BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 September, 2006, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چالیس مشتبہ طالبان ہلاک: نیٹو
طالبان کے خلاف جنگی کاروائیوں میں برطانوی فوجی سب سے آگے ہیں۔
نیٹو کی اتحادی افواج نے شمالی افغانستان کے فوجی آپریشن میں مزید چالیس مشتبہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

نیٹو کے مطابق ایک ہفتے پہلے قندھار میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں وہ اب تک تین سو باغیوں کو مار چکے ہیں۔

پولینڈ میں نیٹو کے ممبر ممالک کی پولینڈ میں ہونے والی میٹنگ میں افغانستان میں مزید فوجی تعینات کرنےکے بارے میں غور کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں دو ہزار فوجیوں کا اضافہ متوقع ہے۔ یہ تعداد اس لیئے بھی بڑھائی جا رہی ہے کہ اتحادی افواج کے بہت سے فوجی اس آپریشن میں جوابی کارروائیوں کے سبب ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے پال ووڈ کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں جتنے فوجیوں کے اضافے پر غور کیا گیا تھا یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اتحادی فوج کو افغانستان میں کتنی مشکل درپیش ہے۔

پچھلے کچھ ہفتوں میں نیٹو افواج کے بہت سے برطانوی اور کینیڈین فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس لیئے ترکی، جرمنی اور اٹلی نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیئے افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کو قندھار بھیجنے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔

دو ستمبر کو شروع ہونے والے میدوسا آپریشن کا مقصد یہ ہے کہ باغیوں کو قندھار کے علاقے سے باہر نکال دیا جائے۔ جولائی کے آخر میں امریکہ نے اس علاقے کی سربراہی نیٹو کو سونپ دی تھی جس کے بعد سے نیٹو اتحادیوں کا یہ سب سے بڑا آپریشن ہے۔ نیٹو نمائندے کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں بم بنانے والی ایک فیکٹری بھی پکڑی گئی ہے۔

 پچھلے کچھ ہفتوں میں نیٹو افواج کے بہت سے برطانوی اور کینیڈین فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس لیئے ترکی، جرمنی اور اٹلی نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیئے افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کو قندھار بھیجنے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔

اتحادی فوجیوں نے قندھار شہر کی اہم شاہراہ کو عام لوگوں کے لیئے کھول دیا ہے۔

جمعہ کے روز کابل میں امریکی کار پر خودکش حملے کے بعد یہ جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس میں کم از کم سولہ لوگ مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں دو امریکی بھی شامل تھے۔

خود کو طالبان کا نمائندہ بتانے والے ایک آدمی نے افغان نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ اس خود کش حملے کے پیچھے باغی گروہ کا ہاتھ ہے۔ ’خود کش حملوں کا سلسلہ تو بہت عرصے سے جاری ہے مگر یہ دھماکہ غیر معمولی تھا‘۔

طالبان دور کے رہنما احمد شاہ مسعود کی ہلاکت کو ہفتے کے روز پانچ سال پورے ہو جائیں گے اور اس موقع پر طالبان پوری تیاری میں ہیں۔ متوقع حملوں کے پیش نظرافغان دارالخلافہ کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

افغان فوج کے سپاہیوں نے کابل کی طرف جانے والی ساری سڑکوں پر چیک پوائنٹس بنا دیئے ہیں اور ہر کار کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
نیٹو مِشن کو درپیش مسائل
05 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد