BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 April, 2006, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال جہموریت اور پاکستان

نیپال
آج کل یہاں برطانیہ میں ملکہ الزبیتھ کی اسویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ صبح ٹرین سے چیئرنگ کراس آتے ہوئے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ایک اخبار پڑھتے ھوۓ بندے سے نظریں چراتے ہوئے میں نے اس کےصفحے پر نظر ڈالی۔ وہ اس صفحے پر شہزادے اینڈریو کا لکھا ہوا مضمون پڑھ رہا تھا۔

’ہر ایکسیلینسی مائی مدر دی کوئین الزبیتھ جو 'ڈاکٹر ہو' شو شوق سے دیکھتی ہیں‘۔ ملکہ کی تاج پوشی کی تقریبات میں اکبر بگٹی نے بھی شرکت کی تھی۔

میرے ایک ساتھی صحافی بتا رہے تھے کہ ان کے بچوں کو بھی ان کے اسکول والوں نےملکہ کی سالگرہ پر میکسیکو سمیت مختلف ممالک کے جھنڈوں والے لباس پہنکر آنے کو کہا ہے۔ خیر مجھے تو مختلف طرح کی کوئینیں اچھی لگتی ہیں۔

بس برطانیہ جیسے جہموری ملکوں میں بادشاہت کے چونچلے ہیں۔ جیسے کسی نے کہا تھا ’آخر میں بادشاہتیں صرف دو جاکر بچیں گی، ایک برطانیہ اور دوسری تاش کے پتوں پر۔‘

لگ تو ایسے رہا ہے کہ نیپال کا شاہ بریندرا اور اسکی بادشاہت بھی اب چل چلائو کے عالم میں ہے۔ ماؤ تو مجھے کبھی اچھا نہیں لگا نہ ’ماؤ نواز‘ لیکن نیپال میں ہزاروں جہموریت پسندوں کا سڑکوں پر نکل آنا مجھے پاکستان میں جنرل ضیاءالحق کے خلاف ایم آر ڈی یا تحریک بحالیِ جہموریت کی یاد دلاتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے بھی آمریت کےاور ملائوں، گر تو برا نہ مانے، تو ’ملائوں اور ملٹری‘ کے مارے ہوئے عوام کا دل ضرور نیپالیوں کے ساتھ دھڑکتا ہوگا۔

’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا-‘ مجھے یاد آیا کہ جب میں ایک اخبار میں کام کیا کرتا تھا اور ملک میں ضیاء الحق مسلط تھا اور وہاں اخبارات میں پاکستان میں جہموریت کے ذکر پر بھی صحافیوں کو کوڑے لگتے تھے۔

لیکن ہم برما میں آنگ سوانگ سوچی کی عارضی آزادی اور پنوشے کے اقتدار سے ہٹنے پر بھی بڑے بڑے اداریے لکھتے تھے۔ پڑھنے والوں کی ایک آس بندھ جاتی تھی کہ ان کے پاکستان میں ضیاءالحق کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پتہ نہیں مجھ کو لگتا ہے کہ میرے دیس کے لوگ بھی نیپال کے جہموریت نوازوں کے مظاہرے ٹی وی چينلوں پر دیکھ کر جھوٹی روشن خیالی کا بھانڈہ بھی بیچ چوک پر پھٹنے کی آس ضرور لگاتے ہونگے۔

بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ جانا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھرگئی ہو گی۔

اگرچہ آج وہاں نہ کوئی ایم آر ڈی جیسی تحریک ہے، ایک اے آر ڈی ہے جو بس ’اپنی باری‘ کے ہی انتظار میں ہے۔ اور وہ سیاسی مخالفوں کی ایجنیسوں اور ریاستی اداروں کے ہاتھوں گمشدگیاں ہیں جس جو پاکستان پر ایل سلواڈور کی یاد دلاتی ہیں اور نہ ہی اس ملک میں اب وہ بینظیر ہے جو کبھی لندن سے پاکستانی آنگ سوانگ سوچی بن کر پہنچی تھی۔

اب تو وہ بھی بغیر کسی گزند پہنچے ہوئے فرار ہے! پاکستانی اخبارات کے نیوز روموں میں ایک لطیفہ چل نکلا ہوا تھا کہ کسی مترجم کو کسی نیوز ایجنسی کی انگریزی کی خبر ترجمہ کرنے کیلیے دی گئی جو اس طرح تھی ’بینظیر اسکیپس ان ہرٹ۔‘ اس کا ترجمہ میرے جیسے کسی مترجم نے اردو میں کیا ہوگا ’بینظیر بغیر زخمی ہوئے فرار۔‘

کل شام رسل اسکوائر پر ایستادہ مجسمے دیکھتے ہم نے سندھ کے فاتح چارلس نیپيئر کا مجسمہ بھی دیکھا۔ میرے دوست نے کہا اسی نے سندھ کے تالپور حکمرانوں کو حج کے بہانے ملک بدر کیا تھا۔ بالکل اس طرح جس رح نواز شریف اور اس کے خاندان کو پرویز مشرف حکومت نے مکے مدینے بھیجا!

اسی بارے میں
عیدمیلاد النبی:’وہ دن اور تھے‘
14 April, 2006 | قلم اور کالم
اک نا ممکن خواب کا خواب
24 March, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد