افعانستان میں بڑے آپریشن کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتحادی فوجوں نےافغانستان کے جنوب مشرقی حصے میں طالبان انتہا پسندوں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ نے بتایا ہے کہ اس آپریشن کو ’ماؤنٹین فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں امریکہ کی سربراہی میں 3000 ہزار فوجی اور 4000 افغان سکیورٹی اہلکار شریک ہو رہے ہیں۔ اس آپریشن کا مقصد پاکستان کی سرحد کے قریب مشرقی صوبوں میں موجود طالبان کو ’مسلسل دباؤ‘ میں رکھنا ہے۔ نیٹو کی سربراہی میں فوجیں جنوبی افغانستان میں طالبان سے لڑائی کر رہی ہیں لیکن امریکی فوجی نیٹو کی سرکردگی میں کام نہیں کرتے۔ امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں سے اس آپریشن کی تیاری کی جا رہی تھی لیکن ہفتہ کو اس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔ فوجی مشرقی صوبوں پکٹیکا، خوسٹ اور پکتیا کے ساتھ ساتھ غزنی اور لوگار کے علاقوں میں بھی پھیل گئے ہیں۔ فوج کے مطابق ان فوجوں کا مقصد ناصرف امن و امان بحال کرنا ہے بلکہ مختلف تعمیراتی منصوبوں پر بھی کام کرنا ہے۔ شاید طالبان محسوس کر رہے ہیں کہ بین الااقوامی کمانڈر ان سے مقابلہ کرنے کے لیے مزید کمک کی درخواست کر رہے ہیں۔ کابل میں موجود بی بی سی کے نمائندے ایلسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک اس سال میں سب سے زیادہ خون ریزی ہوئی ہے۔ جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جاری لڑائی بہت شدت سے جاری رہی ہے اور مزاحمت کاری میں قتل، سکولوں کو جلانا اور سڑکوں پر بم دھماکے بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں افعانستان : نیٹو فوجی ہلاک23 August, 2006 | آس پاس قندھار: 14 برطانوی فوجی ہلاک02 September, 2006 | آس پاس پوست کی کاشت، ساٹھ فیصد اضافہ03 September, 2006 | آس پاس ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس نیٹو کمک کی کوئی پیشکش نہیں14 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||