالی اور فوجی امداد دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اجلاس سے قبل امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان کے لیے مزید دس اعشاریہ چھ بلین ڈالر کی امداد دے گا اور اپنی افواج وہاں تعینات رکھے گا۔ نیٹو ممالک پر امریکہ کا دباؤ بھی تھا کہ وہ افغانستان میں مزید کچھ کریں۔ نیٹو مغربی ملکوں کا فوجی اتحاد ہے۔ دریں اثناء نیٹو کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کی افواج موسم بہار کے آنے پر افغانستان میں طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کریں گی۔ نیٹو افواج کے اہلکار اس بات کا خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ سردی کا موسم ختم ہوتے ہی طالبان اپنی سرگرمیاں تیز کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے واقعے میں نیٹو افواج کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں ’ایک اعلیٰ طالبان رہنما اور ان کے نائب رہنماؤں‘ کو ہلاک کردیا ہے۔ برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار راب واٹسن کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے امریکہ نے دس ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان کرکے نیٹو ممالک سے بھی امداد نکلوانے کے اپنے مقصد میں کامیاب رہا ہے۔ برسلز میں نیٹو کانفرنس میں شرکت کے لیے جاتے وقت امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ مزید آٹھ اعشاریہ چھ بلین ڈالر افغان فوجیوں کے لیے تربیت اور ہتھیار پر خرچ کرے گا۔ سن 2001 میں افغانستان پر امریکی حملوں میں طالبان کے زوال کے بعد سے امریکہ نے اب تک وہاں چودہ بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کے چوبیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||