پاک افغان ’تُو تُو میں میں‘ کی تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان اور پاکستان کی دریا کے دونوں کناروں پار کھڑے دو مچھیروں کی طرح ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے اور انکی ایک دوسرے کیخلاف سازشیں کرنے کی بھی۔ شاید ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے پاکستانی حکمران تھے جنہوں نے انیس سو تہتر میں تب کی افغانستان کی حکومت کیخلاف اسلامی بنیاد پرستی کو استعمال کیا۔ ہوا یوں کہ جب پاکستان سے پشتون قوم پرست جلاوطنی اختیار کرتے ہوۓ افغانستان چلے گۓ جہاں کابل میں ایک چوک کا نام چوک پختونستان تھا اور وہاں یوم پختونستان بھی منایا جانے لگا تو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے افغانستان سے روس نواز صدر سردار داؤد کی ’کفر کی حکومت‘ گرانے کے مقصد سے تب کے کابل میں انجنئيرنگ کالج کے نکالے ہوۓ طالب علم رہنما گل بدین حکمت یار اور اسکے ساتھیوں کو پشاور میں پناہ دی۔ ان دنوں میں ریڈیو کابل اور پاکستان کی حکومت جو ایک دوسرے کو تاریخی گالیاں دیا کرتے تھے وہ صرف میں نے سندھ میں مچھلی کی میانی (ہاربر) پر مچھیروں کو ایک دوسرے کو دیتے سنی تھیں۔ ایک طرف جدید ریڈیکل پشتون قوم پرستی تھی تو دوسری طرف بھٹو حکومت کے وزیر داخلہ خان عبد القیوم خان اور وزیر اطلاعات نشریات و مذہبی امور مولانا کوثر نیازی (شاید یہ آج کے محمد علی درانی بھی کوثر نیازی کے ہی چمن کے دیدہ ور رہے ہوں تو شک نہیں) جنکی کی کمان میں حکمت یار جیسے ’جہادی‘ تیار ہو رہے تھے۔ راولپنڈی کے کمپنی عرف لیاقت باغ میں حزب مخالف کے جلسے پر بھٹو حکومت کی ایف ایس ایف (فیڈرل سیکیورٹی فورس) کے ہاتھوں ایک منی جلیانوالہ باغ جیسے آپریشن میں اجمل خٹک کے جوان بیٹے سمیت بہت سے سیاسی کارکن و رہنما ہلاک یا زخمی ہوۓ تھے۔ اور اسکے بعد خود اجمل خٹک سمیت بہت سے پشتون قوم پرست افغانستان جلاوطنی اختیار کر گۓ تھے اور وہاں سے انکی ’یوم پشتونستان‘ منانے کی خبریں پاکستانی سرکاری یا سرکاری کنٹرولڈ میڈیا کی زینت بنتیں۔ یہ وہ دن تھے جب پنجاب میں اپنے جلسوں میں ولی خان کہا کرتے ’ہم دریاۓ اٹک کے پل سے زنجیر کھنچ لیں گے۔‘ اپنے آخری دنوں میں ان دونون بدست گریبان پڑوسی ممالک کی حکومتوں کے سربراہوں بھٹو اور سردار داؤد نے اقغانستان اور پاکستان کے دورے بھی کیے۔ سن انیس سو اٹھہتر میں جب افغانستان میں کمیونسٹ فوجیوں نے سردار داؤد کی حکومت کا تختہ الٹا تو انہوں نے اسے ’انقلاب ثور‘ کا نام دیا- اس ہلے بولے میں سردار داؤد مارے گئے اور پاکستان میں بھٹو ضیا کے ہاتھوں معزول ہوکر پابند سلاسل اور پھر سوۓ دار چلے۔ فرانسیسی صدر گیسکار دیستان کو بھٹو نے جیل سے ایک خط میں لکھا کہ انکی حکومت کے خاتمے کی وجہ سے افغانستان میں کمیونسٹ اور ایران میں ملا آگۓ ہیں۔ اگر وہ (بھٹو) باہر ہوتے تو ایسی تبدیلیوں کو روکنے میں مدد کر سکتے تھے۔ دسمبر اناسی میں روسی مداخلت ہوئی اور اب باقی سب تاریخ ہے۔ دنیا میں مہاجروں کی ایک بڑی تعداد افغان مہاجروں کی شکل میں پاکستان پہنچی۔ ضیاء حکومت مخالف پناہ گزین گروپوں کو افغان جاسوسی ایجنسی خاد نے پاکستان میں اور پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کو آئی ایس آئی نےافغانستان میں گڑبڑ پھیلانے کیلیے خوب استعمال کیا۔ بلوچ رہنما میر غوث بخش بزنجو نے انیس سو چھیاسی میں ہی ایک بھرے جلسے میں پاکستان کے حکمرانوں کو انکے مسلح مہمان مجاہدین کے بارے میں خبردار کرتے ہوۓ کہا تھا: ’وہ دن بھی آۓ گا جب انکی بندوقوں کا رخ تمہاری طرف ہوگا۔‘ وہ ایک مدبر بلوچ رہنما تھے۔ روس ٹوٹنے سے پہلے ہی پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی ٹوٹی اور اسکی مبینہ وجہ پشتون اور اردوبولنے والے کمیونسٹوں میں خاد کے پیسوں پر لڑائي تھی۔ واشنگٹن میں رہنے والے اس گھاگھ سیاسی کارکن حال صحافی کا خیال تھا کہ ’پٹھان اسلامی بنیاد پرستی کی کاٹ صرف جدید پشتون قومپرستی میں ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||