نیٹو آپریشن: 200 ’طالبان‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے نمائندے کے مطابق نیٹو اور افغانستان کی اتحادی فوج نے ملک کے جنوبی حصے میں ایک نئے اور بڑے فوجی آپریشن میں ’دو سو مشتبہ طالبان‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ سنیچر کو شروع کی گئی کارروائی میں بیس سے زیادہ باغی مارے جا چکے ہیں۔ آپریشن میدوسا کے تحت دو ہزار افغان اور نیٹو کے سپاہی مل کر صوبہ قندھار میں باغیوں کے گڑھ کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیں گے۔ آپریشن شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوجی ٹھکانوں کا کھوج لگانے والا برطانوی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس پر سوار چودہ فوجی مارے گئے۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ طیارہ کسی فنی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ نمرود ایم آر ٹو نامی یہ طیارہ انھوں نے مار گرایا ہے۔ جب سے نیٹو کی سربراہی میں اتحادی فوج کے تحت جنوبی افغانستان میں آپریشن شروع کیا ہے، میدوسا آپریشن ان میں سب سے بڑا ہے۔ نیٹو کی پوری توجہ پنجوائی کے علاقے پر ہے جو قندھار سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نیٹو کا بنیادی مقصد وہاں سے باغیوں کا خاتمہ ہے تا کہ عام افغان اپنے گھروں کو واپس لوٹ کر ایک عام زندگی بسر کر سکیں۔ کابل کے نمائندے مج لیوک نے کہا کہ ’بیس باغیوں کو ختم کر کے نیٹو فوجی یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ کس طرح اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں‘۔ | اسی بارے میں ہلمند میں مزید 25 ’طالبان‘ ہلاک04 August, 2006 | آس پاس طالبان پر جاسوسہ کے قتل کا الزام09 August, 2006 | آس پاس کیا کوئٹہ سے گرفتار27 واقعی طالبان ہیں؟16 August, 2006 | پاکستان افغانستان: یہ شدت پسند کون ہیں؟18 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||