BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 May, 2006, 09:45 GMT 14:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موساوی، جیوری اور خدا

زکریا موساوی
موساوی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ’خدا کے سپاہی‘ ہیں
شاید یہ اب تک امریکہ میں جرائم پر نظام انصاف کی تاریخ میں سب سے بڑے کورٹ روم ڈراموں میں سے ایک تھا جس میں ملزم اپنے خلاف گواہوں، مقدمہ سننے والی جیوری اور جج ، یہاں تک کہ اپنے دفاع کے وکلاء کے ساتھ بھی فیصلے تک اور اس کے بعد بغیر کسی لکھے ہوئے سکرپٹ کے شدید مکالمے بازی میں مصرف رہا۔

اور یہ بھی کہ استغاثہ کے ساڑھے چار برسوں میں اسے امریکہ پر گیارہ ستمبر کے دہشتگرد حملوں کا بائیسواں لیکن زندہ ’سلیپنگ‘ ہائيجیکر ثابت کر کے سزائے موت دلانے میں تو ناکام رہا لیکن تین منٹوں میں موساوی نے یہ کہہ کر کہ اس کا ہدف وائٹ ہاؤس تھا اپنے خلاف خود ہی گواہ بن گیا- کہتے ہیں جب اس کے وکلاء صفائی نے اس کا دفاع اسکے ذہنی بیمار ہونے پر باندھا تو اس نے اپنے وکلاء کو ہی ’پاگل‘ قرار دے دیا-

اب امریکہ میں قانون کے بڑے بڑے پروفیسر اور عالم اس کے دفاع کے وکیلوں کو انکے کیرئیر کے اس ’مشکل ترین موکل کا ناممکن مقدمہ‘ اسے بہت بڑی تندہی اور جانفشانی سے لڑنے پر داد دے رہے ہیں- ان داد دینے والوں میں اوکلاہوما دھماکوں کے ملزم کے لیئے سزائے موت کے خلاف وکالت کرنے والے ایڈم تھریشویل بھی شامل ہیں جو زکریا موساوی کے خلاف مقدمے کو امریکی محکمہ انصاف کے استغاثہ کے وکیلوں کی بری طرح ناکامی قرار دے رہے ہیں- نہ فقط یہ بلکہ وہ آنے والے دنوں میں اس کا اثر دہشتگردی کے اور مقدموں پر منفی ہونے کی پشین گوئی بھی کررہے ہیں-

تھریش ایڈم نے جو اب کلیولینڈ مارشل کالج آف لا، کلیو لینڈ اوہائیو میں قانون پڑھاتے ہیں مقامی نیشنل پبلک پر کہا کہ ’شاید اب امریکہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے الزامات میں ان لوگوں کو عدالتوں میں لانے سے احتراز برتے جو غیر ممالک کی حکومتوں کے پاس قید ہیں کیونکہ عدالتوں میں ان کو پیش کیے جانے پر امریکی سرزمیں سے باہر انپر ہونیوالے مبینہ تشدد کا چرچا ہوگا اور ایسے مقدمات کی صحت پر اعتبار کے سوالات اٹھیں گے۔‘

زکریا موساوی کی عمر قید پر ختم ہونے والا یہ مقدمہ جہاں امریکی تاریخي روایتی جیوری اور انصاف کے سِسٹم کی بڑی مثال ہے وہاں یہ مقدمہ کمرۂ عدالت میں جذبات اور عقل کی ایک جنگ کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا جس میں ملزم کے اپنی اختراعات اور سٹائل کے داؤ پیچ بھی تھے جنکی وجہ سے اس مقدمے کے چار سالوں میں کئی موڑ آئے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کی اب تک ان سنی ریکارڈنگ اور ہلاک شدگان کے لواحقین کے گواہان کی طور پر عدالت میں بیانات اور دفاع کی طرف سے ان بیانات کو فطری لیکن گیارہ ستمبر کے واقعات سے متاثر ہونے سے تعیبرات والی تقریروں اور دلائل کے درمیان جیوری (جو امریکی قانون و معاشرے کا ایک روایتی لیکن مبوط جزو ہے ) کو جوش و جذبات اور ہوش و خرد کی پلِ صراط سے گزرنا پڑا ہوگا- زندگی میں کم از کم ایک بار ہر امریکی شہری کے نام بغیر کسی تفریق کے جیوری کا ممبر بننے کا قرعہ نکلتا ہے۔ پیپر بیک کتابیں اور کافی کے تھرمس یا مگ پکڑے یہ سپاٹ چہروں والے عام امریکییو کی جیوری ملک کے نظم انصاف میں ایک ریڑھ کی ہڈی یا جہاز کے انجن روم کی طرح ہوتی ہے-

 زکریا موساوی کی عمر قید پر ختم ہونے والا یہ مقدمہ جہاں امریکی تاریخي روایتی جیوری اور انصاف کے سِسٹم کی بڑی مثال ہے وہاں یہ مقدمہ کمرائے عدالت میں جذبات اور عقل کی ایک جنگ کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا جس میں ملزم کے اپنی اختراعات اور سٹائيل کے دائو پیچ بھی تھے جنکی وجہ سے اس مقدمے کے چار سالوں میں کئی موڑ آئے

’ہم یہ مقدمہ اخلاقیات کے سوال پر نہیں سن رہے۔ اہم بات یہ نہیں کہ انصاف کس طرح ہوتا ہے، اہم بات یہ ہے کہ اسے حاصل کس طرح کیا جاتا ہے- ہمیں جذبات نہیں عقل کو دیکھنا ہے۔‘ موساوی کو سزائے موت کے مطالبے پر ایک جیوری ممبر کا یہ تبصرہ ایک مقاقی اخبار نے شائع کیا-

’میں خدا کا سپاہی ہوں۔‘ اس جملے پر زکریا موساوی کو اپنی باقی عمر کے تمام سال کولاراڈو کی سب سے سپر سیکورٹی والی جیل میں کاٹنے روانہ کیا گیا جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ملزم مصری نایبنہ شیخ عبدالرحمان اور مبینہ شو بامبر رچرڈ ریڈ بھی قید ہیں-

میں سوچ رہا ہوں کہ اگر خدا کا یہ سپاہی ایسا تھا تو خود خدا کیسا ہوگا!
اور اپنے اپنے تئيں اس کمرۂ عدالت میں زکریا موساوی اور باقی فریقین کے درمیاں خدا بھی ایک بڑا کردار تھا جس کا ذکر بار بار آیا-

 اس مقدمے میں زکریا موساوی اور باقی فریقین کے درمیاں خدا بھی ایک بڑا کردار تھا جس کا ذکر بار بار آیا

’آخری عدالت تو اوپر لگے گی اور تم مسٹر موساوی، اس سے نہیں بچ پاؤ گے۔ عدالت میں زکریا موساوی اور باقی فریقین کے درمیان خدا بھی ایک بڑا کردار تھا جس کا ذکر بار بار آیا- اور یاد رکھو کہ خدا تمہیں ہمیشہ دیکھتا رہے گا!‘ گیارہ ستمبر کے حملوں میں مارے جانے والے افراد کے پسماندگان میں سے دو نے عدالت سے باہر بغیر پچھتاوے والے اس ملزم سے کہا جو آپ نے بھی ٹی وی پر سنا ہوگا-

لیکن ورجینیا کی وفاقی عدالت میں موجود میڈیا کے ممبران نے جو مکالمے سزائے تا عمر قید سنائے جانے کے بعد مقدمے کے بڑے کردار زکریا موساوی، گواہان اور جج کے درمیان کچھ اس طرح سنے( جو یہاں امریکہ میں نشر بھی ہوئے ہیں) گیارہ سمتبر کے حملوں میں ہلاک شدگان کے تین ورثاء میں سے ایک روزمیری گلر،جسکا نیوی افسر شوہر پینٹاگون پر حملے میں ماراگیا تھا نے براہ راست زکریا موساوی کو مخاظب کرتے ہوئے کہا: ’ کیا تمہیں پتہ ہے تم نے مجھ سے میرا قیمتی ترین شخں چھین لیا؟ تم نے جس شخص کو مارا وہ میرا شوہر تھا- اب تم مسٹر موساوی اپنی داڑھی کو دیکتھے ہوئے جیل میں باقی عمر گزارنا اور سوچنا کہ تم نے کیا کیا- نہ تم کوئی سورج دیکھو گے- نہ ہی تمہارا نام کسی اخبار میں آئے گا۔ تمہارے ہاتھوں ایک زندگی تلف ہوگئی۔ میرا میاں نیول افسر تھا۔‘

مساوی ( عدالت میں کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہوئے) : ’میں تیاری تو یہاں موجود سب لوگوں کو مخاطب کرنے کی کر رہا تھا لیکن اب جواب ان تین خواتین کو دوں گا۔ ہو سکتا ہے ایک دن تم یہ دیکھ پاؤ کہ سی آئی اے نے کتنی زندگیاں تلف کی ہیں۔ ہو سکتا ہے تمہارا میاں بھی ’پیار اور امن‘ کے لیئے کام کر رہا ہو۔ تم لوگوں کی ’انسانیت‘ بہت ہی مخصوص ہے۔ تم مجھے دہشتگرد قرار دیتی ہو لیکن تم لوگ پہلے خود کو دیکھو۔‘
پراسیکیوٹر رابرٹ سپینسر: ’مساوی کو عدالت میں سیاسی بیان نہیں دینا چاہیے-‘
جج: ’میں اس سے (سپینسر کے اعتراض سے) اتقاق کرتی ہوں۔‘
مساوی : ’یہی میں چاہتا تھا کہ تم لوگ سنو جو تم نہیں سننا جاہتے- لیکن ایک دن تم امریکی وہ محسوس کرو گے جو تم اب نہیں سننا چاہتے۔‘

مقامی پریس نے لکھا ہے کہ جج نے بھی امریکی نظام انصاف پر ایک ’حب الوطنی‘ پر مبنی لیکچر دیتے ہوئے مساوی کو مخاطب کیا او کہا ’یہاں موجود سب لوگ جب اپنے اپنے گھروں کو جائيں گے تو تم تمام زندگی کے لیئے انتہائی محفوظ جیل جارہے ہوگے-‘
مساوی : ’میں نے خود یہ راستہ چنا ہے۔‘
جج: ’شاید ہی تم نے یہ راستہ خود چنا ہو۔‘
مساوی: (جج کو کاٹتے ہوئے): ’ميں خدا کا سپاہی ہوں۔‘

امریکی میڈیا کے مطابق مساوی کو اب بھی یقین ہے کہ جنوری دو ہزار نو میں صدر بش اپنی معیاد صدارت پوری کرنے سے قبل اسے خود اپنے ہاتھوں سے رہا کر دیں گے!

اسی بارے میں
’نو سال دیوانہ وار‘ پھرنے والا
29 November, 2005 | قلم اور کالم
نیپال جہموریت اور پاکستان
21 April, 2006 | قلم اور کالم
’وعدوں کے جفادار یہ سیاستدان‘
25 April, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد