افغانستان: یہ شدت پسند کون ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں گزشتہ چند ماہ تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے خصوصاً ملک کے جنوب میں جہاں نیٹو افغان حکومت کی اپنی رٹ بڑھانے میں مدد دے رہی ہے۔ افغان حکومت اس کا ذمہ دار بقول اس کے ’افغانستان کے دشمنوں‘ کو ٹھہراتی ہے۔ اس سے اکثر مراد طالبان اور ان کے القاعدہ اتحادی ہوتے ہیں۔ دونوں گروہ سنہ دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے سے قبل سے بھی بظاہر زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان طالبان کی مدد کے افغان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس تمام خون خرابے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور کون اس شورش کی مدد کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار ٹام کونیگس نے گزشتہ دنوں الزام لگایا کہ طالبان اور ان کے القاعدہ اتحادیوں کی بیرون ملک سے مالی امداد ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد کارروائیاں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے بچے جنہوں نے پاکستانی مدارس میں تعلیم حاصل کی کر رہے ہیں یا پھر وہ نوجوان جن کا کوئی مستقبل نہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں طالبان کی طاقت کی ایک وجہ اس کا مقامی آبادی کو ڈرانہ دھمکانہ ہوسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ اس کی ایک اور وجہ ان کا افغان فوج کے مقابلے میں زیادہ بہتر رقم دینا بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم بریڈفورڈ یونیورسٹی کے پال روجرز کا ماننا ہے کہ صورتحال مبہم اور پیچیدہ ہے۔ ’جہاں تک ہم کہہ سکتے ہیں یہ پرانی طالبان قیادت کا کام ہے۔ لیکن یہ بات واضع ہے کہ وہ ایک پھیلے ہوئے گروہ کی نگرانی کر رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے جنگجو اپنے آپ کو طالبان کا پیروکار بتاتے ہیں تاہم اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مقامی جنگجو سرداروں کے آلہ کار ہیں۔ یہ وہ چھوٹے کاشت کار بھی ہوسکتے ہیں جنہیں پوست کی کاشت بند ہونے کا خطرہ ہو‘۔
اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جاری تشدد کا منشیات کی تجارت سے تعلق ہے۔ مقامی بااثر گروپ جنہیں اپنے اختیار کے خاتمے کا خوف ہو وہ بھی طالبان کے ساتھ مل سکتے ہیں۔ چند علاقوں میں یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ کارروائی طالبان کا کام ہے یا کسی اور سخت گیر اسلامی گروپ یا شخص کا۔ ان میں سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اور سابق مجاہدین رہنما جلال الدین حقانی شامل ہیں۔ اس تصویر کو مزید پیچیدہ افغان معاشرے کے اندر بدلتی وفاداریاں، قبائلی، نسلی اور مقامی دشمنیاں اور تنازعات بناتے ہیں۔ افغانوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو سیاسی یا معاشی فائدے کے لیئے بھی طالبان کا نام دے دیتے ہیں۔ | اسی بارے میں کُنڑ میں اتحادی فوجی ہلاک18 August, 2006 | آس پاس افغانستان: کینیڈا کے 6 فوجی زخمی17 August, 2006 | آس پاس خوست: آٹھ مشتبہ افراد گرفتار16 August, 2006 | آس پاس ہلمند میں مزید 25 ’طالبان‘ ہلاک04 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||