طالبان پر جاسوسہ کے قتل کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں حکام نے طالبان پر ایک خاتون کو جاسوس قرار دے کر قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم طالبان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ہلمند کے نائب گورنر امیر محمد اخونزادہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ صوبہ کے موسی قلعہ علاقے میں منگل کو پیش آیا جہاں مشتبہ طالبان نے اس عورت اور اس کے بیٹے کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں درخت کے ساتھ لٹکا دی تھیں۔ تاہم طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔ قاری محمد یوسف کا کہنا تھا کہ ’جب ہم ایسی کارروائی کرتے ہیں تو ہم اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو مطلع کرتے ہیں۔ ہم نے کئی افراد کو جاسوسی کے الزام میں قتل کیا ہے لیکن اس سے قبل ان کے خلاف تحقیقات بھی کی ہیں۔‘ ہلمند میں ہی نیٹو افواج نے غلطی سے ایک افغان فوجی کو ہلاک کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔ ادھر تشدد کے مزید واقعات میں ایک افغان سپاہی سمیت سولہ مشتبہ طالبان کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق مشرقی صوبے نورستان میں بارہ مشتبہ طالبان کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس لڑائی میں ایک افغان اور دو امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ غزنی صوبے میں بھی صوبائی پولیس سربراہ نے بتایا کہ افغان فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں دو مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں جلال آباد میں بم دھماکہ، آٹھ ہلاک31 July, 2006 | آس پاس افغانستان: برطانوی فوجی ہلاک01 August, 2006 | آس پاس ہلمند میں مزید 25 ’طالبان‘ ہلاک04 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||