BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افعانستان میں بڑے آپریشن کا آغاز
افغانستان
امریکی فوجیں افغانستان میں 2001 سے موجود ہیں
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتحادی فوجوں نےافغانستان کے جنوب مشرقی حصے میں طالبان انتہا پسندوں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکہ نے بتایا ہے کہ اس آپریشن کو ’ماؤنٹین فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں امریکہ کی سربراہی میں 3000 ہزار فوجی اور 4000 افغان سکیورٹی اہلکار شریک ہو رہے ہیں۔

اس آپریشن کا مقصد پاکستان کی سرحد کے قریب مشرقی صوبوں میں موجود طالبان کو ’مسلسل دباؤ‘ میں رکھنا ہے۔

نیٹو کی سربراہی میں فوجیں جنوبی افغانستان میں طالبان سے لڑائی کر رہی ہیں لیکن امریکی فوجی نیٹو کی سرکردگی میں کام نہیں کرتے۔

امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں سے اس آپریشن کی تیاری کی جا رہی تھی لیکن ہفتہ کو اس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔

فوجی مشرقی صوبوں پکٹیکا، خوسٹ اور پکتیا کے ساتھ ساتھ غزنی اور لوگار کے علاقوں میں بھی پھیل گئے ہیں۔

فوج کے مطابق ان فوجوں کا مقصد ناصرف امن و امان بحال کرنا ہے بلکہ مختلف تعمیراتی منصوبوں پر بھی کام کرنا ہے۔

شاید طالبان محسوس کر رہے ہیں کہ بین الااقوامی کمانڈر ان سے مقابلہ کرنے کے لیے مزید کمک کی درخواست کر رہے ہیں۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نمائندے ایلسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک اس سال میں سب سے زیادہ خون ریزی ہوئی ہے۔

جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جاری لڑائی بہت شدت سے جاری رہی ہے اور مزاحمت کاری میں قتل، سکولوں کو جلانا اور سڑکوں پر بم دھماکے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد