 | | | گزشتہ سال نیٹو کو شدید طالبان مزاحمت کا سامنا رہا |
افغانستان میں کڑاکے کی سردی آتے ہی طالبان جنجگو دیہاتوں اور پہاڑیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے گرمی کے موسم کے شروع ہونے سے تک، طالبان مزاحمت کے زور پکڑنے کی امید نہیں ہے۔ طالبان مزاحمت کی اس موسمی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کے لیے نیٹو افواج ایک خصوصی حکمت عملی پر کام کررہی ہیں۔ نیٹو افواج اور افغان سکیورٹی فورسز اس خصوصی حکمت عملی کے تحت سخت گیر موقف رکھنے والے طالبان اور ان جنجگجوؤں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا چاہتی ہیں جو نظریاتی طور پر طالبان کے قریب نہیں ہیں اور پیسے کے لیے لڑتے ہیں۔ اس لڑائی کو ایک معاشی پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ نیٹو افواج کا خیال ہے کہ اگر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دیہاتوں میں کاشت کاری کرنے، پولیس میں شامل ہونے یا روزگار کے دیگر مواقع فراہم کیے جائیں تو طالبان کی جانب ان کی کشش کم پڑجائے گی۔ لہذا چند مہینوں کے اندر جب کاشتکاری کا موسم شروع ہوگا، کوشش یہ کی جائے گی کہ مقامی کاشت کاروں کو افیون کی کاشت کرنے سے روکنے پر آمادہ کیا جائے جو کہ طالبان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ قندھار میں نیٹو کے جنوبی کمانڈ کے ترجمان ڈیوِڈ مارش کہتے ہیں کہ اس حکمت عملی کے تحت طالبان اور بالخصوص ان کی قیادت کے خلاف فوجی کارروائی جاری رہے گی اور ساتھ ہی مقامی برادری کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔  | نیٹو کی نئی حکمت عملی؟  قندھار میں نیٹو کے جنوبی کمانڈ کے ترجمان ڈیوِڈ مارش کہتے ہیں کہ اس حکمت عملی کے تحت طالبان اور بالخصوص ان کی قیادت کے خلاف فوجی کارروائی جاری رہے گی اور ساتھ ہی مقامی برادری کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔  |
انہی نکات کا خیال رکھتے ہوئے قندھار کے ژاری اور پنجوائی اضلاع میں ’آپریشن باز تسکا‘جاری ہے۔قندھار میں کیے جانے والے فوجی آپریشن میں کینیڈا کے ڈھائی ہزار فوجیوں کا کردار سب سے اہم ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ سال نیٹو کو طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا تھا۔ سردی کے آنے سے کینیڈا اور نیٹو کی افواج کو موقع ملا ہے کہ عام افغانوں تک ترقیاتی امداد پہنچائی جائے اور استحکام پیدا کیا جائے۔ کینیڈا کے وزیر خارجہ پیٹر میکے نے گزشتہ پیر کو علاقے کا دورہ کیا اور افغان پولیس کے لیے امداد، ٹریننگ اور تنخواہ کے اعلانات کیے۔ یہ اقدامات کینیڈا میں عوام کو پسند آئیں گے کیوں کہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ نیٹو کے ملکوں کے عوام کے اندر افغانستان جیسی فوجی کارروائیوں کی حمایت کم ہوتی جارہی ہے۔ تاہم یہ غیریقینی کا وقت ہے۔ نیٹو کے کمانڈروں کا خیال ہے انہوں نے طالبان مزاحمت کو کمزور کردیا ہے لیکن ساتھ ہی طالبان کی صفوں میں مزید اضافے کا اندیشہ بھی ہے۔ ایک اہم بات جو سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ پاک افغان سرحد سے طالبان آسانی سے گزر رہے ہیں۔ افغان حکومت بار بار پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے اور پاکستان نے سرحد پر بارودی سرنگ بچھانے اور باڑ لگانے کی تجاویز بھی دی ہیں جو افغانوں کو منظور نہیں۔ ایسے حالات میں افغانوں کے دلوں کو جیتنے کی نیٹو کی حکمت عملی کتنی کامیاب رہے گی شاید گرمی کے موسم کے آنے کے بعد ہی پتہ چل سکے۔ |