BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 July, 2006, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلال آباد میں بم دھماکہ، آٹھ ہلاک
نیٹو فوجی
اٹھارہ ہزار نیٹو فوجیوں نے جنوبی افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے۔
مشرق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں پیر کے روز ایک مسجد کے باہر کار بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے میں ننگرہار کے گورنر گل آغا شیرزئی محفوظ رہے۔ یہ لوگ وہاں ایک سابق کمانڈر کی یاد میں منعقد ایک تقریب کے لیئے جمع تھے۔

گل آغا شیرزئی نے رائٹر کو بتایا کہ اس کار بم دھماکے کا ہدف وہ تھے۔

ادھر امریکی اتحادی افواج نے پیر کے روز جنوبی افغانستان میں سکیورٹی کا انتظام نیٹو کے حوالے کر دیا ہے۔ مشرقی افغانستان میں ایک دھماکے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

نیٹو کے برطانوی کمانڈر لیفٹینٹ جنرل ڈیوڈ رچرڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے فوجی اس وقت تک افغانستان میں رہیں گے جب تک اس ملک کے عوام کو ان کی ضرورت ہوگی۔

اس سے قبل نیٹو دارالحکومت کابل اور ملک کے شمال اور مغرب کا سکیورٹی انتظام سنبھالے ہوئے تھی۔

فرانسیسی وزیرِ دفاع نے اپنے دو روزہ دورۂ افغانستان کے اختتام پر کہا تھا کہ افعانستان میں ہونے والے متعدد حملوں میں پاکستان سے آنے والے طالبان کا ہاتھ ہے۔

کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیل ایلیٹ میری کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستان سے حقیقی تعاون کی ضرورت ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کے لیئے مشکل کام ہے۔ پاک افغان سرحد بہت دشوارگزار علاقہ ہے اور ہم پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس علاقے پر کنٹرول کے لیئے مزید کوششیں کرے۔ ہمارے خیال میں بہت سے طالبان جنگجو اس علاقے سے افغانستان آ رہے ہیں‘۔

پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ وہ افغان سرحد پر دراندازی روکنے اور گشت بڑھانے کے لیئے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیر سے جنوبی افغانستان کی کمانڈ سنبھالنے والی نیٹو افواج کو پاکستان سے مزید بہتر تعاون درکار ہوگا۔ اٹھارہ ہزار نیٹو فوجی پیر سے جنوبی افغانستان کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیں گے۔

اس سے قبل یہ علاقہ امریکہ کی زیرِ سربراہی اتحادی فوج کی نگرانی میں تھا اور گزشتہ چند مہینوں میں اس علاقے میں آٹھ ہزار کے قریب برطانوی، کینیڈین اور ولندیزی فوجی تعینات کیئے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد