نیٹو کمک کی کوئی پیشکش نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے رکن ممالک نے بیلجیئم میں اجلاس میں افغانستان میں مزید دو ہزار پانچ سو فوجی بھیجنے کے امریکی مطالبے کے باوجود کمک کی کوئی پیشکش نہیں کی ہے۔ افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوۓ دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لۓ نیٹو کی مزید فوجیں بھیجنے کا معاملہ بیلجیئم کے ایک اجلاس میں زیر غور رہا اور نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگرچہ کسی کی جانب سے باضابطہ پیش کش نہیں ہوئی لیکن کچھ ملکوں نے مثبت اشارے دیئے ہیں کہ آئندہ فوجیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ افغانستان میں جہاں نیٹو کی بیس ہزار فوج موجود ہے فوجی کمانڈروں کا مطالبہ ہے کہ مزید ڈھائی ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ اگر نیٹو نے مزید فوج نہ بھیجی تو افغانستان ایک ناکام ملک بن جائے گا۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ نیٹو ممالک کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی ضرورت ہے۔
اُدھرافغان پارلیمنٹ کے ایک رکن شکریہ بارک زئی نے بی بی سی کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں لڑائی ختم کرنے کے لیۓ فوجی کارروائی واحد راستہ نہیں ہے۔ افغانستان کو قابل عمل تدبیر کرنی ہوگی اور امن قائم کرنے کا موثر راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ دریں اثناء افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی حملے ہوئے ہیں جن میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں اکثریت شدت پسندوں کی تھی۔ ہلمند کے مقامی حکام نے بتایا کہ گرم سیر میں افغان پولیس اور طالبان کے درمیان لڑائی میں سولہ طالبان ہلاک ہوئے۔ غزنی میں افغان اور امریکی کارروائی کے دوران بیس یا اس سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت ہوئی ۔ نیٹو کے ایک ترجمان کے مطابق اس سال خود کش حملوں میں ایک سو ستر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو سب کے سب شہری تھے۔ کینیڈا میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے کہا تھا کہ امریکہ نے 1998 میں روس کے افغانستان سے جانے کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا انہوں نے کہا کہ جغرافیائی طور پر افغانستان ایک ایسی جگہ واقع ہے جو دہشت گرد تنظیوں کے لیئے بہترین پناہ گا بن سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس چالیس مشتبہ طالبان ہلاک: نیٹو09 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||