BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 March, 2006, 18:31 GMT 23:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: تارکینِ وطن کے حامی اورمخالف

 کیلیفورنیا
لاس اینجلس نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنے لوگوں کے اژدھام یا احتجاجی اجتماع نہیں دیکھا ہو گا
اگر امریکہ تارکین وطنوں کی قوم ہے تو اس میں بھی کیلیفورنیا ریاست ایک ایسی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ امیگرنٹس یا تارکین وطن بستے ہیں۔ وہ چاہے قانونی ہوں یا غیر قانونی مگر یہ امریکہ کی خاموش اکثریت ہیں۔ بقول شخصے، امیگریشن کا مسئلہ امریکہ کا ایسا سویا ہوا جن ہے جو کل پرسوں سے جاگ پڑا ہے جب گزشتہ اتوار کو لاس اینجلس نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنے لوگوں کے اژدھام یا احتجاجی اجتماع نہیں دیکھا ہو گا۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ افراد تھے جن میں اکثریت تارکین وطن اور انکے بچوں کی تھی۔ لوگوں کا یہ سمندر تو ویتنام کی جنگ کے خلاف مظاہروں میں بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ یہ لوگ امیگرینٹس کے متعلق اس بل کے حق اور مخالفت میں جمع ہوئے تھےجو کانگرس میں پیش کیا جانے والا ہے۔ حق میں اس لیے کہ یہ بل امریکہ میں موجود اور امریکہ سے باہر رہنے والے لوگوں کو کام کے لیے بزنسوں کی اسپانسرشپ پر چھ سال کیلیے ’گیسٹ ورکر‘ یا ’مہمان مزدور‘ کی قانونی حیثیت دے گا اور مخالفت میں اس لیے کہ اس مجوزہ قانون سے امریکہ میں غیر قانونی طور پر پہلے سے سکونت پذیر تارکین وطن کو ملازمت دینا فوجداری جرم ٹھرے گا جو اس سے پہلےایک سول لیکن وفاقی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ امریکہ میں کوئی بارہ ملین غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ ویسے تو ان غیر قانونی تارکین وطن، یا بغیر دستاویز والے تارکین وطن، دنیا بھر کے ممالک سے ہیں لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد لاطینی امریکہ اور وہ بھی میکسیکو کے لوگوں کی ہے۔

میکسیکو کی سرحد سے ملتے کیلیفورنیا یا ایریزونا (شاید ٹیکساس بھی) کے فری ویز یا ہائی ویز (موٹر ویز سمجھ لیں) پر جا بجا بڑے بورڈ لگے ہیں جن میں دو تین یا اس سے زیادہ لوگوں کا بچوں سمیت کنبہ یا قافلہ دکھاتے ہوئے ہائی ویز پر ڈرائیوروں کے لیے لکھا ہوتا ہے کہ یہاں گاڑی آہستہ کریں کیونکہ یہاں سے غیر فانونی تارکین وطن سرحد پار کر کے گزر سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال کوئی سات ہزار لوگ غیر قانونی طور پر میکسیکو سے سرحد پار کرتے ہیں۔

یہاں سے تارکینِ وطن گزر سکتے ہیں
 کیلیفورنیا، ایریزونا شاید ٹیکساس میں بھی، فری ویز یا ہائی ویز پر جا بجا بڑے بورڈ لگے ہوتے ہیں جن کے ذریعے ڈرائیوروں کے لیے لکھا ہوتا ہے کہ یہاں گاڑی آہستہ کریں کیونکہ سرحد پار سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن یہاں سے گزر سکتے ہیں

کچھ عرصہ قبل میکسیکو کی حکومت نے ہسپانوی اور انگریزی زبانوں میں کتابچہ شائع کیا تھا جس میں میکسیکو سے غیر قانونی طور سرحد پار کرنے کے خطرات اور لیکن گرفتار ہونے پر تدابیر کے بارے میں لوگوں کو ہدایات دی گئی ہیں۔ امییگریشن کی کچھ مخالف تنظیموں نے کچھ عرصہ قبل ان ہائی ویز پر بل بورڈ لگوائے تھےجس میں لاس اینجلس کو طنزاً ’لاس مہیکانو‘ (لاس میکسیکو) لکھا گیا تھا۔

میکسیکو کے لوگوں کے دم قدم نے امریکہ کی اقتصادیات اور زراعت کو ایسی جلا بخشی ہوئی ہے جیسے کھبی پاکستان میں صوبہ سرحد کے علاقوں سے پٹھان مزدوروں کی بڑی تعداد سے کراچی کی فلک بوس عمارتیں اور اسکی بتیاں روشن تھیں۔

میکسیکو میں ہسپانوی زبان میں کہاوت ہے ’وچو ترواہو پکیتو دنیرو‘ جس کا مطلب ہے کام زیادہ ہے لیکن پیسے تھوڑے۔ کسی بھی ہسپانوی سے اس کے کام کے بارے پوچھیں وہ اپنے کام کے بارے میں اس کا جواب یہی ہوگا۔ مجھے تو یہ ہسپانوی کہاوت پنجابی گیت ’منڈے مرگئے کمائیان کرکے تے بانو تیرے بندے نہ بنڑے‘ کی جڑواں بہن لگتی ہے۔

یہ جو آپ فلوریڈا کے اورنج جوس پیتے ہیں یا ٹماٹو ساس کھاتے ہیں یہ سب میکسیکو کے غیر قارنونی تارک وطن کے محنت اور پسینے سے سینچے ہوئے ہیں اور تو اور میں نے نیویارک کے پاکستانی ریستورانوں کے باورچی خانوں میں ماریو اور انتونیو اور ڈیٹرائیٹ (مشیگان) کے باورچی کے فینسی انڈین ریستوران میں پیبلو نامی میکسیکن باروچیوں کو نان، تندوری چکن، اور دودھ پتی بناتے دیکھا۔ ’ون نان ماریو ون نان‘ ’ون دودھ پتی ماریو ون دودھ پتی‘ مینہیٹن میں کشمیر ریسیتوران کے ویٹر شاہ جی باورچی کو آرڈر دیتے ہیں۔

تارکینِ وطن کے بچوں کا کہنا ہے کہ امریکہ بنانے میں ان کے بزرگوں کا بھی حصہ ہے

میسکسیکو کی امریکہ کی طرف سرحد پار کرنے کے سفر میں سینکڑوں لوگ لق دق صحراؤں اور ندیوں میں ڈوب کے مرجاتے ہیں (جو باقی بچ جاتے ہیں وہ پکڑے جاتے ہیں ان میں سے کافی پکڑ کر واپس میکسیکو بھیج دیا جاتا ہے لیکن وہ پھر امریکہ پہنچ جاتے ہیں) لیکن پھر بھی جیسے باقی دینا ایک ڈوبتا جہاز یا چلتی ٹرین ہو اور امریکہ ایک محفوظ جزیرہ جو ہر کوئی اس ’وعدہ کی ہوئی سرزمین‘ کی طرف آنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں سیالکوٹ، کھاریاں اور گجرات کی گلیوں میں ایجنٹوں اور ٹوانا کے ’کیوٹوں‘ کے ہاتھوں لٹے پٹے اور خوابوں کے مسافر لوگ اور ان کی مسافتیں۔

اب ایک ہزار میل سے بھی زیاد پھیلی ہوئی میکسیکو کی امریکہ سے ملتی سرحد پر چھ سو میل لمبی آہنی باڑہ کھڑی کرنے کی بھی تجویز ہے۔ یہ تجویز سان ڈیاگو سے منتخب ریپلییکن پارٹی کے رکن کانگرس ڈنکن ہنٹر کا تیس سال پرانا خواب ہے لیکن جریدے ’فوربس‘ نے اپنے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ ’اس سےقبل جن دو ملکوں کے بیچ آہنی باڑ کی مثال اسرائیل اور فلسطین ہیں جو کوئی اچھے تعلقات کی نذیر نہیں بن سکے۔ اسی جریدے میں میکسیکو کے صدر فاکس نے کہا ہے کہ ’صدر بش ان نسل پرستوں کے گھیرے میں ہیں جو قوانین کو اپنی من مانی سے چلانا چاہتے ہیں‘۔

امیگریشن کے حامی کہتے ہیں:
 ’وہ ہمارے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ہمارےگھروں کی تعمیر و صفائی اور باغبانی اور وہ سارے کام جو امریکی نہیں کرنا چاہتے‘

میکسیکو کی سرحد کے قریب ایریزونا میں خانگی طور پر کچھ شہریوں نے خود ہی قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے وہاں سے غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالوں کو مسلح ہوکر خود ہی پکڑنا شروع کردیا تھا۔ ’وہ ہمارے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ہمارےگھروں کی تعمیر و صفائی اور باغبانی اور وہ سارے کام جو امریکی نہیں کرنا چاہتے‘ غیر قانونی تارکین وطن کیلیے امیگریشن کے حامی کہتے ہیں۔ لاطینی امریکیوں میں اپنی حمایت بڑھانے کیلیے صدر بش بھی ’گیسٹ ورکرز‘ کی تجویز والے قوانیں پر دستخط کرنا چاہتے ہیں۔

کہتے ہیں لاس اینجلس میں گزشتہ اتوار کو جو امیگریشن قوانین کی حق میں پانچ لاکھ مظاہرین میں نوجوانوں کی بہت بڑی اکثریت کے اضافے کی وجہ ان میں مقبول گلوکار( ڈی جے) ایڈی سوتیلو کی ریڈیو سے کی جانے والی اپیل تھی ۔ اور اب رواں ہفتے میں اسکولوں کے پہلےدن سے ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور طالبات مڈل اور ہائی اسکولوں سے لاس اینجلس و سان ڈیاگو سمیت جنوبی کیلفورنیا کے بہت سے شہروں میں قمیضوں اور سروں پر میکسیکن جھنڈے اور ڈیکوں پر ایڈی سوتیلو کے گانے بجاتے ہوئے سڑکوں پر امڈ آئے‎ ہیں اور بہت سے اسکولوں سے واک آؤٹ بھی ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرین امریکہ میں قوانین کو تارکین وطن کے حق میں چاہتے ہیں۔ ’ہم دہشت گرد نہیں مزدور ہیں‘ ان کا ایک نعرہ ہے۔ ’ہمارےوالدین نے امریکہ کو اپنی محنت سے بنایا ہے‘ وہ کہتے ہیں۔

ہیرو اور اینٹی ہیرو
بھٹو میں منصور اور میکاولی ساتھ رہتے تھے
اللہ، آرمی اور کشمیر
زلزلہ:’سست‘ حکومتی رد عمل پر حسن مجتبیٰ
حال ہی میں منیلا میں ہونے والا گے مظاہرہ’اصل مسئلہ منافقت‘
ہم جنسوں کےلیے فرسودہ قانون کیوں؟
لیاقت میڈیکل کالج حیدرآباد شہر کے قتل کا دن
لوگ اسے’ کالا جمعہ‘ بھی کہتے ہیں۔حسن مجتبٰی
گرما گرمی کیسے؟
نیویارک کی تقریب کا احوال اور ردِ عمل
اسی بارے میں
روز ویلٹ میں گرما گرمی کیسے ہوئی؟
22 September, 2005 | قلم اور کالم
ڈکٹیٹرشپ: فوجی اور روحانی
16 September, 2005 | قلم اور کالم
مختارمائی کو امریکہ آنے کی دعوت
11 June, 2005 | قلم اور کالم
یہ نیپام الامان،ویتنام ویتنام
02 May, 2005 | قلم اور کالم
دشمن پڑوسی نہیں، انتہاپسندی ہے
11 April, 2005 | قلم اور کالم
’دسواں ستارہ بی بی سی‘
03 March, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد