BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 August, 2006, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: یہ شدت پسند کون ہیں؟

طالبان
طالبان مزاحمت میں پیش پیش ہیں۔
افغانستان میں گزشتہ چند ماہ تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے خصوصاً ملک کے جنوب میں جہاں نیٹو افغان حکومت کی اپنی رٹ بڑھانے میں مدد دے رہی ہے۔

افغان حکومت اس کا ذمہ دار بقول اس کے ’افغانستان کے دشمنوں‘ کو ٹھہراتی ہے۔ اس سے اکثر مراد طالبان اور ان کے القاعدہ اتحادی ہوتے ہیں۔

دونوں گروہ سنہ دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے سے قبل سے بھی بظاہر زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان طالبان کی مدد کے افغان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس تمام خون خرابے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور کون اس شورش کی مدد کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار ٹام کونیگس نے گزشتہ دنوں الزام لگایا کہ طالبان اور ان کے القاعدہ اتحادیوں کی بیرون ملک سے مالی امداد ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد کارروائیاں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے بچے جنہوں نے پاکستانی مدارس میں تعلیم حاصل کی کر رہے ہیں یا پھر وہ نوجوان جن کا کوئی مستقبل نہیں۔

بعض لوگوں کے خیال میں طالبان کی طاقت کی ایک وجہ اس کا مقامی آبادی کو ڈرانہ دھمکانہ ہوسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ اس کی ایک اور وجہ ان کا افغان فوج کے مقابلے میں زیادہ بہتر رقم دینا بھی ہوسکتی ہے۔

تاہم بریڈفورڈ یونیورسٹی کے پال روجرز کا ماننا ہے کہ صورتحال مبہم اور پیچیدہ ہے۔ ’جہاں تک ہم کہہ سکتے ہیں یہ پرانی طالبان قیادت کا کام ہے۔ لیکن یہ بات واضع ہے کہ وہ ایک پھیلے ہوئے گروہ کی نگرانی کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے جنگجو اپنے آپ کو طالبان کا پیروکار بتاتے ہیں تاہم اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مقامی جنگجو سرداروں کے آلہ کار ہیں۔ یہ وہ چھوٹے کاشت کار بھی ہوسکتے ہیں جنہیں پوست کی کاشت بند ہونے کا خطرہ ہو‘۔

ذمہ دار طالبان یا پوست کے کاشت کار؟

اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جاری تشدد کا منشیات کی تجارت سے تعلق ہے۔ مقامی بااثر گروپ جنہیں اپنے اختیار کے خاتمے کا خوف ہو وہ بھی طالبان کے ساتھ مل سکتے ہیں۔

چند علاقوں میں یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ کارروائی طالبان کا کام ہے یا کسی اور سخت گیر اسلامی گروپ یا شخص کا۔ ان میں سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اور سابق مجاہدین رہنما جلال الدین حقانی شامل ہیں۔

اس تصویر کو مزید پیچیدہ افغان معاشرے کے اندر بدلتی وفاداریاں، قبائلی، نسلی اور مقامی دشمنیاں اور تنازعات بناتے ہیں۔ افغانوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو سیاسی یا معاشی فائدے کے لیئے بھی طالبان کا نام دے دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد