BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 September, 2006, 01:26 GMT 06:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے بیان پر کینیڈا میں بحث

کینیڈین اخبارات میں جنرل مشرف کے بیان پر بحث چھڑ گئی ہے
صدر پرویز مشرف کے کینیڈین افواج کے بارے میں دیے گئے ایک بیان پر کینیڈا کے افغانستان سے فوجوں کو نکالنے یا نہ نکالنے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ پرویز مشرف کو اس بیان کے بعد کینیڈین میڈیا اور عوام میں تنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا ہے۔

پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کینیڈین ٹی وی چینل سی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان سے لڑنے والے کینیڈین فوجیوں کو پاکستان کے مقابلے میں بہت کم نقصان ہورہا ہے۔ جبکہ پاکستانی افواج کو ان سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے پانچ سو سے زیادہ افراد کی قربانی دی ہے، جبکہ کینیڈا کے چار یا پانچ فوجی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں، لہذا کینیڈا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ افغانستان جیسے جنگ سے متاثرہ علاقے میں داخل ہوا ہے تو اس کو جانی نقصان کے لیے تیار رہنا چاہیے یا ان کاروائیوں سے دستبردار ہوکر اپنی افواج کو اس علاقے سے نکال لے۔

کینیڈا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ لوگ دو افراد کی جانوں کے ضائع ہونے پر رونا شروع کردیتے ہیں اور ہرطرف شور مچا مچا کرکہنا شروع کر دیتے ہیں کے ہر طرف جنازے ہی جنازے ہیں جبکہ ہم نے پانچ سو جنازے اٹھائے ہیں۔

صدر پرویز مشرف کا بیان
افغانستان میں طالبان سے لڑنے والے کینیڈین فوجیوں کو پاکستان کے مقابلے میں بہت کم نقصان ہورہا ہے۔ جبکہ پاکستانی افواج کو ان سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے پانچ سو سے زیادہ افراد کی قربانی دی ہے، جبکہ کینیڈا کے چار یا پانچ فوجی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں، لہذا کینیڈا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ افغانستان جیسے جنگ سے متاثرہ علاقے میں داخل ہوا ہے تو اس کو جانی نقصان کے لیے تیار رہنا چاہیے یا ان کاروائیوں سے دستبردار ہوکر اپنی افواج کو اس علاقے سے نکال لے۔
سی بی سی ٹی وی کے مطابق صدر مشرف نے کینیڈین وزیر دفاع گورڈن اوکانر کی اس تجویز کو رد کر دیا تھا جس کے مطابق کینیڈین افواج پاکستان میں افواج سے مل کر طالبان کے خلاف آپریشن میں حصہ لیں گی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ پاک افواج کو جنگوں کا وسیع تجربہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی افواج اپنا کام بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتی ہیں۔

سن دو ہزار ایک کے بعد سے اب تک کینیڈین افواج کے چھتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

کینیڈا کی اپوزیشن لبرل پارٹی کے سربراہ بل گراہم نے کہا ہے کہ وہ صدر مشرف کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کا خیال ہے کہ ہر وہ ملک جو اس جنگ سے متاثرہ ملک میں مدد کے لیے آیا ہے جانی نقصان کرے۔ بل گراہم نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان اور ان کے حامیوں کے لیے پاکستان ایک محفوظ جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ماضی میں پاکستان سے مل کر افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ کرنے کی تجویز دی تھی۔اگر ایسا کر لیا جاتا تو آج کینیڈین فوجیوں کو ہلاک کرنے والوں کو سرحدوں کو عبور کرنا مشکل ہوتا۔

لبرل پارٹی کے دفاعی تنقید نگار اجل دسانج نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو چاہیے کہ وہ افعانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد کو محفوظ بنائیں تاکہ طالبان پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوکر ہمارے فوجیوں، مردوں اور عورتوں کا قتل نہ کریں۔ جب کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر کو پرویز مشرف کے بیان کے بارے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے فی الوقت پاکستان پر کسی قسم کی تنقید کرنے سے پرہیز کیا ہے۔

کینیڈا کے سابق وزیراعظم پال مارٹن نے کہا ہے کہ کینیڈا کو افغانستان کی تعمیرنو اور مد کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہیئں۔ جنگ جیتنے سے پہلے ہمیں عوام کے دل جیتنے ہوں گے۔

صدر مشرف کے بیان کی مذمت
 ہم صدر مشرف کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ جنرل مشرف کا خیال ہے کہ ہر وہ ملک جو اس جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان میں مدد کے لیے آیا ہے جانی نقصان کرے۔ طالبان اور ان کے حامیوں کے لیے پاکستان ایک محفوظ جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری حکومت نے ماضی میں پاکستان سے مل کر افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ کرنے کی تجویز دی تھی۔اگر ایسا کر لیا جاتا تو آج کینیڈین فوجیوں کو ہلاک کرنے والوں کو سرحدوں کو عبور کرنا مشکل ہوتا۔
لبرل پارٹی کے سربراہ بل گراہم

ٹورانٹو کے رہائشی کینیڈین شہری جیف نے صدر مشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ موت ایک فوجی کی ہو یا پانچ سو فوجیوں کی سب کی قربانی انتہائی اہم مقام رکھتی ہے۔اور کینیڈیں افواج افغانستان میں درپیش مشکلات سے آگاہ ہیں۔ پرویزمشرف کا بیان پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں دراڑیں ڈال سکتا ہے۔

ٹونی سلیر نامی کینیڈین نے کہا کہ پاکستانی صدر کا بیان درست نہیں ہے مگر ہم خوش ہیں کہ انہوں نے یہ بیان دیا ہے۔اس سے کینیڈین افواج کے افغانستان سے واپس نکالے جانے یا نہ نکالے جانے والی بحث کو حتمی شکل ملے گی۔ جانیں ضائع ہوں یا نہ ہوں ہمیں وہاں سے اپنی افواج کو نکالنا ہوگا۔

کینیڈا کے شہر ونی پیگ سے تعلق رکھنے والے شہری جس نے اپنا نام جے بتایا ہے کا کہنا ہے کہ جنگوں میں ہونے والے جانی نقصان کا موازنہ نہیں ہونا چاہیئے۔اگر عیسائیوں کے پوپ نے مسلمانوں سے معافی مانگی ہے تو پرویز مشرف بھی کینیڈین عوام سے اپنے اس بیان پر معافی مانگیں اور کینیڈا کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ دوران جنگ جانیں تو ضائع ہوسکتی ہیں۔

پاکستانی نژاد کینیڈین شہری رانا سہیل نے کہا ہے کہ جنرل مشرف ایک فوجی سربراہ ہیں اور انہوں نے اپنی فوجی حیثیت میں یہ بیان بالکل درست دیا ہے کیونکہ ایک فوجی جب بھی کسی مشن پر جاتا ہے تو اسے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ موت کے ساتھ کھیلنے جارہا ہے اور جنگ میں جانوں کا نقصان تو ہوتا ہی ہے۔

طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
صدر کرزئی کی تنقید
اتحادی افواج حکمت عملی بدلیں: کرزئی
مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
 ہلمندافغانستان میں نیٹو
جوانوں اور رسد کی کمی رہی تو کیا ہوگا؟
کابل دس سال بعد
طالبان نے دس سال قبل کابل پر قبضہ کیا تھا
اسی بارے میں
ستمبر گیارہ تباہی لایا
11 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد