’اصل مسئلہ منافقت ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ ہفتے نیویارک کے سینٹرل پارک چڑیا گھر میں چھ سالوں سے ایک ساتھ رہنے والے ہمجنس پینگوئنز کے جوڑے کے درمیان علیحدگی کی خبریں میڈیا میں رہیں۔ دونوں کے تعلقات میں دراڑ اس وقت آئی جب میرے شہر سان ڈیاگو کے مشہور عالم ’سی ورلڈ‘ سے ایک مادہ پینگوئین ’سکریپی‘ نیویارک کے چڑیا گھر میں لائی گئی۔ ویسے اس معاملے میں سکریپی کا بھی کیا دوش جب شاعر نے پہلے سے ہی قسمت کا فیصلہ سنا رکھا ہے: جو پرندوں کا جوڑا ہے اور انسانوں کا حال کچھ یوں ہے کہ صوبہ سرحد کے دور افتادہ گاؤں لنگروسہ تیرہ میں لیاقت علی اور مارکین آفریدی کے درمیان ہونے والی شادی پر جرگے کی طرف سے سزائے موت اور علاقہ بدری کے اعلان کے بعد یہ نوبیاہتا ہمجنس جوڑا خوف سے روپوش ہو گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق صوبہ سرحد میں ہمجنسوں کے درمیان باقاعدہ شادی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ماضی قریب میں ہمجنس شادیوں کی خبریں سندھ کے گھوٹکی اور شکارپور سے بھی آئی تھیں اور یہ جوڑے بھی ملاؤں اور حکومت کے خوف سے روپوش ہوگۓ تھے۔ سخت گیر قبائلی اور قدامت پرست صوبہ سرحد میں، جہاں بنیاد پرست مذہبی جماعتوں کا اتحاد حکومت میں ہے، ملک کے باقی حصوں کی طرح 'خول' میں رہنے والے ایک ہی جنس کے لوگوں کے درمیان جنسی و جذباتی تعلقات تو 'مت پوچھو مت بتاؤ' کی بنیاد پر موجود ہیں لیکن ان کے کھل کر سامنے آنے پر ہمجنس پرستوں پر سخت قبائلی اور اسلامی تعزیریں لگائی جاتی ہیں۔ انٹر نیشنل لیزبین اینڈ گے ایسوسی ایشن یا 'الگا' کے مطابق، انیس سو اسی کی دہائی میں باجوڑ ایجنسی میں ایک ہمجنس جوڑے کو قبائلی جرگے نے کمر تک زمیں میں گاڑ کر سنگسار کرنے کی سزا سنائی تھی۔ اور ایسی ہی سزا نواز شریف کے دنوں میں خیبر ایجنسی کے باڑا بازار میں دو ہمجنسوں، محمد زمان اور فہیم اللہ کو دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے تنظیم اتحاد قبائل کے مولانا محمد عبد الہادی کے سامنے 'ہمجنس سیکس' کا اعتراف کیا تھا۔ ڈیورنڈ لائن کے پار افغانستان میں تو کیمونسٹ حکومت ہو یا مجاہدین اور طالبان، ان تمام ادوار میں ہمجنس پرستوں کو بڑے پیمانے پر قابل گردن زنی ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق صرف طالبان کے دور حکومت میں کم از کم دو ہزار ہمجنس پرستوں کو قتل کیا گیا۔ جرمنی میں نازیوں کے ہاتھوں ہمجنسوں کے قتل عام کے بعد یہ سب سے بڑی تعداد مانی جاتی ہے۔ پاکستان کے باقی صوبوں میں بھی ہمجنس لوگوں کی صورتحال کوئی زیادہ مختلف نہیں۔ اب یہاں امریکی ریاست کنساس میں رہنے والے لاہور کے علی کو پولیس نے اپنے تین غیر ہم جنس دوستو ں کے ساتھ لاہور کے ایک گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ علی اور اسکے دوست ہمجنس سیکس کررھے تھے۔ اس کے باپ نے پولیس سے علی کو یہ کہہ کر چھڑوایا تھا کہ اگر یہ ثابت ھوا کہ اس کا بیٹا گے ہے تو وہ اسے قتل کردے گا۔ علی جو اچھا کرکٹر بھی تھا اسے پاکستان کرکٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک خط میں "مفعول" قرار دیکر ایسوسی ایشن سے نکال دیا گیا تھا۔ پاکستانی حکومت کا ہمجنسیت کے وجود سے ہی انکار اور اس کے باوجود ہمجنسوں سے عداوت کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں۔ گے حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان ان دس ممالک میں سے ایک ہے جہاں ہمجنسیت کے عمل پر سزاۓ موت دی جا سکتی ہے۔ اس فہرست میں سعودی عرب، ایران، ماریطانیہ، سوڈان، چیچن ریپبلک، یمن اور افغانستان شامل ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات کی ہمجنسیت سےمتعلق قوانین پر پوزیشن واضح نہیں- سنہ دو ہزار تین میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں برازیل کی طرف سے دنیا میں بشمول جنسییت ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے لیے پیش کی جانیوالی قرارداد کیخلاف ووٹ دینے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس پر ’الگا‘ کے سربراہ کرساد کھرامینگولو نے کہا تھا: 'اگر نیدرلیینڈز اور کینیڈا جیسے ممالک پاکستان میں گے سفیر بھیجنے لگیں تو پاکستانی حکومت انہیں اور انکے خوبرو پارٹنرز کو کس طرح دیکھے گی؟‘ پاکستان اور بھارت میں قانون کی دفعہ تین سو ستتر کی موجودگی اس سامراجی دور کی یادگار ہے جب ہمجنسوں کیخلاف ایسے امتیازی قوانین متعارف کیے گئے تھے جو بعد میں برطانوی حکمرانوں نے خود اپنے ملک میں بھی منسوخ کردیے لیکن یہ دونوں ’ آزاد‘ ملک ان قوانین کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک کانفرنس کے لیے آئے ہوئے بھارت کے سابق وزیر قانون رام جیٹھملانی سے میں نے پوچھا کہ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے تو پھر برطانوی سامراج کے متعارف کردہ تعزیرات ہند میں موجود دفعہ تین سو ستترکو ختم کرنے کے لیے کیوں نہیں کچھ کیا گیا، جس میں ہمجنسوں کے درمیان ہونیوالے جنسی عمل کی تعریف 'غیر فطری فعل' کے طور کی گئی ہے؟ جیٹھملانی کا جواب تھا: ’بھارت اور پاکستان میں اصل مسئلہ منافقت اور دوغلے پن کا ہے۔ اگر کوئی ہمجنس پرست ہو گا بھی تو بتائے گا تھوڑی ہی‘! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||