BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 June, 2006, 21:37 GMT 02:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹیلیجنس کے تبادلے پر اتفاق

نیٹو افواج کے سربراہ
جنوبی افغانستان میں ’نیٹو اور ایساف افواج کی موجودگی بڑھانے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا
پاکستان، افغانستان اور امریکی اتحادی افواج کے نمائندوں پر مشتمل سہ فریقی کمیشن نے انٹیلیجنس کی معلومات کے تبادلے اور موثر رابطے کے ذریعے شدت پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

فریقین کے سینیئر فوجی افسران پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کا سترواں اجلاس منگل کے روز راولپنڈی میں ہوا جس میں پہلی بار ’نیٹو، کے نمائندے باضابطہ طور پر رکن کی حیثیت میں شریک ہوئے۔

یہ اجلاس اس وقت ہورہا ہے جب چند ہفتے قبل جہاں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان پر طالبان شدت پسندوں کی مدد کرنے اور دراندازی کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے اور پاکستان حکومت نے بلوچستان میں قائم افغان پناہ گزینوں کے کیمپ سے بعض افغانستان کے سینیئر افسروں کو گرفتار کرکے افغانستان کی حکومت پر بلوچستان میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔

لیکن سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں زیر غور آنے والے معاملات کے بارے میں جاری کردہ بیان میں ان الزامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اجلاس کے بارے میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ تمام فریقین کے نمائندوں نے جنوبی افغانستان میں حکومت کی گرفت مضبوط کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ’نیٹو اور ایساف افواج کی موجودگی بڑھانے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔

تمام فریقین نے نیٹو اور ایساف کے سہ فریقی کمیشن میں بڑھتے ہوئے کردار کو خطے میں موثر رابطے اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ضروری قرار دیا۔ بیان کے مطابق خود ساختہ بم حملوں کو روکنے کے بارے میں حال ہی میں بگرام میں پاکستان اور افغانستان کی افواج کو جو تربیت دی گئی تھی اس بارے میں نتائج پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو ’ملٹری انٹیلیجنس شیئرنگ ورکنگ گروپ، نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام فریقین کو مشترکہ انٹیلی جنس کے ڈیٹا بیس تک رسائی دی گئی ہے تاکہ دشمن کے عزائم اور سرگرمیوں کے بارے میں مشترکہ موقف اختیار کیا جاسکے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ سرحدی سلامتی کے بارے میں ذیلی کمیٹی کے گزشتہ ماہ منعقد کردہ اجلاس میں جنوبی افغانستان کی سرحد پر تمام فورسز کے درمیان موثر رابطے کے بارے میں ہونے والی پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس میں اُن تمام امور پر بات چیت کے بعد پاکستان، افغانستان اور اتحادی افواج کے کمانڈرز نے مشترکہ دشمن یعنی طالبان شدت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے شروع کردہ ’ماؤنٹین لائن، یعنی ’پہاڑی شیر، نامی آپریشن کے سلسلے میں کی گئی کارروائیوں کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں اور افغانستان کے عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کے بارے میں تجاویز پر عمل درآمد پر بھی بات چیت کی۔

فریقین کے کمانڈرز نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت جاری کارروائی میں اپنی کامیابیوں اور سبق سیکھنے کے بارے میں بھی ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا۔ سہ فریقی کمیشن کا آئندہ اجلاس اگست میں افغانستان میں ہوگا۔

افغان فوجپاک، افغان، امریکہ
پہلی مشترکہ فوجی مشقیں ختم ہو گئیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد