ہم جنس پرستی یا ذہنی دیوالیہ پن؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ جون 2005 کو دنیا میں پہلی مرتبہ کسی ملک نے ہم جنس پرستی کے بارے میں عوامی آراء معلوم کرنے کیلئے ریفرنڈم کروایا اور لوگوں نے فیصلہ ہم جنس پرستی کے حق میں دیا۔ یہ ’اعزاز‘ سوئٹزر لینڈ کی حکومت اور عوام کو حاصل ہوا۔ ہالینڈ اور بیلجیئم میں پہلے ہی ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اب سپین کی پارلیمنٹ نے بھی ہم جنسوں کی شادی کی اجازت دے دی ہے، امریکہ کی ایک ریاست میں بھی ہم جنسوں کو عدالت کی طرف سے باقاعدہ شادی کی اجازت مل چکی ہے۔ گزشتہ دنوں برازیل میں بیس لاکھ ہم جنسوں نے اپنے’حقوق‘ کیلئے ایک جلوس نکالا اور اب تو اکثر ممالک میں جون کے آخری اتوار کو’یومِ ہم جنسیت‘ منایا جاتا ہے۔گویا کہ ترقی یافتہ دنیا اس وقت ہم جنس پرستی کو شاید معاشرتی معراج سمجھ رہی ہے۔ اگر جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں جنسی رویوں کا مطالعہ کیا جائے تو کچھ اصطلاحات نظر سے گزریں گی: Homosexuality(ہم جنس پرستی)، Gender Identity Disorder(اپنی جنسی شناخت میں ابہام ہونا)، Transsexualism(اپنےآپ کو صنفِ مخالف سمجھنا)، Transvestic Fetishism(جنسِ مخالف کے کپڑے پہننا)، Androphobia(مردوں سے نفرت)، Gemophobia(شادی سے شدید نفرت)، Pedophilia(بچوں سے جنسی لذت حاصل کرنا)، Exhibitionism(دوسروں کو اپنے جنسی اعضا دکھانا)، Voyeurism(جنسی افعال دیکھنا)، Sexual Masochism(جنسی تشدد)، وغیرہ۔ جدید میڈیکل سائنس کی رو سے یہ تمام دماغی امراض ہیں اور ان کی تشخیص و علاج سائیکاٹری (دماغی امراض کاعلم) کی مد میں آتے ہیں۔کسی بھی جاندار میں جنسی اعضا افزائش نسل کیلئے ہوتے ہیں۔ انسان اور جانوروں کو چھوڑیے پودوں میں بھی یہ عمل صرف جنس مخالف کے مابین اور صرف افزائشِ نسل کیلئے ہی ہوتا ہے۔ ابھی تک جتنے اقسام کے جاندار دریافت ہو چکے ہیں، سوائے(Hermaphrodites) کے جو کہ افزائشِ نسل کیلئے ایک ہی جاندار میں دونوں اصناف کے جنسی اعضا رکھتے ہیں، تمام جاندار صنفِ مخالف سے ہی جنسی اخلاط کرتے ہیں۔ مگر انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے اسی نے اس فعل میں ’جدت‘ پیدا کرنے کیلئے جنسی بلکہ جنونی تسکین کے نت نئے طریقے نکال لیے ہیں۔اور انسانیت کی اس ’عظیم خدمت‘ کا صلہ ریکٹل کینسر، ایڈز، سوزاک، آتشک، جنونی جنسی امراض اور نہ جانے کس کس شکل میں ملا ہے۔ یہ حقائق کسی’بنیاد پرست مذہبی کتاب‘ کے نہیں ہیں بلکہ جدید میڈیکل سائنس ایسا کہتی ہے۔ مگرنہ جانے ترقی اور آزادی کے دلدادہ لوگ کس سمت چل رہے ہیں۔ایک طرف وہ تمام مذہبی اور اخلاقی اقدار کو چھوڑ کر صرف سائنس کو حرفِ آخر مانتے ہیں مگر اس معاملے میں سائنس سے بھی دانستہ چشم پوشی کی جارہی ہے۔اگر اخلاقی اقدار کو غیر مستقل مان لیا جائے اوراسے معاشرتی تقاضوں پر چھوڑ دیا جائے تو جس طرح آج ہم جنس پرستی غیر اخلاقی افعال کی فہرست سے نکل کر اخلاقی افعال کی فہرست میں شامل ہوتی جارہی ہے اسی طرح ہو سکتا ہے کل کو جھوٹ بولنا،گالی دینا، خونی رشتوں کے درمیان جنسی رشتہ، چوری کرنا، خودکشی کرنااوراس طرح کے دوسرے غیراخلاقی افعال بھی عین اخلاقی ہوجائیں۔ اور اگر صرف تسکین کی خاطر جنسی اعضا کا آزادانہ استعمال کیا جاسکتا ہے تو اسی طرح ناک کو بھی کوکین سے تسکین حاصل کرنے کی آزادی ہونی چاہئے ! نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کے لئے قارئین کا ہے۔ اس صفحے پر شائع ہونے والے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ آپ بھی اگر کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||