روز ویلٹ میں گرما گرمی کیسے ہوئی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن پہنچنے پر وہاں اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ان کے مختار مائی کے متعلق ایک سوال پران کے جواب اور اس کے بعد ان کے نیویارک کی روز ویلٹ ہوٹل کے کانفرنس ہال میں پاکستانی خواتین کے اجتماع سے ان کے خطاب میں ان سے سوالات کرنے والی پاکستانی خاتون سے ان کی گرما گرم تکرار اور مکالمہ بازی پر امریکہ میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خواتین اور تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ بھر میں بہت سے شہروں اور ریاستوں میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ گفتگو میں اپنے ردعمل کا اظہار کرنے والی ان پاکستانی نژاد اور پاکستانی خواتین میں ڈاکٹر، وکیل، انجنیئر، صحافی، اداکارائیں، طالبات، انسانی حقوق کی سرگرم کارکنان اور گھریلو خواتین بھی شامل ہیں۔ بہت سے پاکستانی دانشوروں اور عام لوگوں کی طرح واشنگٹن میں رہنے والی پاکستانی خاتون صابرہ قریشی بھی ان لوگوں میں سے ایک تھیں جو پرویز مشرف کو اعتدال پسند روشن خیال سربراہ مملکت کہتی تھیں اور وہ پاکستان اور امریکہ میں پاکستانی عورتوں کے حقوق کیلیے سرگرم حلقوں میں جنرل پرویزمشرف کی سوچ کے قریب تصور کی جاتی تھیں۔ یہ صابرہ قریشی ہی تھیں جن کی جانب سے حال ہی میں نیویارک میں پوچھے جانے والے دو سوالوں پر جنرل مشرف پاکستانی خواتین کے بھرے مجمع میں اپنے غصے کو ضبط نہیں کر سکے تھے اور دو بدو تکرار اور مکالمہ بازي پر اتر آئے تھے۔ میں نے سب سے پہلے واشنگٹن میں مقیم صابرہ قریشی سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کا آخر وہ سوال تھا کیا جس پر صدر پاکستان غصے میں آ گئے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودہ حکومت میں ہی پاکستان میں خواتین کے خلاف موجود امتیازی قوانین کے خاتمے کیلیے قائم ’نیشنل کمیشن آن اسٹیسٹس آف ویمن‘ کی سابقہ رکن صابرہ قریشی نے بتایا کہ انکا جنرل پرویز مشرف سے سوال تھا: ’کہ اگر وہ پاکستان میں جنسی زیادتیوں کے متعلق اپنے واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہیں تو پھر کیا وہ اس اخبار سے اپنا یہ بیان واپس لینے کے لیے کہنے کاارادہ رکھتے ہیں؟ اس پر جنرل پرویز مشرف غصے میں آ کر کہنے لگے ’تمھارے لیڈر جھوٹے ہیں اور انہوں نے تمہیں جھوٹ بتایا ہے‘۔ ’اس پر میں نے صدر پرویز مشرف سے کہا ہمارے لیڈر تو آپ ہی ہیں۔‘ اب واشنگٹن میں ’جنسی برابری‘ کے موضوع پر مشاورت کے پیشے سے وابستہ صابرہ قریشی جنرل پرویز مشرف سے ملنے والے اپنے سوال کے جواب کے ردعمل میں اس دن کو پاکستانی خواتین کیلیے سیاہ ترین دن قرار دیتی ہیں جب بقول ان کے ایک صدر مملکت جس کا ہاتھ قوم کی نبض پر ہے وہ اپنا ضبط اور اوسان کھو بیٹھا۔ ’ہم نے اور یہاں خواتین کے حقوق کیلیے کام کرنیوالی تنظیموں نے آپ سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ آپ پاکستان میں خواتین کے حالات اور امتیازی قوانین بدلیں گے لیکن آپ نے ہمیں سخت مایوس کیا‘، صابرہ قریشی کا صدر مشرف سے دوسرا سوال اسی تبصرے کے ساتھ تھا۔ صابرہ کہتی ہیں واشنگٹن کے اس ہوٹل میں ایک ہنگامے کی سی صورتحال تھی لیکن وہ صدر کی کسی بھی بات کو اپنی ذات پر نہیں لیتیں لیکن پاکستان کے تمام خواتین اورعوام کو اس بارے میں تشویش ہے کہ ان کی نبض پر ہاتھ ایک ایسے سربراہ مملکت کا ہے۔ صابرہ قریشی نے کہا کہ ان کے ان سوالات اور ان گرماگرم مکالمے بازی پر کانفرنس ہال میں ایک ہنگامے کی سے صورتحال تھی جس پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر ریٹائرڈ جنرل جہانگیر کرامت نے خوش اسلوبی سے آکر ان کے کاندھے پر ھاتھ رکھا اور مائیک اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اجتماع کی کارروائی ختم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ صابرہ قریشی اور بہت سے پاکستانی خواتین نے روزو ویلٹ ہوٹل سے باہر آتے ہی سامنے سڑک کے کونے پر ایشین امریکن نیٹ ورک اگینسٹ ابیوز آف ویمن یا آنا کی پاکستان میں انسانی حقوق کی ہونیوالی ریلی میں شرکت کی اور صابرہ نے اسے خطاب بھی کیا۔ صدر مشرف کے واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے بیان اور نیویارک میں دیے جانیوالے ریمارکس پر ردعمل میں سابق اداکارہ اور اب دستاویزی فلمساز اور صحافی پاکستانی نژاد سومی علی نے کہا : ’ایک امریکی پاکستانی خاتون کی حیثیت سے میں جنرل مشرف سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ان کی اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ خدانخواستہ ریپ ہوجانے کی صورت میں وہ ان کے ملزموں کو سزا دلوانے کے بجائے انہیں بیرون ملک بھجوائیں گے؟ اخبار نیویارک ٹائمز کے کالم میں میں ڈاکٹر شازیہ خالد کی بپتا پڑھنے کے بعد پاکستان میں خواتین پر تشدد کیخلاف سرگرم ہونے والی سومی علی نے کنیکٹیکٹ ریاست سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی ایسی بات چیت میں کہا: ’بہر حال صدر پرویز مشرف کا یہ بیان بہت ہی بیہودہ ہے جس سے ان تمام عورتوں کی تذلیل ہوئی ہے جو اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں پر زبان کھولنے کی ہمت کرکے اپنے مجرموں کو سزا دلوانے کیلیے آگے بڑھتی ہیں۔ ورنہ پاکستان میں ڈاکٹر شازیہ جیسے ظلم کا شکار ہونیوالی ہزاروں عورتیں ہوں گی جو خاموش رہ جاتی ہیں یا خاموش کر دی جاتی ہیں۔ سومی علی نے کہا کہ ’گیارہ ستمبر کے بعد کی دنیا میں اب مختار مائی اور ڈاکٹر شازیہ جیسی بہت سی خواتین سے ہونیوالی زیادتیاں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ اور نہ ہی بڑے عرصے تک ان کے ساتھ انصاف سے ردگردانی کی جاسکتی ہے۔‘ ورجینیا میں ڈاکٹر اور پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن غزالہ قاضی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر ہونیوالی اپنی گفتگو میں کہا: ’پہلے سے سماجی جبر اور اپنے اوپر اٹھنے والی انگلیوں بندوقوں اور گولیوں کا شکار عورتوں پر جنرل پرویز مشرف نے اپنے اسے بیانات سے ظلم میں اور اضافہ کر دیا ہے۔ وہ پاکستان میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے تشدد اور جنسی جرائم کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنا مذاق خود اڑا رہے ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں غزالہ قاضی نے کہا وہ بلوچستان پربمباری کا حکم تو دو سکتے ہیں لیکن پاکستان میں عورتوں کیخلاف قوانین ختم نہیں کروا سکتے۔ انہوں نے کہا : ’ایسے حکمران سے عورتوں کیساتھ انصاق کا کوئی مطالبہ نہیں کیونکہ وہ خود ایک غیر آئینی اور غیر قانونی حکمران ہے۔ ایسے آمر سے بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ اقتدار کو چھوڑ کر وہ بیرکوں میں واپس جائے جہاں سے وہ تعلق رکھتا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||