BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 September, 2006, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹو کمک کی کوئی پیشکش نہیں
افغانستان
افغانستان میں تشدد کے واقعات میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے
نیٹو کے رکن ممالک نے بیلجیئم میں اجلاس میں افغانستان میں مزید دو ہزار پانچ سو فوجی بھیجنے کے امریکی مطالبے کے باوجود کمک کی کوئی پیشکش نہیں کی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوۓ دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لۓ نیٹو کی مزید فوجیں بھیجنے کا معاملہ بیلجیئم کے ایک اجلاس میں زیر غور رہا اور نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگرچہ کسی کی جانب سے باضابطہ پیش کش نہیں ہوئی لیکن کچھ ملکوں نے مثبت اشارے دیئے ہیں کہ آئندہ فوجیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

افغانستان میں جہاں نیٹو کی بیس ہزار فوج موجود ہے فوجی کمانڈروں کا مطالبہ ہے کہ مزید ڈھائی ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ اگر نیٹو نے مزید فوج نہ بھیجی تو افغانستان ایک ناکام ملک بن جائے گا۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ نیٹو ممالک کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان
 افغانستان ایک ایسی جگہ واقع ہے جو دہشت گرد تنظیوں کے لیئے بہترین پناہ گا بن سکتا ہے۔
کونڈولیزرائس

اُدھرافغان پارلیمنٹ کے ایک رکن شکریہ بارک زئی نے بی بی سی کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں لڑائی ختم کرنے کے لیۓ فوجی کارروائی واحد راستہ نہیں ہے۔ افغانستان کو قابل عمل تدبیر کرنی ہوگی اور امن قائم کرنے کا موثر راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

دریں اثناء افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی حملے ہوئے ہیں جن میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں اکثریت شدت پسندوں کی تھی۔

ہلمند کے مقامی حکام نے بتایا کہ گرم سیر میں افغان پولیس اور طالبان کے درمیان لڑائی میں سولہ طالبان ہلاک ہوئے۔ غزنی میں افغان اور امریکی کارروائی کے دوران بیس یا اس سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت ہوئی ۔ نیٹو کے ایک ترجمان کے مطابق اس سال خود کش حملوں میں ایک سو ستر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو سب کے سب شہری تھے۔

کینیڈا میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے کہا تھا کہ امریکہ نے 1998 میں روس کے افغانستان سے جانے کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا
تھا اور ’ہم سب کو اس فیصلے کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ کیونکہ اگر آپ ایسی اہم جگہ کو تنہا چھوڑتے ہیں تو پھر آپ کو بھگتنا بھی پڑتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جغرافیائی طور پر افغانستان ایک ایسی جگہ واقع ہے جو دہشت گرد تنظیوں کے لیئے بہترین پناہ گا بن سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد