BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 03:39 GMT 08:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا کوئٹہ سے گرفتار27 واقعی طالبان ہیں؟

مشتبہ طالبان (فائل فوٹو)
مشتبہ طالبان (فائل فوٹو)
زرغون روڈ کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال سے گرفتار کیے گئے 27 طالبان کی گرفتاری کچھ مشکوک ہوتی جارہی ہے ـ

پولیس نے طالبان کے الزام میں گرفتار عثمان ولد آمر دین، عبدالقیوم ولد ندامحمد، محمد یونس ولد حاجی نواب خان، عبدالرزاق ولد آغاگل اور گلا لۓ کا تعلق افغانستان کے مختلف علاقوں سے بتایا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں 10 ایسے افراد شامل ہیں جو زخمی حالت میں کوئٹہ کے الخیر ہسپتال سے علاج معالجہ کے دوران گرفتار ہوئے ہیں اور ان میں زیادہ تر کو پاؤں اور ہاتھوں پر چوٹیں آئی ہیں۔ کوئٹہ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں نےگرفتاری کے بعد ان پر الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ افغانستان کے صوبوں ہلمند اور قندھار میں امریکہ اور ان کے اتحادی افواج کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں لڑنے کے دوران زخمی ہوئے ہیں لیکن رات گئےگرفتار 27 مبینہ طالبان میں سے 10 زخمیوں کو علاج معالجے کے لیئے جب کوئٹہ کے سول ہسپتال لایا گیا تو پولیس کے بعض اہلکاروں نے زخمیوں سے صحافیوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی۔

اس موقع پر کئی کوششوں کے بعد ایک شخص گل لالئے نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کا طالبان و‏غیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صوبہ باد غیس کے رہنے والے ہیں اور ایک ہوٹل میں کام کر رہے تھے کہ 6 دن پہلے گیس کا ایک سِلنڈر پھٹنے سے ان کا ہاتھ زخمی ہو گیا تھا اور وہ چار دنوں سے علاج کے لیئے کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں داخل تھے کہ منگل کے روز پولیس نے انہیں افغانی طالبان کے شبہ میں گرفتار کر لیا حالانکہ بقول ان کے ان کا ’طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

 گلا لۓ بات کر رہا تھا کھ پولیس کے اہلکار نے وہاں آکر اسے مزید تفصیلات بتانے سے سختی سے منع کیا اور بتایا کہ پولیس ایس ایچ او کی اجازت کے بغیر کسی صحافی کو ان لوگوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

گلا لۓ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کررہا تھا کھ پولیس کے اہلکار نے وہاں آ کر اسے مزید تفصیلات بتانے سے سختی سے منع کیا اور بتایا کہ پولیس ایس ایچ او کی اجازت کے بغیر کسی صحافی کو ان لوگوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس موقع پر ایک ڈاکٹر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے کہا کہ اگر یہ گرفتار اور زخمی افغانی باشندے واقعی طالبان ہیں بھی تو بہتر یہی تھا کہ انہیں اسی نجی ہسپتال میں علاج معالجے کے لیئے زیر حراست رکھا جاتا کیونکہ وہاں کے ڈاکٹرز ان کے کیس کو بہتر جانتے تھے ـ

یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ چند ہفتے قبل بھی کوئٹہ پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں اور دینی مدارس سے ڈیڑھ سو سے زیادہ مشکوک افغانوں کو گرفتار کیا تھا جن پر پولیس نےالزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ افغانستان کے طالبان ہیں اور اس سلسلے میں چند ایک کو افغانستان بھی بھیج دیاگیا جبکہ دیگر کے خلاف ابھی تک تحقیقات جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد